آج سوات خان ہاتھ میں بجلی کا بل لئے سخت غصہ کے عالم میں میرے دفتر آئے او ر آتے ہی پھٹ پڑے۔ کہنے لگے دن رات بجلی کے آنے کی امید اور بجلی چلے جانے کے خوف میں گزرجاتے ہیں سچ پوچھو تو بجلی ہمارے لئے ایک اذیت بن گئی ہے۔ اس معشوقہ کی طرح جو نہ تو ملتی ہے اور نہ تعلق توڑتی ہے۔ہم تو پیسکو کے نزدیک ان بیویوں کی طرح ہوگئے ہیں جو اپنے نکمے شوہر وں کے لئے پیسے بھی کماتی ہیں اور مار بھی کھاتی ہیں۔ سوات خان یہ کہتے ہوئے ٹھنڈا ہوگیا کہ میں بجلی بل جمع نہیں کروں گا۔ میں نے سوات خان سے کہا کہ آپ نے بجلی کا بل کیوں نہیں جمع کروایا ہے اب تمہیں وقت پر بل نہ جمع کرانے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ پیسوں کو اس طرح بے مقصد ضائع کرنا تو اللہ کے ناشکری بھی ہے اور اپنی محنت کی ناقدری بھی۔ اس پر سوات خان نے کہا کہ بجلی تو وہ دیتے نہیں۔ انھیں بل کس بات کا دوں۔ غلط بل کی درستی بھی وہ نہیں کرتے۔ شکایت کرنے جاؤ تو اتنے چکر لگانے پڑتے ہیں کہ لڑکپن میں لڑکیوں کے کالجوں کے جو چکر لگائے تھے۔ وہ بھی کم لگتے ہیں۔ میں نے کہا سوات خان روشنی زندگی ہے۔ بجلی زندگی کو رواں دواں رکھتی ہے۔ اس بیش قیمت روشنی کی قیمت ہر روشنی کی طرح احکامات کی تعمیل ہے۔ پس سر تسلیم خم کراور روشنی سے لطف اندوز ہو۔ شر ط یہ ہے کہ بغیر سوال پوچھے بغیر شکوہ کئے بجلی بل اداکرتے رہو۔ اس طرح تو تمہاری بجلی کٹ جائے گی۔ سوات خان نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا ایم پی اے صاحب کس لئے ہیں میری بجلی کاٹنے کی کس میں ہمت ہے۔ میں نے کہا یہ سوات خان کو کیا ہوگیا ہے؟وہی سب کچھ کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ جس سب کے وہ سخت مخالف تھے۔ سوات خان نے کہا تم تو ضمیر کا ہتھوڑا بن گئے ہو۔ تم خودہی بتاؤ، کہیں بھی اگر شنوائی نہ ہو، تو یہ دربدر بے منزل مسافر کی طرح پھرنے کی رسوائی کب تک سہتے رہیں۔ ایک تو بجلی نہیں دیتے ۔ پھر بل میں وہ رقمیں درج کردیتے ہیں۔جو منطق اورحساب کتاب کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق بن جاتی ہیں۔ یہ چکر پھریاں ہم پڑھے لکھے لوگوں کیلئے حیرت کی تعلیم وتربیت کا ایک کورس بن جاتی ہیں۔ جو نیم خواندہ ، ناخواندہ، انتہائی غریب اور معذور لوگ ہوتے ہوں گے ان کے لئے تو یہ بل چاند گاڑی بنانے کا نسخہ بن جاتا ہوگا۔ اور حکومت خود بل نہیں ادا کرتی۔ یہ تو ایسے ہے جسے کوئی روزہ خور روزے کے طبی فوائد پر درس دینے لگے۔ لیکن کیا کریں۔ہمارا پیارا ملک قول و فعل کے تضاد کی نہ ختم ہونے والی رات بن گیا ہے۔ تم ہی بتاؤ میں کیا کروں میں نے کہا سوات خان مجھے تمہارے بے اطمینانی کا اندازہ ہے۔ تمہیں بہت دکھ اور تکلیف ہورہی ہے۔ تمہیں وقت کے ضائع کا بھی ملا ل ہے۔ تمہیں نازیبا رویوں کا بھی رنج ہے۔ تمہیں شکایت نہ سنے جانے کی پریشانی بھی ہے اور تمہیں انصاف نہ ملنے پر تاسف بھی ۔ مگر یہ بات نہ بھولو تم ایک ذمہ دار شہری ہو تم اپنی ذمہ داری ادا نہ کروگے تو یہ ملک و قوم کا پیسے سے زیادہ انقصان ہوگا۔ سوات خان نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو مگر دوسروں کو بھی تو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے۔ بجلی کے اضافی بلوں پر مردے بھی چیخ اٹھتے ہیں اور کتے بھی بجلی کے چلے جانے پر اتنا احتجاج کرتے ہیں کہ اسمبلی ہال میں اپنے نمائندوں کی خاموشی پر رونا اتا ہے۔ کیونکہ اپنی آسائشات کے لئے یہ بہت شور کرتے ہیں لیکن جب ہمارے مسائل کا ذکر آتا ہے۔ تو اندھے ، گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں۔ میں نے کہا سوات خان زیادتی کے اچھے جواز سوچنے سے زیادتی ختم نہیں ہوجاتی ، اچھے آدمی کا ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اچھائی کی عینک سے دنیا دیکھتا ہے اور برائیوں کی دلدل کہ گہرائی ماپ نہیں سکتا۔ احتساب کا آغاز اپنی ذات سے ہوتاہے۔ بہتر احتساب کا مطلب بجلی کے پیداوار اور رسیدمیں اضافہ بھی ہوسکتا ہے جس کی ہمارے ملک میں بہت ضرورت ہے۔ پیسکو سے طے شدہ معاہدے میں اپنے حصے کی شرائط کی پابندی کرنا تمہاری قانونی ذمہ داری ہے اور قانون کیخلاف ورزی میں حکومت اور دوسروں کی پیروکاری کرنا تو نادان چرواہی اور اس کی بھڑوں والی حرکت ہے جو فصلوں میں گھس جاتی ہیں اورانہیں اجاڑ دیتی ہیں۔ بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ ملک میں بجلی کی طلب ورسد میں عدم توازن ہے بجلی پیداوار کے نئے منصوبے مکمل ہونے پر ملک وقوم کو بجلی لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکتی تاہم شیڈول کے بغیر اضافی لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور منتخب عوامی نمائندوں پر اس سلسلے عوامی دباؤ کا ہمہ وقت
موجود رہنا ضروری ہے۔ رہی بات اضافی بجلی بلو ں کی درستگی اور شکایت نہ سنے جانے کی تو اس کیلئے قانونی راستہ صارف عدالت میں جانا ہے سوات خان نے کہا تمہارے ساتھ بحث بے معنی ہے۔ میں چلتا ہوں۔ بجلی کا ناجائز بل جمع کروانے لیکن میں باقاعدہ میٹرریڈنگ سے گریز کے مرتکب میٹرریڈر اور پیسکو کے دیگر حکام کو چھوڑدوں گا نہیں ۔ اور صارف عدالت سے تمام ثبوتوں کے ساتھ انصاف کی فراہمی کیلئے استدعا کروں گا۔
2,582 total views, no views today


