تحریر: وقار احمد سواتی
وطن عزیز پاکستان کے قیام کے بعداب تک مجموعی طورپر 32 مرتبہ نیشنل گیمز کا انعقاد کیا گیا ہے آزادی کے بعد1948میں اس وقت کے دارلحکومت کراچی کے پولو گراونڈ میں پہلی بار نیشنل گیمزکا انعقاد ہوا،پہلی نیشنل گیمز میں ملک کے تمام صوبوں اور اکائیوں کے
کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔پہلی نیشنل گیمز میں 140ایتھلیٹ نے حصہ لیا اور ٹریک اینڈ فیلڈ،باسکٹ بال،باکسنگ، سائیکلنگ،والی بال،ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ کے مقابلے منعقد ہوئی،23اپریل 1948کو بابائے قوم قائد اعطم محمد علی جناح نے نیشنل گیمز کو جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تیز ذہنوں کیلئے ہمیں تیز اور تگڑے جوانوں کی ضرورت ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے قومیں باڈی بلڈنگ اور طبعی ثقافت کو اہمیت دیتی ہیں۔پہلی نیشنل گیمز کے ٹائٹل پنجاب نے اپنے نام کیا تھا،بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جنا ح نے اپنے نجی فنڈ سے فاتح ٹیم کو ”چیلنچ شیلڈ” دیا تھا جس پر قائد اعظم محمد علی جناح کا مشہور نام موجود ہے۔

اس سے پہلے قائداعظم محمد علی جناح نے کراچی میں منعقدہ پہلے پاکستان اولمپک کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ساتھ ایک اجلاس میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے پہلے صدر جناب احمد ای ایچ سے کہا۔
”اپنے آپ کو کھیلوں کی ترویج کے لئے وقف کرو، کیونکہ جب آپ اور میں چلے جائیں گے، تو اس ملک کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں قیادت آجائے گی اور نوجوان ہماری مستقبل اور دولت ہے، جس کواس ملک کے مستقبل کیلئے جدوجہد کرنے اور دفاع کیلئے سٹیل کیطرح تیار کرنا چاہئے، نظریہ پاکستان کے دفاع کیلئے اورپاکستان کی سالمیت اور یکجہتی کے دفاع کیلئے”
قائد اعظم محمد علی جناح کاپاکستان کے جوانوں کیلئے فلسفے کا اظہار انہوں نے بہت مظبوطی کے ساتھ اولمپک مقابلوں کے آرگنائزنگ کمیٹی کے سیکرٹری کے نام لکھے گئی خط میں کیا تھا،انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ہرڈل کراس والا گیمز کرلیا،اور ویننگ پوسٹ پر سینے سے ٹیپ کو ہٹا دیا اور اس پر لوگ خوشی سے ہنس رہے ہیں،ہم نے میراتھن ریس کے پہلے سٹیج کو بھی کرلی، میں نے دوسروں سے چھڑی لے اور اگے لے جانے کیلئے حوالہ کیا،عزم،نظم وضبط،متحد ہونے اور اللہ تعالی پر اعتماد کے ساتھ، اپ کو منزل مقصود کے حصول میں رکاوٹیں ہوگی لیکن اپ میں اتحاد،ایمان اور نظم وضبط تو کوئی بھی اپکو کو مظبوط سے نہیں روک سکتے،کھیلوں کے میدانوں میں لیڈر شپ پیدا کریں اور اچھے فالورز بنو،یاد رکھنا کوئی بھی اچھا حکم دینے والا نہیں بن سکتا جب تک وہ اچھا اطاعت والا نہ بن سکے۔معمار بنو اور دوسروں کیلئے تعمیر ی سوچ رکھو۔

خوش قسمتی سے رواں سال 33ویں نیشنل گیمز کی میزبانی صوبہ خیبر پختونخو ا نے کیا،خیبرپختونخوا کو نو سال بعد نیشنل گیمز کی میزبانی ملی،جبکہ آخری مرتبہ 2010کو نیشنل گیمز کا انعقاد کیاگیا تھا۔ اس سے پہلے خبیرپختونخوا نے نیشنل گیمز کی 6مرتبہ میزبانی کی ہے۔33ویں نیشنل گیمز میں ٹوٹل 32گیمز کھیلیں گئے جس میں 27گیمز خواتین اور مردوں دونوں کیلئے تھیں جبکہ 5گیمز مردوں کے ہوئے۔

