مینگورہ، پولیو کے خلاف پہلامہم 08 دسمبر سے 11 دسمبر کو کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔جس میں سوات میں چار لاکھ آٹھ ہزار(48000) بچوں کو پولیو کے قطرے پِلائے گئے۔جس میں 1209 ٹیمیں ف تشکیل دی گئی تھی ۔جبکہ مہم میں غفلت برتنے پر ضلع سوات میں ایک ڈاکٹر مسمی رشید علی، ایک UC سیکٹری مسمی گوہر، اور ایک ای۔پی۔آئی ٹیکنیشن مسمی زین العابدین کو نوکری سے برخاست کیا گیا۔جبکہ دو ڈاکٹروں مسمی فخرِعالم ، مسمی روی کمار اور 6 ٹیکنیشنز مسمی ثاقب، مسمی امیر زیب، مسمی شا سمبال، مسمی شاہدانور، مسمی ایوب خان اور مسمی محمد غفار کو معطل کیا جا چُکا ہے۔ جبکہ متعدد کو شوکاز نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔پولیو کی دوسری مہم ضلع سوات میں خصوصی طور پر 15 دسمبر سے جاری ہے ۔جو کہ 18 دسمبر تک جاری رہیگاَ ۔جس میں چار لاکھ سے زائیدبچوں کو قطرے پلائے جائنگے۔جس کے لیئے 1209 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔جو گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے جائینگے۔ٹیموں کی نگراں کے لئے 228 سُپروائزرز اور مختلف محکموں کے سر براہان اور نمائندوں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔ تا کہ کو ئی بھی بچہ پولیوں کے قطروں سے محروم نہ رہے۔پو لیوکی تیسری مُہم 22 سے 25 دسمبر تک چلائی جائیگی۔ ڈپٹی کمشنر سوات نے تمام متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایات دی ہیں کہ پولیو مہم کے دوران پورا دِن خود اسکی نگرانی کریں۔ اور تمام محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو یقینی بنائے۔عوام الناس سے التماس ہے کہ پو لیوٹیم سے تعاون کرے اور اپنے بچوں کو پولیوکے قطرے پلائے۔تاکہ اُنکے بچے پولیوجیسے خطرناک بیمارے سے محفوظ رہے۔
874 total views, no views today


