چند دنوں پہلے ہمارا ایک عزیز کافی عرصہ بعد سوات آیا۔ ہم مینگورہ کسی کام کی غرض سے گئے، تووہ نہایت حیران ہوا اور کچھ دیر بعد مجھ سے پوچھنے لگا: ’’کیا واقعی یہ مینگورہ شہر ہی ہے؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔’’یہ توبہت زیادہ بدنظمی کا شکار نظر آتا ہے۔ کیا یہ چھوٹا سا شہر کسی کے انتظامی امور میں نہیں آتا؟ یہ تو گندگی کا ملغوبہ، شور وغل کاطوفان اور بد نظمی میں گھرے ہوئے کسی خار ناپرساں کا منظر پیش کر رہا ہے۔ نہیں جناب، یہ سوات کا مینگورہ شہر نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس نے جیسے مجھے نشتر چبھوئے۔ ایک لمحہ بعد وہ ایک بار پھر گویا ہوئے: ’’مینگورہ، والئی سوات کے دور میں اتنہائی صاف اور بہت منظم شہر ہوا کرتا تھا۔ یہاں دو پاک و صاف ندیاں بہتی تھیں، جہاں مرد حضرات نہاتے اور خواتین کپڑے دھوتی نظر آتی تھیں۔ یہاں لوگ بہت کم تھے۔ کسی دکان کے باہر تجاوزات کی شکل میں سامان پڑا نظر نہیں آتا تھا۔ سڑکیں صاف ستھری اور نالیوں میں پانی رواں دواں ہوتا تھا۔ القصہ، سیاح جب سوات آتے تھے، تو یہاں کے ملکوتی حسن کے ساتھ ساتھ یہاں کے بلند پایہ انتظامی امور سے بھی متاثر ہو کر واپس جاتے تھے۔‘‘ قارئین کرام! میرا عزیز مینگورہ تھانہ کے ساتھ والئی سوات کے زمانے کے تعمیر شدہ پل پر کھڑا ہوکر چینہ بازار کی طرف جامبل خوڑکو دیکھنے لگا۔ ’’یہ ندی تو گٹرسے زیادہ گندی اور بدبودار ہے۔ یہاں تو کچرا ہی کچرا ہے۔ یہ تو بیماریوں کی نرسری ہے۔یہ تو خوب صورت سوات کا بدصورت شہر ہے۔ مجھے تو گھن آرہی ہے اس سے۔‘‘ مجھ پر اس کے یہ الفاظ گویا بجلی بن کر گرے۔ہم واپس گھر آئے اور صبح اپرسوات کے لیے روانہ ہوئے۔ دو دن بعد وہ واپس چلا گیا مگر میرے ذہن میں مینگورہ کی دن بہ دن خراب ہوتی ہوئی صورت حال اور بگڑتی شکل کے بارے میں سوچنے اور قلم اٹھانے پر مجبور کرگیا۔ یقین کیجیے، اب جب بھی میں مینگورہ میں کسی بھی بازار یا گلی سے گزرتا ہوں، تو میری نظر خود بہ خود گندگی اور بد نظمی پر آکر ٹھہر جاتی ہے۔ آپ اگر مینگورہ بازار میں کسی کام کے لیے آئے ہیں،تو سڑکو ں پر کوڑا کرکٹ، نکاسئی آب کا ٹوٹا پھوٹا نظام، سڑکو ں اور گلیوں میں نالیوں کے پانی کا بہاؤ، تمام سڑکو ں پر سبزیوں اور پھلوں کے ٹھیلے، ہر دکان کے سامنے گاڑی کی پارکنگ، ہر دکان دار کا اپنی دکان کے سامنے آدھے راستے کا گھیراؤ، سڑکوں کے دونوں اطراف سوئی گیس کی پائپ لائن کے لیے کھودے گئے گڑھے، لوگوں کا سڑک کے درمیان پیدل چلنا اور بے ہنگم ٹریفک وغیرہ سب کے سب ایسے مناظر ہیں جن سے آپ کا نہ چاہتے ہوئے روزامہ کی بنیاد پر سامنا ہوتا ہے ۔ قارئین کرام! یہ ہماری نالائقی ہی ہے کہ ہم نے اپنے گھروں کی تمام نالیوں اور گٹر کے گندے پانی کو خوڑوں میں چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے اب خوڑوں میں پانی کی جگہ غلاظت بہتی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق کوئی بھی شخص اگر بہتے پانی میں گندگی ڈالے گا، تو وہ باقاعدہ سزاوار ٹھہرے گا مگر یہاں تو سرکاری ادارے یعنی محکمہ بلدیہ خود خوڑوں اور دریاؤں میں گندگی ڈال رہا ہے اور قانون کی دھجیاں اڑارہا ہے۔ اگر چہ چند دنوں سے بلدیہ مینگورہ کی صفائی کا عملہ قدرے چوکس نظر آرہا ہے اور جا بہ جا صفائی میں مشغول ہے جو لائق صد تحسین و آفرین ہے اور ہم اہل مینگورہ یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ عمل نہ صرف مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا بلکہ اس میں مزید تیزی بھی لائی جائے گی۔ قارئین کرام! آپ باقی ماندہ دنیا کے کسی بھی شہر میں چلے جائیں۔ آپ کو شہروں یا بازاروں میں گزرنے والے صاف پانی کے ندی نالے شروع سے لے کر آخر تک بالکل صاف نظر آئیں گے۔ یہ مقامی لوگوں کی تفریحی سرگرمیوں کا مرکز ہوں گے۔ مجال ہے کہ کوئی ان میں گندگی ڈال سکے۔ یوں تو مینگورہ میں ضلعی انتظامیہ کے تمام افسران اور ہر محکمہ کے لیے ٹھیک ٹھاک اسٹاف موجود ہے، مگر فیلڈ سے ایسے غائب ہے جیسے گدھے کے سرسے سینگ۔ ہم میں سے کسی نے آج تک کسی ضلعی افسر کو اپنے متعلقہ فیلڈ میں دیکھا ہے؟ ان کی شکلیں یا تو ہم کسی ہائی فائی میٹنگ میں یا کسی غیر سرکاری ادارہ کی طرف سے کسی بڑے ہوٹل کی ضیافت میں ہی دیکھ پاتے ہیں۔ چلیے، ٹریفک پولیس کی طرف آتے ہیں۔ پچھلے کئی مہینوں سے مینگورہ کا ٹریفک نظام اتنا درہم برہم ہے کہ شاید اسے دنیا کا سب سے بدترین نظام ہی کہنا چاہیے۔ ہر شخص کی اپنی مرضی ہے، جہاں چاہے گاڑی روک لے، جہاں چاہے پارک کرلے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اس طرح ہر دکان دار کی اپنی خواہش ہے۔ وہ اپنی دکان کے سامنے سڑک کو اپنی ملکیت سمجھ کر پارکنگ سمجھ بیٹھا ہے۔مین بازار تو ایک قسم کی کا رپارکنگ بن گئی ہے۔ انتظامیہ نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دے کر ہر دکان کے آگے پارکنگ لائن کھینچ کر ایک طرح سے انھیں قانونی حفاظت دے دی۔ مینگورہ میں بہت کم دفعہ ایسا آپ کو دیکھنے کو ملے گا کہ ٹریفک پولیس گاڑیوں کو ہدایات دیتی ہوگی، ورنہ زیادہ تر تو ٹریفک اہل کار کسی ہوٹل یا دکان کے قریب خوش گپیوں میں مصروف نظر آئیں گے۔ لگتا ہے کہ سوات پولیس سے ٹریفک پولیس کا سیکشن ختم کردیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس بالکل یتیم نظر آتی ہے، جیسے ان کا آفیسر چارمہینوں کے لیے تبلیغ یا باہر کے کسی ملک میں تربیت لینے گیا ہو۔ منصوبہ بندی کے فقدان کے شکار شہرِ مینگورہ میں ہر کسی کی اپنی مرضی ہے، وہ جہاں چاہے پھل یا سبزی کی ریڑھی لگا دے اور جہاں چاہے سڑک کو بند کردے۔ انتظامیہ نے ویسے بھی آنکھیں موندلی ہیں۔ یہاں بس گونگے بہروں کی حکم رانی ہے۔ بس لمبی لمبی گاڑیوں میں صج دفتر آتے ہیں اور شام کو واپس چلے جاتے ہیں۔ انھیں کام سے کیا سروکار؟ کیوں کہ کام یا تو وژنری لوگ کرتے ہیںیا جن سے پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ سوات تو ویسے ہی 1969ء میں یتیم ہوگیا تھا اور اسی دن سے جنت نظیر وادی کا ہر لحاظ سے زوال شروع ہوگیا ہے۔ مگر اب بھی وقت ہے۔ بہ حیثیت سواتی یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ اٹھ کھڑے ہوں اورسوئی ہوئی انتظامیہ کوجگا کر اسے کام پر لگا دیں۔ ان کو صفائی مہم، ٹریفک، تجاوزات ہٹانے، خوڑوں کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کو ان کی ڈیوٹی یاد دلائیں اور نہ صرف ان کو کام پر لگائیں بلکہ خود بھی ان کے ساتھ اس کار خیر میں شریک ہوں۔ وقت آگیا ہے کہ سوات کے سماجی کارکن ،لکھاری اور سمجھ بوجھ رکھنے والے بزرگ مینگورہ کے لیے کردار ادا کریں اور مل بیٹھ کر کوئی واضح لائحہ عمل طے کریں۔
1,010 total views, no views today