33ویں نیشنل گیمز میں ایک بات انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے کہ یہ 32گیمزمختلف شہروں میں کھیلے گئے جس میں آرچری (میل فی میل)حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور، ایتھلیٹک (قیوم سٹڈیم پشاور)،بیڈمنٹن(عبدالولی خان سپورٹس کمپلیکس چارسدہ)،بیس بال (میل فی میل)حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور،باسکٹ بال(میل فی میل)پی اے ایف سپورٹس کمپلیکس پشاور
باڈی بلیڈنگ (میل) مردان سپورٹس کمپلیکس مردان،باکسنگ (میل فی میل) لالا امن باکسنگ آرینہ،قیوم سٹڈیم پشاور،سائکلنگ (نادرن بائی پاس پشاور)،فٹبال (میل فی میل)تماش فٹبال گراونڈ پشاور،گالف(میل فی میل)پشاورگالف کلب پشاور،جمناسٹک (میل)آرمی پی۔ٹی آف فزیکل فٹنس،ایبٹ آباد،ہینڈبال (میل فی میل)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سیکنڈری ایجوکیشن مردان،ہاکی (میل فی میل)لالاایوب ہاکی سٹڈیم پشاور،قیوم سٹڈیم پشاور

،جوڈو (میل فی میل) پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد،کبڈی(میل)گونمنٹ کالج پشاور،کراٹے (میل فی میل) لالارفیق سٹڈیم،قیوم سٹڈیم پشاور،راونگ (میل فی میل)راول لیک اسلام آباد،رگبی (میل فی میل) کنج فٹبال گراونڈ ایبٹ آباد،سیلنگ (میل فی میل)کراچی،شوٹنگ (میل فی میل)جہلم،سافٹبال (فیمیل)حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور،سکواش (میل فی میل)ہاشم خان سپورٹس کمپلیکس پشاور،سویمنگ (میل فی میل)پاکستان سپورٹس بورڈاسلام آباد،ٹیبل ٹینس (میل فی میل)حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور،تائیکوانڈو (میل فی میل)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ سکینڈری ایجوکیشن آڈیٹوریم ایبٹ آباد، ٹینس (میل فی میل)پی اے ایف سپورٹس کمپلیکس پشاور،ٹگ آف وار (میل)قیوم سٹڈیم پشاور،والی بال (میل فی میل)پی ایس بی جیمنیزیم قیوم سٹڈیم پشاور،ویٹ لفٹنگ (میل فی میل)پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد پشاور،ریسلنگ (میل)لالا رفیق سپورٹس آرینہ،قیوم سٹڈیم پشاوراورووشو (میل فی میل)حیات آباد سپورٹس کمپلیکس پشاور میں منعقد ہوئے۔
خیبر پختونخوا میں کھیلے جانے والی 33وین نیشنل گیمز میں ملک بھر سے مجموعی طورپر دس ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا جس میں پاک آرمی کے 9سو،پاک فضائیہ کے 4 سو،آزاد جموں کشمیرکے 150،بلوچستان کے 450،گلگت بلتستان کے 150،ایچ ای سی کے 800،اسلام آبادکے 175،نیوی کے 400،پولیس کے500،پنجاب کے 450،ریلویزکے 500،سندھ کے 450،واپڈاکے 900اور خیبرپختونخوا کے 750کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر حصہ لیا۔

33ویں نیشنل گیمز میں پاکستان آرمی نے 7909 پوائنٹس اور مجموعی طور پر 380 میڈلز کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کر لی، واپڈا کی 7093 پوائنٹس کے ساتھ دوسری اور ریلوے کی 1815 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن، صوبوں میں پنجاب 1622 پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور خیبر پختونخوا 1285 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجودرہا۔

