سوات میں تعلیم کے حوالے سے گذشتہ روز صحافیوں اور لکھاریوں کیلئے تعلیمی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سکول سے باہر بچوں کی نئی رپورٹ پیش کی گئی ۔سوات میں 28فیصد بچے سکول سے باہر ہے۔جبکہ پاکستان کے 146 اضلاع میں سوات 77ویں نمبر پر ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روزصحافیوں اور لکھاریوں کیلئے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ پاکستان شدید تعلیمی بحران کا شکار ہے جہاں اسکول جانے کی عمرکے بچوں کی تقریباً نصف تعداد اسکولوں سے باہر ہے۔اگرچہ اس مسئلے پر اتفاق رائے ہے لیکن اس مسئلے سے متعلق اعداد و شمار زیر بحث ہیں۔ پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعدادکے لیے کوئی متفقہ سرکاری اعداد نہیں ہے۔
25 Million Broken Promises: The Crisis of Pakistan’s Out-Of-School Children کے نام سے چھپنے والی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں الف اعلان نے اس مباحثے میں وضاحت لانے کی کوشش کی ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کو استعمال کرتے ہوئے یہ رپورٹ ملک میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کا تعین کرتی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق 5 سے لے کر 16 سال کی عمر کے درمیان میں پاکستان میں اندازاً 5 کروڑ 29 لاکھ بچے موجود ہیں جن میں سے ڈھائی کروڑ)بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ فیصدی لحاظ سے بلوچستان میں تعداد سب سے زیادہ ہے جہاں 66 فیصد بچے اسکولوں تقریباً آدھے (سے باہر ہیں۔ جبکہ مجموعی طور پر پورے ملک کے اسکولوں سے باہر بچوں کی آدھی تعداد(1کروڑ 31 ملین) پنجاب سے ہے۔
پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد سے متعلق مختلف اندازے 88 لاکھ 20 ہزار سے لے کر ڈھائی کروڑ تک لگائے جاتے ہیں جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ معلومات کا ذریعہ کیا ہے۔ ان اعداد و شمار میں اتنا بڑا فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکاری طور پر دستیاب اعداد وشمار تسلسل کی کمی ، طریقہ کار کے مسائل اوسروے کے نقائص کا شکارہے۔ اس رپورٹ کی مصنفہ سمن ناز کا کہنا ہے کہ مکمل داخلے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرنا سیاستدانوں کے لیے بہت آسان ہے۔ “کسی کواس مسئلے کی موجودگی سے انکار نہیں لیکن جب تک آپ یہ جانیں گے نہیں کہ مسئلہ کتنا بڑاہے آپ اسے کیسے حل کر سکتے ہیں؟”
یہ رپورٹ پاکستان کے تعلیمی نظام میں موجود دیگر تشویشناک مسائل کی نشان دہی بھی کرتی ہے۔ تعلیم کے حصول میں بچے اور بچیوں کے مابین واضح فرق ہے۔ اسکولوں سے باہر ان بچوں کی آدھی سے بھی زیادہ تعداد بچییوں کی ہے بالخصوص خیبر پختونخواہ میں جہاں 50 فیصد بچیاں اسکول نہیں جاتیں۔
رپورٹ کی دیگر انکشافات بھی تشویشناک ہیں مثلاً اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ پرائمری اسکول کے عمر میں موجود بچوں میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اسکول نہیں جاتا۔تعلیم کے درجوں کے ساتھ یہ تعداد اور بڑھ جاتی ہے۔ اگر 10 سال پہلے ہر وہ 100 بچے، جنہوں نے جماعت اول میں داخلہ لیا، آج ان میں سے صرف 25 بچے دسویں جماعت میں ہیں۔ہائر اسکینڈری درجے تک تقریبا 85 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہوتے ہیں۔
رہائش کا علاقہ بھی تعلیم کے حصول پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بچوں اوربچیوں دونوں کے لیے دیہی علاقوں میں تعلیم حاصل کرنا زیادہ مشکل ہے اور اعلی تعلیمی درجوں میں ان کے درمیان بہت فرق آ جاتا ہے۔
رپورٹ کے اعدادو شمار سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان میں طبقاتی تفریق کی گہرائی کا ایک سبب تعلیمی نظا م بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں میں اسکولوں سے باہر ہونے کا امکان خوشحال گھرانوں کے بچوں کی نسبت 6 گنا زیادہ ہے۔
یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ تعلیمی نظام کی خامیوں کی وجہ سے وہ بچے جو داخلہ لے لیتے ہیں تعلیم مکمل کیے بغیر ہی اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ پورے ملک میں پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں میں سے صرف 48 فیصد بچے پانچویں جماعت پہنچ پاتے ہیں۔
اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کا جہاں اسکول میں رہنا ضروری ہے یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اسکول سے باہر بچوں کی70 فیصد تعداد ایسی ہے جنہوں نے کبھی کمرۂ جماعت تک نہیں دیکھا۔
ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ اسکولوں سے باہر ہر بچہ ریاستی وعدہ خلافی کا ثبوت ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی عزم درکار ہے۔ سیاست دان وعدے بہت خوب کرتے ہیں، پاکستان کے بچوں کومزید وعدوں کی ضرورت نہیں ، انہیں تعلیم چاہیے اور وہ بھی ابھی ۔
800 total views, no views today


