کراچی: تحریک انصاف کی جانب سے پلان سی کے تحت انتخابی دھاندلی کے خلاف شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت 2 درجن سے زائد مقامات پر دھرنا دیا جا رہا ہے جب کہ شہر کی مختلف شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو نے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔نجی نیوزچینل کے مطابق تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا اپنا مطالبہ پورا نہ ہونے کے باعث شہر کے 25 چھوٹے بڑے مقامات پر دھرنے دیئے جا رہے ہیں
جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر نہ ہونے کے باعث اسکول، کالجز اور دفاتر جانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے شارع فیصل، اسٹار گیٹ، حسن اسکوائر، تین تلوار، مائی کولاچی روڈ، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سمیت شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے دیئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ٹائر جلا کر مختلف سڑکیں بلاک کر دی گئی ہیں، شہر کے متعدد علاقوں میں اسکول بھی بند ہیں جب کہ پولیس نے شہر بھر کے پٹرول پمپس بھی بند کروادیئے ہیں جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شارع فیصل پر نرسری کے مقام پر سڑک کو ٹریفک کے لئے بلاک کر دیا ہے جس کے باعث مسافروں کو ایئرپورٹ جانے میں مشکل کا سامنا ہے۔ عارف علوی کا کہنا تھا کہ پولیس نے علی الصبح کارکنوں پر تشدد کیا جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ہم پورا شہر بند کرا دیں گے، کاروباری مراکز اور ٹریفک بھی بند کرا کے نظام زندگی معطل کر دیں گے۔
صدر کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد ارشاد حسین بخاری کا کہنا ہے کہ حالات دیکھ کر گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ کریں گے جب کہ صدر سندھ تاجر اتحاد کا کہنا ہے کہ تمام تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ بزنس ایکشن کمیٹی نے بھی تمام الیکٹرانک مارکیٹیں کھلی رکھنے کا اعلان کیا ہے جب کہ ٹینکرز ایسوسی ایشن نے بھی سپلائی معمول کے مطابق جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو احتجاج کرنے سے کوئی بھی نہیں روکے گا لیکن اگر جلاؤ گھیراؤ کی کوشش کی گئی تو پولیس اس کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ عمران خان کو وزیراعلیٰ سندھ سے بھی زیادہ سیکیورٹی فراہم کی جائے گی لیکن اگر کسی نے زبردستی کاروبار بند کرانے کی کوشش کی تو قانون بھی حرکت میں آئے گا۔
426 total views, no views today