نتائج کے مطابق پاکستان آرمی نے کامیابی سے اپنے ٹائٹل کا دفاع کیا اور 24 ویں مرتبہ نیشنل گیمز کی قائداعظم ٹرافی اپنے نام کر لی۔ آرمی 7909 پوائنٹس اور 380 میڈلز کے ساتھ سرفہرست رہی جس میں 150 سونے، 134 چاندی اور 96 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔پاکستان واپڈا نے 7093 پوائنٹس اور مجموعی طور پر 320 میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی۔واپڈا کے کھلاڑیوں نے 148 سونے، 99 چاندی اور 73 کانسی کے تمغے اپنے نام کئے۔ پاکستان ریلوے نے 1815 پوائنٹس اور 104 پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی جس میں 12 سونے، 20 چاندی اور 73 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔پاکستان نیوی نے 1770 پوائنٹس اور 67 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی جس میں 21 سونے، 24 چاندی اور 22 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔پنجاب نے 1622 پوائنٹس اور 49 میڈلز کے ساتھ پانچویں پوزیشن حاصل کی جس میں 1 سونے،14 چاندی اور 34 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔پاکستان ایئرفورس نے 1426پوائنٹس اور 58 میڈلز کے ساتھ چھٹی پوزیشن حاصل کی جس میں 11 سونے، 16 چاندی اور 31 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔میزبان خیبر پختونخوا نے 1285 پوائنٹس اور 41میڈلز کے ساتھ ساتویں پوزیشن حاصل کی جس میں 2 سونے، 5 چاندی اور 34 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔ ایچ ای سی نے 1038 پوائنٹس اور 42 میڈلز کے ساتھ آٹھویں پوزیشن حاصل کی جس میں 2 سونے، 11 چاندی اور 29 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔سندھ کی ٹیم 965 پوائنٹس اور 45 میڈلز کے ساتھ نویں نمبر پر رہی جس میں 2 سونے، 9 چاندی اور 34 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔بلوچستان کی ٹیم495پوائنٹس اور 28 میڈلز کے ساتھ دسویں پوزیشن حاصل کر سکی جس میں 1 سونے، 6 چاندی اور 16 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔اسلام آبادنے 310 پوائنٹس اور اور 9 میڈلز کے ساتھ گیارہویں پوزیشن حاصل کی اسلام آباد کے کھلاڑی 9 کانسی کے تمغے جیت سکے۔پولیس نے 308 پوائنٹس اور10 میڈلز کے ساتھ بارہویں پوزیشن حاصل کی جس میں 2 چاندی اور 8 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔گلگت بلتستان نے 174 پوائنٹس اور 6 میڈلز کے ساتھ تیرہویں پوزیشن حاصل کی جس میں 6 کانسی کے تمغے شامل ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کی ٹیم 142 پوائنٹس اور 1 میڈل کے ساتھ آخری یعنی چودہویں نمبر پر رہی جس میں صرف ایک کانسی کا تمغہ شامل ہے۔ نیشنل گیمز کی فیئر پلے ٹرافی خیبر پختونخوانے جیتی جو بیڈمنٹن کے گولڈمیڈلسٹ مراد علی اور کراٹے کے گولڈ میڈلسٹ مراد علی نے وصول کی۔جبکہ پنجاب کو صوبوں میں بہترین کارکردگی کی ٹرافی کا حقدار قراردیا گیا۔

33 ویں نیشنل گیمز کی اختتامی تقریب پشاور کے قیوم اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان تھے۔ سینئر صوبائی وزیر برائے کھیل و سیاحت عاطف خان اور صوبائی وزیر جنگلات اشتیاق ارمڑ، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ضم اضلاع اجمل وزیر،پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدرلیفٹننگ جنرل(ر) عارف حسن، سیکرٹری خالد محمود، صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر سید عاقل شاہ، آرگنائزنگ سیکرٹری ذوالفقاربٹ، ڈی جی سپورٹس آرمی بریگیڈیئر ظہیر اختر، آئی جی خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم،سیکرٹری سپورٹس کامران رحمان، ایم ڈی ٹورازم کارپوریشن جنید خان، ڈی جی سپورٹس اسفندیار خٹک اور دیگر مہمانان بھی موجود تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمرود خیبر نئے ضم شدہ اضلاع میں تھرو بال کے مقابلے ہوئے جس میں خواتین کے میچز بھی شامل تھے،نئے ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں پرخیبر پختونخوا کے صوبائی حکومت خصوصی توجہ دی رہی ہے۔

نیشنل گیمز ایک پرامن ماحول میں منعقد کیا گیا جبکہ پشاور سٹی میں ملک بھر سے آئے ہوئے کھلاڑی دن رات بلاخوف وخطر پشاور شہر میں گھومے پھرے نیشنل گیمز کے انعقاد سے نہ صرف کھیلوں کو فروغ ملا جبکہ پورے دنیا کو وطن عزیز پاکستان کا مثبت پیغام بھی مل گیا۔نیشنل گیمز کے کامیاب انعقاد پر کھلاڑیوں،آفیشلز اور عہدیداروں نے حکومت پاکستان،اولمپک ایسوسی ایشنز، حکومت خیبر پختونخوا، سینئر صوبائی وزیر عاطف خان، سیکورٹی سرانجام دینے والے سیکورٹی فورسز،پولیس جوانوں اور دیگر محکموں کے آفسران اور اہلکاروں کا بھی شکریہ اداکیا جبکہ عوام،صوبائی حکومت اور سینئر وزیر عاطف خان کو نیشنل گیمز کے کامیاب انعقاد پرخراج تحسین پیش کیا۔

اختتامی تقریب میں آتش بازی کا زبردست مظاہرہ پیش کیاگیا جبکہ ملک کے نامور گلکاروں نے اپنی پرفارمنس سے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کیا

2,504 total views, no views today



