اسلام آباد(ان لائن ) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے حراستی مراکز سے متعلق کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ ایک طرف شہری کے وقار دوسری طرف ریاست کی بقا کا سوال ہے۔ سپریم کورٹ میں فاٹا پاٹا ایکٹ اور حراستی مراکز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے سوال صرف حراستی مراکز کی قانونی حیثیت کا ہے، ایک طرف شہری کے وقار دوسری طرف ریاست کی بقاء کا سوال ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حراستی مراکز پر عدالت کو ویڈیو دکھانا چاہتا ہوں، فاٹا پاٹا میں دہشتگرد، کالعدم تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر موجود رہے، حراستی مراکز سمیت دیگر نکات پر نیا قانون بنایا جا رہا ہے جو تین سے چار ماہ میں نافذ ہو جائے گا
658 total views, no views today
Comments



