یوں تو کبھی کبھار مجھے اپنے آنے جانے کے راستوں کا بھی علم نہیں ہوتا کہ میں نے کس راستے سے جانا اور کس راستے سے آنا ہے۔ کیوں کہ اَن جانے میں میرے پاؤں جس جانب اٹھتے ہیں، اُسی طرف چل پڑتا ہوں۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی مینگورہ خوڑ راہ چلتے ہوئے نظر آجاتا ہے۔ جب میں خوڑ کے پانی کو انتہائی گندے حالت میں دیکھتا ہوں، تو دل کو ایک ٹھیس سی لگتی ہے کہ کاش اس کا پانی صاف ستھرا اور رواں دواں ہوتا۔ صبح صبح جب خاک روب شہر کی گندگی اور کچرے کو لاکر خوڑ کے پانی میں ڈالتا ہے، تو اُس وقت مجھے بے بس اور غریب خوڑ پر بہت رحم آتا ہے لیکن میرا یہ رحم خوڑ کے لیے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ جب میں اس کو اس گندی حالت میں دیکھتا ہوں، تو مجھے خیال گزرتا ہے کہ یہ اہل شہر کی ساری غلاظتوں کو خود میں سمٹے ہوئے ہے لیکن یہ غلاظتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بے چارے خوڑ سے بھی نہیں سنبھالی جا رہیں اور وہ چیخ چیخ کر اہل مینگورہ سے کہتا ہے کہ مجھ سے ایسا کون سا گناہ سر زد ہوا ہے کہ تم لوگ مجھ سے اتنا گندہ اور خراب سلوک کرتے ہوں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مینگورہ اور سیدوشریف کے حدود اور احاطے سے ذرا باہر جاکر میری حالت دیکھو۔ میں کتنے صاف پانی کے تحفہ کے ساتھ شہر کا رُخ کرتا ہوں، لیکن تم لوگوں سے میری صاف حالت نہیں دیکھی جاتی۔ وہ پکار پکار کر کہتا ہے کہ میں غلیظ نہیں ہوں، میں ناپاک نہیں ہوں، میں گندہ نہیں ہوں لیکن تم خودغلیظ ہو، ناپا ہو اور گندے ہو۔ اس لیے میری صفائی کا سرے سے خیال ہی نہیں رکھتے۔ تم اپنے خیال میں صاف ستھرے رہتے ہو لیکن یہ تمھارا خیال ہے، میں تم لوگوں کا اور مینگورہ شہر کا آئینہ ہوں۔ باہر سے جو لوگ سوات آتے ہیں، وہ سب سے پہلے مجھے دیکھتے ہیں، تو وہ میرے بارے میں نہیں بلکہ اے اہل مینگورہ تمھارے بارے میں یہ خیال قائم کرتے ہیں کہ مینگورہ شہر کے باسی اگر ایک خوڑ کو پاک و صاف نہیں رکھ سکتے، تو اپنے آپ، اپنے گھروں اور محلوں کو کیسے صاف رکھ سکیں گے؟ باہر سے آنے والے جب میرے گندے پانی کے اوپر مچھروں کی بھرمار دیکھتے ہیں، تو وہ یہ رائے قائم کرلیتے ہیں کہ مینگورہ کے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوں گے۔ کیوں کہ گندگی ہی سے تو بیماریاں پھیلتی ہیں۔
اے اہل مینگورہ! کبھی کبھی قدرت تم پر مہربان ہوجاتی ہے اور باران رحمت کا اہتمام کر دیتی ہے۔ بارش کے پانی سے تمھارے شہر کی گندی نالیاں، گندے گلی کوچے اور سڑکیں صاف ہوجاتی ہیں اور مجھ میں اونچے اونچے پہاڑوں کا بہتا پانی آجاتا ہے۔ اس لیے میں نہا دھو کے پاک و صاف ہوجاتا ہوں اور اے اہل شہر! میں تمھارا سارا کوڑا کرکٹ، کچرا اور گند کو بہالے جاتا ہوں۔ چند دن پاک و صاف رہتا ہوں، خوش ہوجاتا ہوں، لیکن چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات، پھر تمھارے شہر کے خاک روب تمام تر شہر کا گند اٹھا اٹھا کر مختلف جگہوں پر میرے سپرد کردیتے ہیں اور ایک بار پھر میں گندا ہوجاتا ہوں۔ مجھ میں مچھر اور کیڑے مکوڑے پروان چڑھتے رہتے ہیں اور میں ایک بار پھر اتنا گندا ہوجاتا ہوں کہ تمھارے کھیت کلیان تک کو سیراب کرنے سے عاجز آجاتا ہوں۔ پھر وہ غلہ اگانے کے قابل نہیں رہتے اور نتیجتاً تم قحط اور گرانی میں گھر جاتے ہو۔ باہر سے غلا منگواتے ہو۔ پھر تمھیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ تم نے پہلے ہی سے درختوں کو کاٹ کاٹ کر اپنے پہاڑوں کی خوب صورتی چھین لی ہے۔ اس لیے اب بارشیں یہاں کا کم کم ہی رخ کرتی ہیں۔تمھارے چہرے پیلے پڑ گئے ہیں اور تم مرجھائے ہوئے رہنے لگے ہو۔ اور یہ اس لیے کہ تم فطرت کے قاتل ہو۔
1,246 total views, no views today


