دنیا میں افراد تاریخ کے مختلف ادوار میں، مختلف معاشروں میں، مختلف ساخت اور ہےئت کے تحت زندگی گزار تے چلے آرہے ہیں۔ کہیں قبائلی نظام، تو کہیں مربوط و منظم طرز حکم رانی۔ ہر نظام اپنی خصوصیات اور خوبیوں و خامیوں کا حامل ہوتا ہے۔ یہی سیاسی و سماجی حیثیت وساخت کسی معاشرے و افراد کے تہذیب و تمدن کے حوالے سے ترقی و پیش رفت یا پس ماندگی کے مرحلے اور حیثیت کا تعین کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ آج ایکسویں صدی کے ترقی یافتہ گردانے جانے والے دور میں بھی دنیا میں مختلف نظام ہائے حکومت و زندگی پائے جاتے ہیں۔
سوات، جو کہ دنیا کے اکثر ممالک میں جا نا پہچانا نام رہا ہے، اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مراحل و مدارج سے ہو گزرا ہے۔ کبھی قبائلی نظام، تو کبھی مربوط و منظم حکومتیں اور تہذیبی و تمدنی ترقی۔ سولہویں صدی عیسوی میں سوات کی تاریخ کا ایک نیا باب اس وقت شروع ہوا، جب ’یوسف زئی افغان‘ سوات پر حملہ آور ہو کر آہستہ آہستہ اسے قبضہ کرکے یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔
سوات پر قبضہ اور یہاں غلبہ حاصل کرنے کے باوجود یوسف زےؤں نے یہاں پر باقاعدہ حکومت کی داغ بیل ڈالنے اور کسی کو حکم ران بنانے کے بجائے قبائلی نظام اور طرز زندگی کو ترجیح دی۔ اس قبائلی نظام میں کسی فرد واحد کو حکم ران بنانے کے بجائے قبیلہ کے ایک سرکردہ فرد یا بڑے کے تحت مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے سربراہ چنے جاتے تھے۔ ابتداء میں ان قبائلی سربراہوں یا بڑوں کو ’’مَلَک‘‘کے لقب سے نوازا اور یاد کیا جاتا رہا۔ جیسا کہ یو سف زئیوں کی یہاں آمد اور قبضہ کے وقت ان کے سربراہ ملک احمد اورملک شاہ منصور تھے۔ تاہم بعد میں ’’خان‘‘ کے لقب کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ خوشحال خان خٹک نے سترہویں صدی عیسوی میں سوات کے خوانین وملکوں کا ذکر کیا ہے اور یہاں کے خوانین وملکوں کے کردار پر تنقید بھی کی ہے ۔
سولہویں صدی عیسوی میں یوسف زئیوں کے سوات پر قبضے کے وقت سے بیسویں صدی عیسوی میں ریاست سوات کے وجود میں آنے اور یہاں پر ایک منظم ریاست اور حکومتی ڈھانچہ قائم ہونے تک کے دور کو عرف عام میں ’’دَ پختودور ‘‘یعنی پختو کا دور اور’’دَپختوزمانہ‘‘ یعنی پختوکا زمانہ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ دور جس میں یہاں پر لوگوں کی زندگی’’پختو‘‘ یا پختونوں کے ضابطۂ حیات کے تحت گزرتی تھی۔ واضح رہے کہ ’’پختو‘‘ نہ صرف پختونوں کی زبان کا نام ہے بلکہ یہ اس ضابطۂ حیات یا اصول اور قواعدو ضوابط کا نام بھی ہے، جس کے تحت پختون صدیوں تک کسی مرکزی حکومت اور حکم رانی کے بغیر منظم زندگی گزارتے رہے۔ (’’پختو‘‘ کی کچھ تفصیل کے لیے راقم کی انگریزی کتاب ’’دی نارتھ ویسٹ فرنٹیئر (خیبر پختونخوا) : ایسیز آن ہسٹری‘‘، شائع کردہ اوکسفرڈ یو نیورسٹی پریس، کا باب سوم ملا حظہ کیا جا سکتا ہے)۔
