سوات(سوات نیوز)سوات میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی گھر کے سامنے طلباء کا احتجاج کی کوشش ، پولیس کی ناکہ بندیاں، سکول بچوں کو جگہ جگہ روکے رکا، طلبا کتابوں اور فیس کی ادائیگی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع سوات سمیت صوبہ بھرمیں 84 ہزار بچوں نے اج اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، طلبا اور والدین نے کہا کہ 18 ماہ گزرنے کے باوجود ایلمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے صوبہ بھر کے ایک ہزار سکولز کو واؤچر سکیم کی تحت بچوں کو سکول کی کتابیں وغیرہ فراہم نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا کہ طلبا اور سکولز نے ہر فورم پر آواز اٹھائی لیکن کوئ شنوائی نہیں ہو سکی۔مظاہرین نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا ،مشیر تعلیم ،سیکرٹری تعلیم اور ایم ڈی ایلمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے اساتذہ اور طلبا کو سڑکوں پر لاکھڑا کردیا۔سکول مالکانان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے ووچرز پر داخل کرائے گئے بچوں کو پڑھا رہے ہیں، لیکن حکومت اب ان تین سالوں کی فیسیں ادا نہیں کررہی ہے، جس کی وجہ سے سکول مالکانان دیوالیہ ہو گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں اج ووچرز سکیم کے تحت نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچے اور ان کے والدین فیس کی ادائیگی کیلئے احتجاج کررہے ہیں، سوات میں 16 ہزار بچے ووچر سکیم کے تحت سکولوں میں داخل ہیں، ان بچوں کو وزیرا علیٰ محمود خان کے گھر کے سامنے احتجاج سے روکنے کیلئے پولیس نے جگہ جگہ ناکہ بندی کرائی اور بچوں کو مٹہ جانے نہیں دیا جارہا ہے ، احتجاج کے حوالے سے جب اس سکیم کے ضلعی افیسر مس طلعت نے موقف دینے سے انکار کردیااور کہا کہ ،مجھے اجازت نہیں ،میڈیا سیکرٹری سے بات کریں،
1,122 total views, no views today



