جرگہ پختون روایات کاایک اہم جزہے جس کے ذریعے مقامی سطح پر لوگوں کے مابین تنازعات کو ختم کرنے سمیت ان کے مسائل کاحل بھی نکالا جاتا ہے۔ پہلے پہل تو بیشتر معاملات جرگہ کے توسط سے ہی نمٹائے جاتے تھے۔ اگر دو افراد، فریقوں یا خاندانوں کے مابین کوئی تنازعہ اٹھتا، تو اگر وہ خودنہیں تو اسی علاقے کا کوئی تیسرافرد یا فریق جرگہ سے رجوع کرکے دونوں خاندانوں کے درمیان پیدا ہونے والا مسئلہ حل کرا دیتا۔ جرگہ عموماً علاقے کے بزرگ اوردانا لوگوں پرمشتمل ہوتا تھا جو فریقین کے مابین تنازعات دورکرنے کے لیے ایسافیصلہ سنادیتے جو دونوں فریق بہ خوشی قبول کرتے اوریوں سنگین سے سنگین مسائل یہاں تک کہ دشمنیاں بھی بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ مستقل طورپرختم ہوجاتیں۔ اس کے علاوہ یہ جرگے سرکاری معاملات میں دخل اندازی بھی نہیں کرتا تھا بلکہ ضرورت پڑنے پر جائز معاملات میں سرکارکے ساتھ تعاؤن کرتا تھا۔ ایک جرگہ ایک ہی علاقے میں کام کرتا تھا جو اسی علاقے کے عمائدین پرمشتمل ہوتا تھا اور ایک علاقے کا جرگہ دوسرے علاقے کے معاملات میں دخل نہیں دیتا تھا، تاہم ضرورت پڑنے پر جرگہ کی شکل میں ہی دوسرے علاقے جاتاتھا۔ یہ جرگے بغیرکسی معاوضہ کے کام کرتے تھے۔ آج بھی یہاں پر بعض معاملات کو جرگوں کے ذریعے سے ہی حل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جرگوں کی اہمیت، افادیت اورفوائدسے کسی کو بھی انکار نہیں۔ یہاں تک کہ ہر دور کی حکومت بھی اس کی اہمیت کا اعتراف کرچکی ہے اورحال ہی میں جرگہ کو مصالحتی کمیٹی کا نام دے کر تھانوں کی سطح پر سمجھ دار لوگوں پر مشتمل جرگے قائم کیے گئے ہیں جو تھانے میں کسی مسئلہ کی رپورٹ درج کرانے والوں کے مسائل بغیررپورٹ درج کرائے حل کردیتے ہیں۔ اس سے اگر ایک طرف فریقین کے مابین تنازعات فوری طورپرحل ہوکر انھیں سستاانصاف ملتا ہے، تو دوسری طرف تھانوں اورعدالتوں پر کیسوں کا بوجھ بھی کم پڑجاتا ہے۔ اب تو یہ مصالحتی جرگے زیرسماعت کیسوں کوبھی حل کررہے ہیں۔ جن لوگوں کے کیس چل رہے ہیں، ا ن سے رابطہ کرکے معاملہ کو رفع دفع کر دیتے ہیں۔ اس کے علاو ہ مقامی جرگے لوگوں کی غمی خوشی میں شریک رہتے ہیں۔ آج بھی صوبہ خیبر پختون خواکے مختلف علاقوں میں یہ جرگے موجو دہیں جو بڑی جاں فشانی اورذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض نبھا رہے ہیں مگربدقسمتی سے سوات میں ان جرگوں کی حیثیت ختم ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے گروپ بنا رکھے ہیں اور انھیں جرگے کا نام دے کرذاتی مفادات کے لیے سرگرم عمل ہیں جس میں ’’سوات قومی جرگہ‘‘ کا نام بھی آتاہے جو لوگوں کے مسائل کودور کرنے کی بجائے ان میں تشویش اوربے چینی پھیلا رہا ہے۔ مذکورہ جرگہ نے آج تک نہ تو دوافرادیافریقین میں موجود تنازعہ کو حل کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے بنیادی مسائل سے آگاہی حاصل کی ہے۔ اس کا کام صرف بیانات جاری کرنے تک محدود ہے اور کبھی کبھی کانفرنس طلب کرکے غیر ضروری ایشو اٹھاکر وہی کرتاہے جس کا تذکرہ انھی سطور میں کیا گیا۔ یعنی لوگوں میں بے چینی پھیلانا، چند دن قبل بھی اس نام نہاد جرگہ نے ایک کانفرنس بلائی جو کئی گھنٹے تک جاری رہی جس میں عوامی مسائل کا ذکر بھی موجود نہیں تھا۔ تاہم اس میں بعض مقررین نے حکومت سے سیکورٹی فورسز کو سوات سے نکالنے اور فوجی چھاؤنی کے قیام کے فیصلے کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا اوریہی وہ نکتہ ہے جس سے عوام میں بے چینی پھیل گئی۔ کیوں کہ چھاؤنی کا قیام اگر حکومت کا فیصلہ ہے، تو دوسری طرف یہ یہاں پر وقت کا تقاضا بھی ہے۔ چھاؤنی کے قیام سے سوات کوکون کون سی سہولیات اورمراعات ملیں گی، شائداس سے مذکورہ جرگہ بے خبر ہے۔ اس کے علاوہ اس جرگہ نے چیک پوسٹوں کی بھی بات کی۔ بات کیا بلکہ ایک طرح سے انھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سی باتیں تھیں جو ان کے مطالبات میں شامل تھیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بعض اوقات چیک پوسٹوں کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں اور لوگوں کو بروقت منزل مقصودپر پہنچنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے، مگر یہاں پر اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ یہ چیک پوسٹیں قائم کس لیے ہیں؟ اس لیے کہ کوئی شدت پسند شہریا دیگر علاقوں میں داخل نہ ہوسکے اورآج تک ان چیک پوسٹوں پر بہت سے ایسے لوگ پکڑے گئے ہیں جو تخریب کاری کی غرض سے آئے تھے۔ ساتھ ساتھ بھاری مقدارمیں اسلحہ بارود اور دیگر تباہ کن سامان بھی پکڑاگیا ہے جو ریکارڈ پر موجودہے۔ ابھی حال ہی میں درگئی چیک پوسٹ پر ایک کار پکڑی گئی جس میں کافی مقدار میں بارود پڑا تھا۔ اگر مذکورہ چیک پوسٹ نہ ہوتی، تو یقیناًوہ لوگ اس بارود کو ٹارگٹ تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے اور نتیجے میں بہت بڑی تباہی مچ جاتی۔ دوسری بات سیکورٹی فورسز کی ہے جس کی آمد سے قبل سوات کی یہ حسین وادی انگار وادی میں تبدیل ہوچکی تھی۔ دھماکے، خودکش حملے، گولیوں کی تڑتڑاہٹ، شہرکے ہرچوک میں لٹکتی لاشیں اوران کے علاوہ تشدد زدہ لاشوں کا ملنا ایک معمول بن گیا تھا۔ ہر طرف غیر یقینی صورت حال تھی۔ حکومتی رٹ ختم ہوچکی تھی۔ ہر کوئی اپنے گھر میں بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگاتھا۔ اگر کوئی شخص گھر سے نکلتا، تو اسے یہ یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ زندہ واپس لوٹے گا یا اس کی لاش گھر پہنچائی جائے گی۔ بعض اوقات تو لاش کا بھی پتہ نہیں چلتاتھا۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے اپنے پیاروں کی لاشیں تلاش کر رہے ہیں۔ ہمیں وہ وقت آج بھی یاد ہے کہ سوات کے تمام علاقوں سمیت مینگورہ شہر پربھی عسکریت پسندی کے سائے منڈلاتے تھے۔ ہرچہرے پرہوائیاں اڑتی نظر آتی تھیں۔ہر آنکھ سے ناامیدی چھلکتی تھی۔ ہر گلہ خشک تھا۔ یہاں تک کہ اس سے پانی بھی نہیں نگلا جاتا تھا۔ کاروبار زندگی بری طرح متاثرہواتھا۔ شام سے قبل لوگ گھروں میں گھس جاتے تھے۔ یہی لوگ کسی مسیحاکی راہ تکتے تھے اورآخر کارپاک فوج آگئی، جس نے انگار وادی میں تبدیل ہونے والے سوات کو ایک بار پھرحسین وادی میں تبدیل کر دیا، جن چہروں پر ہوائیاں اڑتی نظر آتی تھیں، ان پر اطمینان نظر آنے لگا مگر یہ سب کچھ آنکھ جھپکتے میں نہیں ہوا۔ اس وادی کو پرامن سوات بنانے اوراسے اس مقام تک پہنچانے میں کافی جانیں کام آئیں۔ سیکورٹی فورسز، پولیس، ایف سی اورعوام نے مل کراس مٹی کے امن کی خاطر اپنے خون اورجانوں کی قربانیاں دیں، تب کہیں جاکر سوات پر منڈلانے والے عسکریت پسندی کے سائے ختم ہوئے اور ان کی جگہ پرامن چھاؤں نے لی اورپھرسوات میں بہ حالی اورترقی کا دور شروع ہوا۔ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے والے اسکول آباد ہوگئے۔ تباہ شدہ رابطہ پل دوبارہ قابل استعمال بنا دیئے گئے۔ سوات کی تباہ ہونے والی معیشت اورسیاحت کوسہارامل گیا۔ لوگوں کو تفریح کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ سب کس نے کیا؟ ان لوگوں نے جو آج بھی دن رات چیک پوسٹوں پر کھڑے ہوکر قوم کی خاطر دن کا چین اور رات کا سکون قربان کر رہے ہیں۔ بیش بہاقربانیوں کے بعد سوات میں امن قائم ہواجسے برقراررکھنا اب نہ صرف سیکورٹی فورسز بلکہ سوات کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے جو وہ بڑ ے احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں مگر افسوس کہ بعض لوگ خودساختہ جرگوں کے نام پر لوگوں میں بے چینی اور تشویش پھیلانے میں مصروف ہیں۔ نہ معلوم یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ ہم ان لوگوں سے جرگہ کی شکل میں اپیل کرتے ہیں کہ خدارا، اس وادی کو اوریہاں کے عوام کواپنے حا ل پر چھوڑ دیں اوراپنے متعلقہ علاقوں میں وہ جرگے قائم کریں جو حقیقی معنوں میں لوگوں کے مابین تنازعات کے خاتمے اور دشمنوں کو سجن بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ بات ہورہی تھی جرگہ کی اہمیت کی۔ یقیناًزیرنظر تحریرپڑھنے کے بعدسب کو پتہ چل گیا ہوگا کہ جرگہ اصل میں کیا ہے؟ اس کا کام کیاہوتا ہے؟ اس کی کار کردگی کیاہوتی ہے؟ جرگوں کاکام یہ ہوتاہے کہ وہ علاقائی سطح پر فریقین کے مابین موجود تنازعات کوختم کرکے دوستی اوربھائی چارے کی فضاء قائم کریں نہ کہ امن کے قیام کی خاطر جانوں کی قربانیاں دینے والوں کو تنقیدکا نشانہ بناکر احسان فراموشی کا ثبوت دیں۔
2,923 total views, no views today


