امام احمد بن حنبل ؒ کو گرفتار کر کے جب جیل میں ڈالا گیا تو اُنکی سیکورٹی کے لیئے ایک سپاہی تعینات کیا گیا جو سپاہی تعینات تھا اُسے امام احمد بن حنبل سے عقیدت تھی ،ایک دن وہ امام احمد بن حنبل ؒ کے پاس آیا اور سوال پوچھا ۔
اُس نے کہا کہ میں حکومت کا ملازم ہوں ، یہاں کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے اور میں اپنے فرائض ادا کرنے پر مجبور ہوں اب سوال یہ ہے کہ
کیا بروزمحشر مجھے بھی ان ظالموں کا سہولت کار تصور کیا جائے گا ؟
امام احمد بن حنبل کا جواب اُن سب سرکاری ملازموں کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے جو آج بھی حکومت کے ہر جائز وناجائز حکم کو مان کر ظلم کرتے ہیں لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اذیتیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو صرف حکم کے پابند ہیں مجبور ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس کا حساب صرف حکم دینے والوں کودینا پڑے گا ہم تو بری الذمہ ہیں ۔
امام احمد بن حنبل نے اُسے جواب دیا کہ نہیں تمہیں ظالموں کا سہولت کار تصور نہیں کیا جائے گا۔
بلکہ تم خود ظالموں میں سے ہو ۔
ظالموں کا سہولت کار تو اُنکو تصور کیا جائے گا جو اُنکے لیئے کھانا پکاتے ہیں ،اُنکے کپڑے دھوتے ہیں یا اُنکی دیگر ضروریات کا خیال رکھتے ہیں
آج ہمیں بھی دیکھنا چاہیئے کہ ہم ظالموں کے سہولت کار ہیں یا ظالموں میں سے ہیں؟)
1,308 total views, no views today