سوات میں یوسف زئیوں کے قبائلی نظام میں نہ صرف وہ دو حریف دھڑوں (جنھیں ڈَلے کہا جاتا تھا) میں تقسیم رہے بلکہ ان کے چھوٹے بڑے قبائلی سربراہ بھی ہوتے تھے، جو ملک اور خان کے القاب سے ملقب تھے۔ ملک اور خان کے یہ منصب موروثی نہیں تھے، بلکہ قبیلہ کے متعلقہ افراد اپنے لیے ملک اور خان کا انتخاب کرتے۔ جس کو چاہتے اس منصب پہ فائز کرتے اور جس کو چاہتے اس منصب سے ہٹاتے۔ یہ مناصب اس حوالے سے تو موروثی نہیں تھے کہ یہ کسی خاص اصول کے تحت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوں، لیکن وقت کے ساتھ اس حد تک موروثی یا خاندانی ہو گئے کہ بہ طور عمومی ملک اور خان کا انتخاب اسی خاندان کے افراد میں سے کیا جانے لگا۔ ایک اور اہم بات یہ کہ خاندان کا ہر فردملک یا خان نہیں کہلایا جاتا۔ ملک یا خان وہ خاص فرد ہی ہو تا تھا۔ اس کے گھرانے و خاندان کے دوسرے افراد اس لقب سے ملقب اور اس منصب پر فائز نہیں ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ منصب کے حصول کے لیے خاندان کے اندر بھی خاندان کے افراد کے مابین رسہ کشی اور جوڑ توڑ جاری رہتی، خاص کر چچیروں کے مابین، جس کی وجہ سے چچیروں کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’’تربور‘‘ دشمن کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔
وقت گزرنے کے ساتھ عمومی طور پرملک کا منصب خان سے کم تر گردانا اور تصور کیا جانے لگا۔ تاہم کسی خاص ملک اور خان کی حیثیت کا دار و مدار اس کے ذاتی اثر رسوخ، طاقت اور تعلقات وغیر ہ پہ منحصر ہوتاتھا۔ لہٰذا ہرملک، ہر خان سے کم تر حیثیت کا حامل نہیں ہوتا تھا۔ملک اور خان کے منصبوں پہ فائز افراد کو کئی ایک مراعات بھی حاصل ہوتے تھے، جن میں متعلقہ منصب کو حاصل عزت و و قار کے علاوہ بہ طور ’’سیرء‘‘ خاص زمین دی جاتی، جسے ’’دَ خانئی سیرء‘‘ (خان ہونے کی سیرء) اور ’’دَ ملکئی سیرء‘‘ (مَلَک ہونے کی سیرء) کہا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ’’دَمیلمہ سیرء‘‘ (مہما نوں کی مہمان داری کی خاطر سیرء) اور ’’دَ ڈاڈے سیرء‘‘(مہمانوں کا بھٹوں سے تواضع کرنے کی خاطر سیرء) وغیرہ بھی ان کی تحویل میں ہوتی تھیں۔ علاوہ ازیں ان کے زیر سایہ یا حلقہ کے متعلقہ لوگ ان کے بیگار کرتے اور لڑکی کی شادی کے وقت متعلقہ ملک اور خان کی رضامندی کے حصول کے علاوہ دلہا کا خاندان انھیں نقد رقم بھی ادا کرتا۔ مزید برآں متعلقہ افراد میں سے کسی کے جانور کے ذبح کرنے کی صورت میں (خواہ خیرات ہو یا شادی و غمی میں یا کوئی دوسری وجہ) اس کی ایک ران بھی متعلقہ خان یاملک کو دی جاتی تھی۔ کئی اور ٹیکس یا نقد و جنس کی صورت میں ادا ئیگیا ں بھی متعلقہ ملک اور خان کو کی جاتی تھیں۔ اور زمین کی خرید و فروخت یا لین دین کی صورت میں بھی متعلقہ ملک اور خان کی رضامندی اور اجازت درکار ہوتی تھی۔ ان خوانین اورملکوں میں سے سرکردہ کے ذاتی قلعہ جات بھی ہوتے تھے۔
مذکورہ بالا اور کئی ایک اور حقوق و مراعات کے ساتھ ساتھ ان ملکوں اور خوانین کی کچھ ذمے داریاں و فرائض بھی تھیں، جن میں دوسروں اور مخالفین کے مقابلے میں اپنے متعلقہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ او ر خیا ل رکھنا، لڑائی کی صورت میں ان کی سرکردگی کرنا، جرگوں اور قبائلی اجتماعات میں ان کی نمائندگی کرنا اور ان کے مقدمات کے فیصلے کرنا وغیرہ شامل تھے۔
