بریکوٹ، جماعت اسلامی کے ایم این اے عائشہ سید نے کہا ہے کہ سوات کو ماضی میں وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا وہ حقدار تھا ۔مخدوش صورت حال نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔سیاست دان اگر اپنی ذمہ داریاں بااحسن طریقے ادا کرتے تو یہاں کے عوام مسائل کے دلد ل میں نہ ہوتے ۔آج سوات پر قدم قدم پر مسائل کے انبار لگے ہیں ۔سوات کو ترقی کی طرف گامزن کرنے کے لئے وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کی اور سوات کے لئے خصوصی پیکچ منظور کیا جس میں خواتین یونیورسٹی کا قیام،بجلی کی بوسیدہ انفراسٹرکچرکی تبدیلی و غیرہ ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک خصوصی انٹریو میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ سوات میں مخدوش صورت حال اور سیلاب کے دوران پندرہ ہزار سے زائد عورتوں اور بچوں کی تعداد کی ہیں جو کہ بیویاں اپنے شوہروں اوربچے اور والدین سے محروم ہو گئے ہیں ۔یتیم بچوں کے لئے وفاقی بیت المال کی طرف سے ایک سویٹ ہوم ہے جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے باقی جو بچے ہیں ان کا کیا مستقبل ہو گا حکومت فوری طور پر ان متاثرہ بچوں کے لئے مذید سویٹ ہومز کی منظور دے تاکہ یہی بچوں کی صحیح پرورش ہو کر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرے نہ کہ وہ مستقبل کا ایک دہشت گرد بنے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سیاست ٹرانسفامر ز کی فراہمی پر ہو رہا ہے یہ سلسلہ بند ہو نا چاہیے کیونکہ ٹرانسفارمر کی فراہمی اور بجلی کی ترسیل عوام کا بنیادی حق ہے ۔سوات کے عوام قانون پسند ہیں آئی ڈی پیز کے دوران یہاں کے عوام کی بجلی کے بلز کی ادائیگی اسی فیصد سے زائد تھی جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔محکمہ واپڈ امیں کرپشن عروج پر ہے بجلی چوری میں محکمہ واپڈا برابر کی شریک ہے بڑے کارخانوں کے میٹر ز کے یونٹس رشوت کے عوض کم درج کئے جاتے ہیں وہی چوری عوام کے چیبوں سے بھر دئیے جاتے ہیں ۔سوات میں میٹر ز کی فراہمی کے بارے میں کہا کہ میری بھرپور کوشش ہے کہ اس ماہ بجلی کے میٹر ز جو کہ تعطل کا شکار ہیں صارفین کو مل جائیں گے ۔حلقہ نیابت کے لئے سترہ ٹرانسفامرز منظور کئے ہیں جس پر کام تیزی سے جاری ہے ۔لنڈاکے سے کالام سڑک پر کام کی سست رفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ سڑک اے این پی کے دور میں منظور ہو ا ہے اور اب اس پر کام سست روی کا شکار ہے این ایچ اے والے اس پر کام تیز کردیں اور اسمبلی میں اس پر ضرور آواز اٹھاؤں گی کیونکہ کئی ماہ گذر گئے اور ابھی تک ایک کلومیٹر روڈ تعمیر نہ ہو سکا جوکہ مذکورہ ادارے کی مایوس کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل بریکوٹ کو سوئی گیس کی فراہمی ابھی ممکن نہیں کیونکہ محکمہ سوئی گیس کے اعلیٰ حکام سے میر ی ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ملک میں سوئی گیس کی طلب زیادہ ہے جبکہ رسد کم ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے کرک،سوئی ،کوہاٹ وغیر ہ کے علاقوں کے گیس کو ابھی تک استعمال میں نہ لا جا سکا۔ان کاکہنا تھا کہ ایل این جی ملک میں عام ہوجانے سے سوئی گیس کی فراہمی ممکن ہو جائے گی ۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں کہا کہ سروے دوبارہ کیا جائے اور اس میں مستحق گھرانوں کو شامل کیا جائے کیونکہ سابق دور میں اس پر سیاست کی گئی اور زیادہ تر منظور نظر افراد کو شامل کیا گیا ہے ۔انہوں نے عوام ،سیاست دانو ں ،بیورکریسی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر رحم کریں اور خوف خدا رکھ کر عوام کی خدمت کریں کیونکہ عوام پہلے ہی سے بہت بری طرح متاثر ہوچکے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ عوامی سیلاب امڈ کر سب کو اپنے ساتھ بہا لے جائے
766 total views, no views today


