سوات۔سوات کے بے سہارہ بچوں کیلیے قائم پرورش ہوم بھی مالی مشکلات سے دو چار320یتیم بچوں کا مستقبل تاریک 2007میں جب دہشت گردی عام تھی اور یہاں پر خون کی ہولی کھیلی گئی تو ہزاروں بچوں سے ان کے والدین کا سایہ اٹھ گیا اور یہی غم صرف مجھے نہیں بلکہ سارے سوات کے عوام کو کھائی جا رہی تھی کہ اب ان بچوں کا کیا ہوگا کہ اس دوران دو درد دل رکھنے والے شخصیات حاجی محمد علی المعروف ایدھی دوئم (خپل کور )اور نعیم اللہ صاحب (پرورش ہوم )نے بیڑا اپنے سر اٹھالیا اور تقریباً پانچ سو بچو کو محمد علی اور320بچے نعیم اللہ کو اللہ تعالی نے طاقت دی اور اسکا زریعہ بنایا
اس وقت دبئی کے کچھ نوجوانوں نے دل کھول کر نعیم اللہ کی مدد کرنا شروع کردی لیکن بلا ہو موجودہ حکومت کا جن کی وجہ سے بیرون ملک فنڈ بند ہوا اور اب آہستہ آہستہ پرورش ہوم کا ادارہ لپیٹتا جا رہا ہے اور انتظامیہ کے مطابق ناشتہ اور دو وقت کی روٹی کم کرتی جا رہی ہے اور کرایہ نہ ہونے کے وجہ سے جگہ بھی کم کرتی جا رہی ہے اور سٹاف کو بھی فارغ کیا جا رہا ہے
لیکن آفسوس کے حکمران اور سوات کے مخیر حضرات خاموشی سے ان 320بچوں سے ان کے سر کا چھت چھنیتے تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں آخر کیوں ؟
اس معاشرے کے درد دل رکھنے اور صاحب ثروت لوگوں کی خاموشی کیوں
آئیں یہ عہد کریں کہ اس ادارے کے اس یتیم بچوں کا مستقبل تاریک نہیں ہونے دینگے اور ایک مہم چلاکر اس ادارے کو تباہی سے بچائیں
0344 9224444
Naeem ullah Darector
1,237 total views, no views today



