دین اسلام کے دعوے داروں کے اس ملک کا شمار دنیا کے اُن تین ممالک میں سر فہرست ہے جس میں پولیو کے جراثیم پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ جراثیم، بکٹیریا اور دوسری بیماریاں اور وبائیں پھیلانے کا علاج انسانی بدن اور ما حول کی صفائی میں بیان کیا جاتا ہے۔ دین اسلام نے بدن کی صفائی، لباس کی صفائی، ماحول کی صفائی حتیٰ کہ روحانی و ذہنی صفائی پر زور دیا ہے، وہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں عنقا ہیں۔ اب ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ ہم جس طرح دوسرے احکامات قرآن و احادیث نبویؐ سے غافل بلکہ اُلٹ اعمال کرتے ہیں۔ اس طرح ہم صفائی ستھرائی کے معاملے میں دین کے بتائے ہوئے اصولوں کے بالکل الٹ چل رہے ہیں۔ قرآن و احادیث کے معانیوں کو قرونِ اولیٰ کے صالحین کی وضاحتوں تک محدود کرکے ہم نے اپنے اوپر خود ہی ظلم برپا کیا ہوا ہے۔ اس کے لیے کوئی باہر کا عنصر ذمہ دار نہیں۔ یہ ہم ہی ہیں کہ ہم عوام کی تربیت درست انداز سے نہیں کرتے۔ صاف پانی کو آلودہ کرنے کی دین اسلام نے ممانعت کی ہے۔ ذرا اپنے ذاتی اعمال اور مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے اعمال کو دیکھیے۔ درخت، پودے اور سبزہ تلف کرنے کی دین اسلام اجازت نہیں دیتا۔ ذرا اپنے رویوں کو دیکھیے۔ جانوروں، جان دار (ذی روح) اشیاء کو مارنے کی دین اسلام اجازت نہیں دیتا، ذرا اپنے سلوک کی طرف دیکھیے کہ ہم نے کیا کیا اور کیا کرتے ہیں۔ درسی کتب سے لے کر حکومتی پالیسیاں اور میڈیا تک، عام تبلیغی نصائح سے لے کر خطبات جمعہ و عیدین تک کسی بھی ذریعے سے مکمل احکاماتِ قرآن و احکامات نبویؐ عوام تک نہیں پہنچتے۔ بلکہ جو لوگ اپنی انا پرستی یا خود سری یا نا سمجھی کی وجہ سے ماحول گندہ کرتے ہیں اُن کو زبانی طور پر بھی ہم لوگ کچھ نہیں کہتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہم ایسے اقدام کرتے ہیں جن سے برائیاں بڑھتی ہیں۔ پولیو کے تدارک میں ناکامی پاکستان پر مختلف قسم کی شدید نقصانات والی پابندیاں بین الاقوامی برادری کی طرف سے لگ سکتی ہیں۔ اس لیے دشمن قوتوں نے ہماری اسی کم زوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور مختلف قسم کی تقریری حربوں کے ساتھ ساتھ پولیو کے قطرے پلانے والوں کو جان سے مارڈالنے، واپڈا کارڈ کو استعمال کرواکر اس مرض کے ویکسین کو برف سے محروم کرنے، حتیٰ کہ امریکہ و یورپ کو خواب میں ڈرانے والے ’’اسامہ بن لادن‘‘ (اگر واقعی یہ حقیقی شخصیت تھی؟) کو مار ڈالنے کے لیے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے پولیو ویکسی نیشن ٹیموں کا سہارا لیا گیا۔ وعلیٰ ہذا القیاس۔ بڑی وجہ ان تمام مکروہات کی ہمارے نظروں میں وطن عزیز میں نمبر دو بیوروکریسی کا زور ہے۔ امامت کے لیے علم، اخلاص اور قابلیت اور دیانت داری اہم ترین شرائط ہیں۔ ہم ایسے سرداروں سے محروم قوم ہیں۔ بھارت کو ’’پولیو سے پاک‘‘ ملک قرار دیا گیا۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اُس کے وزیر صحت ہریش وردن نے پاکستان کوپولیو کی بیخ کنی کرنے میں مدد کی پیش کش کی ہے (مشرق پشاورتیس اکتوبر 2014ء) یہ جذبہ خیر سگالی ہے۔ ہمیں نہ صرف اس کی قدر کرنی چاہیے بلکہ اسے قبول کرنے میں بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔ کیوں کہ خود بھارت کو پاکستان کی طرف سے پولیو حملے کا خطرہ ہے بلکہ بڑا خطرہ ہے۔ شاید قدرت کی انتقامی قوتیں متحرک ہورہی ہیں۔ بھارت ہی کی معاندانہ رویوں اور طور طریقوں اور مختلف نادیدہ اقدام کے ذریعے نصف کروڑ کے قریب افغانستانی لوگ پاکستان میں اس انداز سے مقیم ہوگئے کہ اُن پر افغانستان جانے اور آنے کی کوئی قابل ذکر پابندی نہیں۔ ان لوگوں کا رہن سہن اور سوچ پولیو دوست ہے۔ یہ افغانستان کی طرف سے مختلف امراض آسانی کے ساتھ لاتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے مختلف بیماریاں افغانستان لے جاتے ہیں۔ غالباً یہ واحد سرحد ہے جس پر افغانیوں سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی دیانت دار سرکاری فرد آڑے آنے کی کوشش کرتا ہے، تو افغانیوں کی مدد کے لیے رشوت خان یا سفارش خان فوری طور پر پہنچ جاتے ہیں۔ افغانستانی مہاجرین کے مسئلے میں نہ افغانستان نہ بھارت اور نہ پاکستان سنجیدہ ہیں۔ بھارت کے افغانستان کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلقات ہیں۔ درجن بھر سے زیادہ بھارتی قونصل خانے افغانستان میں کام کر رہے ہیں۔ ہزاروں بھارتی سپاہی اور سویلین افغانستان میں کام کر رہے ہیں، جو اپنے ملک (بھارت) آتے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اور یہی تعلقات اور پاکستان دشمنی بھارت کو ٹیکا لگا سکتے ہیں،جو اچھی بات نہ ہوگی۔ ہم پولیو سمیت تمام معاملات و مشکلات میں اس علاقے کے پانچ اہم ممالک (ایران، افغانستان، بھارت، پاکستان، چین) کے درمیان مخلصانہ دوستی کے دعا گو ہیں۔ یہی واحد طریقہ ہے جس سے یہ سب ممالک پر امن رہیں گے اور ترقی کریں گے۔ بعض حلقوں اور افراد کی یہ خام خیالی ہے کہ خدانخواستہ، خاکم بدہن پاکستان کو توڑ کر ایران، افغانستان اور بھارت میں تقسیم کیا جائے گا۔ دور جدید کی بین الاقوامی سیاست میں کسی ریاست کو توڑنے اور تقسیم کرنے کا تصور ہی خطرناک ہے۔ سویت یونین کا معاملہ کچھ اور تھا۔ روس اب بھی اُتنا ہی مضبوط اور طاقت ور ہے جتنا کہ پہلے تھا۔ پھر اُس کی مقبوضہ ریاستیں جنگ کے ذریعے نہیں پر امن طریقے سے آزاد ہوئی ہیں جب کہ خدانخواستہ اگر پاکستان کے وجود کے خلاف کسی بھی پڑوسی ملک نے کوشش کی، تو جنگ ہوگی خوف ناک جنگ اور یہ جنگ جوہری اسلحے کے استعمال کا سبب بھی بن سکتی ہے (خدا نہ کرے) پھر کیا ہوگا؟ عظیم خوب صورت شہر راکھ کا ڈھیر ہوں گے۔ دو بڑی جوہری ممالک نیست و نابود ہوں گی (خاکم بدہن)۔ اگر جنگ نہ ہو اور حالات ایسی ہی رہے، جیسے کہ اب ہیں، تو یہ ممالک اسی طرح ایک دوسرے کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔ غربت اور افلاس کا شکار اور بڑی طاقتوں کے کھلونے اور بڑی مارکیٹیں ہوں گی۔ اس لیے پڑوسی ممالک کو پاکستان کے امن و استحکام کی ضرورت ہے۔ پولیو کے نہ ختم ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کا بیرونِ ملک روزگار متاثر ہوسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ سفرِ حج و عمرہ پر اگر پابندی نہ لگے، تو اس کے کوٹے میں کمی ہوسکتی ہے۔ ہمارے یہاں حکومتی اہل کار اور بعض عوام اس فساد اور اس قسم کے دوسرے بے شمار مسائل کے خود ذمہ دار ہیں۔ ہمیں دوسروں پر اعتراضات لگانے میں محتاط رہنا چاہیے۔ جب تک ہمارے یہاں الراشی و المرتشی ایسے ہی مضبوط ہوں، ہمیں کئی ایک مسائل کا سامنا ہوگا۔ حکم رانوں کی اعلیٰ اہلیت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ کام کرنا، عوام اور خواص کا خدائے ذوالجلال کے احکامات، رسولؐ کے احکامات اور اپنے قومی قوانین، اعلیٰ ظرف اور اعلیٰ کردار، امانت، دیانت، صداقت اور بے نفسی ہی پولیو سمیت زیادہ ترمسائل کو ختم کرسکتے ہیں۔ ناامیدی کی بات یہ ہے ہم اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اس کی تعلیمات کو مکمل طور پر زیر عمل نہیں لاتے۔
724 total views, no views today