چوں کہ سوات کے یوسف زئی بہ حیثیت مجموعی دو متوازی دھڑوں، جنھیں عرف عام میں ڈَلے (واحد ’’ڈَلہ‘‘)کہا جاتا تھا، میں تقسیم تھے۔ لہٰذا مقامی اور علاقائی سطح پر بھی ہر دھڑے یا ڈَلے کاملک اور خان ہوتا تھا۔ تاریخ ریاست سوات و میاں گل عبد الودود المعروف باچا صاحب کی سوانح حیا ت کی ان باتوں سے بھی ان خوانین اورملکوں اور اس نظام کی اہمیت عیاں ہوتی ہے کہ ’’یوسف زئی پٹھانوں میں پارٹی کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ سلسلہ تنظیم ابتدا ہی سے چلا آرہا ہے اور اب تک بدستور قائم ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ اندرون سوات مختلف خِطّوں میں مثلاً خِطّہ بابوزئی، شامیزئی وغیرہ ہر اِک خطّے میں دو معزّز خوانین کی سرکردگی میں اس خطّے کے پٹھانوں کی دو پارٹیا ں ہو تی ہیں۔ پارٹی کا لیڈر ’خان ‘ اپنی پارٹی کے افراد کی دُنیاوی اور سیاسی مفادا ت کا نگران ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا ہے تو پارٹی کا اجلاس منعقد ہوتا ہے اور پھر اسی اجلاس میں کوئی متفقہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پارٹی کے ا فراد، پارٹی لیڈر اور پارٹی کی وفاداری اور دوستی کے پابند ہو تے ہیں۔ لیکن علاقے کی دونوں پارٹیوں میں عموماً اختلافات اور دشمنی ہوا کرتی ہے۔ شادی اور غمی کی تقریبات میں، تنازعات او ر مقدمات میں، پارٹی کا خان امداد اور تعاون بھی کرتا ہے۔ مختلف معاملات پر بحث اور مشورہ کرنے کے لیے خان کے مکان یعنی ڈیرے پر جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے افغانی روایا ت کے مطابق مہمانداری بھی خان کے فرائض میں شامل ہے۔‘‘ اور یہ کہ ’’پارٹی کے وقار اور مفاد کو ہر حالت میں مقدّم سمجھا جاتا ہے۔‘‘(ملاحظہ ہوتاریخ ریاست سوات و باچا صاحب کی سوانح حیات کے اردو نسخے کا فیروز سنز پشاور کے چھاپ شدہ ایڈیشن کے صفحات 146 تا148، جب کہ شعیب سنزمینگورہ کے شائع کردہ ایڈیشن کے صفحات -114 115 )
یہاں یہ ذکر کرنا بے جا نہیں ہوگا کہ ریاست سوات کے حکم ران باچا صاحب نے اپنی سوانح حیات میں پختودور اور اس وقت کے بعض واقعات بیان کر کے خوانین کو جابر اور پختو کے دور کو وحشت اور بربریت کا دور ثابت کرنے کی جتن کی ہے (ملاحظہ ہوتاریخ ریاست سوات و باچا صاحب کی سوانح حیات کے اردو نسخہ کا فیروز سنز پشاور کے چھاپ شدہ ایڈیشن کے صفحات 165 تا 167 اور 203 تا219، جب کہ شعیب سنزمینگورہ کے شائع کردہ ایڈیشن کے صفحات -130 131 اور 167 تا 181)۔ دوسری جانب سراج الدّین خان نے اپنی کتاب ’’سرگزشت سوات ‘‘میں پختوکے دور کے ذکر میں لکھا ہے کہ ’’خان نہ صرف اپنے قبیلے میں سیاسی اثر ورسوخ کا مالک ہوا کرتا تھا بلکہ اس کی حیثیت قبیلے کے رہنما کی بھی تھی ہر قبیلے کے لوگ اپنے خان کو اپنا راہنما، بزرگ اور ہمدرد سمجھ کر دل و جان سے اس کی عزت کیا کرتے تھے۔ اور خان کے جنبشِ آبرُو پر جان کی بازی لگانا ایک معمولی کھیل سمجھتے تھے۔