سوات (سوات نیوز)ڈسٹرکٹ ہسپتال کی بحالی کا نوٹیفیکیشن ضلع سوات کے عوام کو دیکھا نا چاہیئے، وزیر اعلیٰ نے عیدالفطر کے موقع پر ضلع سوات کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے بحالی کی حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال اپنے جگہ پر بحال ہے لیکن تاحال نوٹیفیکیشن غیر یقینی ہے، ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد محمود خالد نے سنٹر ہسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہر سے خطاب کرتے ہوئے کیا،گذشتہ روز سنٹرل ہسپتال سے سامان کی شفٹنگ کرنے کی واقع پر پی ایم اے پی اور مقامی بلدیاتی ناطمین اور کونسلران اور کمیسٹ برادری کے ساتھیوں نے ڈاکٹر خالد محمود خالد کے قیادت میں سنٹرل ہسپتال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود خالد نے کہا کہ خپل وزیر اعلیٰ کو چاہیئے کہ ٹیچنگ ہسپتال کے ساتھ ہی ساتھ ڈسٹرکت سوات کے بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری کرکے سواتی عوام کا شک و شہبات ختم کیا جائے یہ سواتی عوام کا جائز اور دیرنہ مطالبہ ہے، یہ 13سالوں سے ڈسٹرکٹ کا مسئلہ لٹکا ہوا ہے اور دوسری طرف سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ سنٹرل ہسپتال سے مشینری بمعہ سامان شفٹ کیا جارہا ہے جو ہمیں کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور نہ ڈسٹرکٹ ہسپتال پر کسی قسم کا سودا بازی کرنے نہیں دیں گے، یہ عوام کا آئینی اور بنیادی حق ہے ڈاؤن ڈسٹرکوں میں ٹیچنگ ہسپٹلز کے ساتھ ہی ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتالیں کام کررہی ہے مگر ہمارے ضلع کے عوام کے ساتھ ہر دور اقتدار میں سوتیلی ماں جیسا سلوک ہورہا ہے، ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹیچنگ ہسپتال کے طرح ہمارے ڈسٹرکٹ ہسپتال کو بحال کیا جائے، احتجاجی مظاہرے کے بعدمظاہرین نے ایم ایس سیدو شریف کوعوام کے تحفظات سے آگاہ کیا،اس موقع پرعطاء اللہ، فضل رحمان کوکارئی، فقیر محمد، جاید اقبال، اصف خان یوسفزئی، وکیل خان اور دیگر ڈاکٹرز بھی موجود تھے، احتجاجی مظاہرے کے دوارن شدید نعرہ بازی کی گئی، ای اے سی تحصیل بابوزئی شاکر اللہ موقع پر پہنچ کر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کیئے اور احتجاج پر امن طریقے سے منتشر کیا گیا۔
1,279 total views, no views today