‘‘جب کہ ’’ خان کے ہر دلعزیزی کے اسباب‘‘ میں سراج الدین خان نے لکھا ہے کہ ’’خان کو اگر چہ اپنے قبیلے میں ایک خود مختار حاکم کی حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی۔ مگر وہ کسی طرح بھی اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے بالا تر نہ سمجھتا تھا۔ ہر اہم معاملہ میں قبیلہ کے لوگوں کو جمع کرکے اِن سے مشورہ لیتا اور اُن کی رضا مندی اور مشورہ کے بعد کوئی اقدام کرتا تھا۔ خان قبیلہ کے لوگوں کے دُکھ درد میں برابر کا شریک رہتا تھا۔
خان میں بہادری اور دلیری کوٹ کوٹ کر بھری رہتی تھی اور جنگ کے موقعہ پر اپنے قبیلے کا کمان کیا کرتا تھا۔
خان اپنے وعدے کا نہایت پابند رہتا تھا۔ ایک دفعہ جب کسی بات کا وعدہ کیا کرتا تھا۔ اور پھر بڑے سے بڑا لالچ اور سخت سے سخت دباؤاُسے اپنی بات سے منحرف نہیں کرسکتا تھا۔ مقامی زبان میں ’’ماجبہ کڑیدہ ‘‘یعنی جس بات کا وعدہ کر چکا ہوں وہ ہو کر رہیگی۔
خان کی زندگی میں دوغلے پن اور منافقت کا شائبہ تک نہ ہوتا تھاوہی بات کہتا جو اس کے دل میں ہوا کرتی تھی۔
خان کے ہاں اگر کوئی پناہ لیتا تو پھر اس کی حفاظت کے لئے ہر قسم کے خطرات قبول کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔
خان نہایت سادہ زندگی بسر کرتا تھا اور اخلاقی لحاظ سے خان ایک مضبوط کیر کٹر کا آدمی ہو تا تھا۔ اور اپنے گھریلو معاملات کے متعلق قبیلہ کے لوگ اس پر خاندان کے ایک بزرگ کی حیثیت سے اعتماد کرتے تھے۔
غرضیکہ خان اپنے قبیلے کا ایک ایسا راہنما تھا جسے قبیلہ کے لوگ دل و جان سے عزیز رکھتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ قبائلی جنگوں میں ہر قبیلہ کے لوگ خان کی ہدایت پر ہر قسم کے خطرات سے لاپروا ہو کر لڑتے تھے۔‘‘ (سرگزشت سوات، صفحات 9-8)
درحقیقت نہ تو سارے خان و ملک اتنے جابر و ظالم تھے، جیسا کہ باچا صاحب نے ان کو پیش کیا ہے۔ نہ اتنے رحم دل و ہر دلعزیز جیسا کہ سراج الدّین خان نے پیش کیا ہے۔ یہ ہر ایک کی ذات پہ منحصر یا ذاتی خصوصیت تھی کہ وہ ظلم کرے یا رحم اور یا بین بین رہے۔ تاہم متعلقہ افراد کا خان و ملک کے انتخاب اور معزولی میں کلیدی کردار خوانین وملکوں پر بہ حیثیت مجموعی ایک روک لگانے والی قوت (ریسٹریننگ فورس) کا کام کرتا۔ اس لیے کہ کسی خان وملک کا زیادہ ظلم و جبر حتیٰ کہ کوئی غیر معقول وغیر معروف کام و اقدام اس کے منصب سے ہٹائے جانے اور معزول ہونے کا سبب و عامل بن سکتا تھا۔ لہٰذا بعض زیادتیوں اور جبر کے ہوتے ہوئے بھی خوانین وملکوں کو بہ حیثیت مجموعی اپنے قام یا عوام کا دل اور ان کے مفادات کا خیا ل رکھنا پڑ تا تھا۔
ان میں سے بعض خان اتنے بڑے اور طاقت ور تھے کہ اپنے ساتھ نا غارے ( ڈھول) رکھتے اور اس وجہ سے ’’دَ ناغارو خان‘‘ کہلائے جاتے تھے، جیسا کہ نیک پی خیل کے کوزہ بانڈئ کا ’’زرین خان۔‘‘ جب کہ بعض خوانین کی بہ حیثیت خان باقاعدہ دستار بندی کی جاتی تھی، جس کی وجہ سے انھیں ’’دَ پگڑئ خان‘‘ یعنی دستار کا خان کہا جاتا تھا۔
(جاری ہے)
1,454 total views, no views today


