پشاور، پشاور میں ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے سکول میں گھس کر حملہ کر دیا حملے کے دروان ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جب کہ دیگر نے بچوں و سکول عملے کو یرغمال بنا لیا حملے کے نتیجے میں سیکورٹی اہلکار،خاتون و ٹیچر سمیت 141 طلبا شہید ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں بچے زخمی ہو گئے
اور ہلاکتوں میں اضافے کا حدشہ ہیزخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال پہنچا یا گیا متعددزخمیوں کہ حالت نازک بتائی جاتی ہیں جب کہ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین سکول کے اندر گھنٹوں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اودمتعد ددہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے حملے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے پشاور بھر کی سڑکوں کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بلاک کرکے سرچ آپریشن شروع کیااور دن بھر ہیلی کاپٹرز پشاور میں فضائی نگرانی کرتے رہے جب کہ حملے کی خبر کے بعد پشاور بھر کے سکولوں میں بچوں و طلباء کو بند کرکے والدین کو اطلاع دی گئی
اور والدین بچوں کے لیے سکولوں کا رخ کرنے لگے پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی منگل کے روز دہشت گردوں نے ورسک روڈ پر واقع آرمی سکول پر اس وقت حملہ کیا جب نویں اور دسویں جماعت کے طلبا کے اعزاز میں ایک تقریب ہو رہی تھی۔
سکول میں اچانک دھماکا ہوا اور پھر فائرنگ شروع ہوگئی۔ دہشت گردوں کی فائرنگ سے متعدد طلبا اور ٹیچر زخمی ہوگئے۔ حملے کے بعد ایک دہشت گرد نے سکول کے اندر کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں سیکورٹی اہلکار،خاتون و ٹیچر سمیت 132 طلبا شہید ہوگئے جب کہ بڑی تعداد میں بچے زخمی ہو گئے جب کہ دیگر دہشت گردوں نے طلباء و بچوں اور سکول عملے کو سکول کے اندر یرغمال بنا لیا سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین فائرنگ کا کئی گھنٹوں تبادلہ ہوتا رہا ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پہلے اپنی گاڑی کو آگ لگائی پھر سکول میں داخل ہوئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر سکول کو گھیرے میں لے لیا۔
اس دوران سیکورٹی فورسز کا ہیلی کاپٹر بھی سکول کے اوپر نچلی پرواز کرتا رہا۔ سیکورٹی فورسز ذرائع کے مطابق طالبعلموں اور اساتذہ کی بڑی تعداد کو سکول سے نکال لیا گیا تاہم بہت سے بچے اور اساتذہ سکول کے اندر موجودرہے جن کو یرغمال بنایا گیا۔
حواس باختہ مائیں اور والدین اپنے بچوں کی تلاش میں سکول کے باہر منتظر رہے ۔ وزیر اعلی پرویز خٹک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا اب تک دو ہسپتالوں میں 104 بچوں کی شہادت ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا خیبر پختونخوا حکومت اس دل خراش واقعے پر تین دن سوگ منائے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکول میں محصور بڑی تعداد میں بچوں اور اساتذہ کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے جبکہ مزید بچوں کو نکالنے کے لئے ریسکیو آپریشن بھی کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جوانوں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا بتادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا دوسری طرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہسپتال لائے گئے زخمیوں میں سے کئی بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔حملے کے بعد پشاور بھر کی سڑکیں ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں اور لوگ پیدل سفر کرتے رہے جب کہ پشاور بھر میں سرچ آپریشن جاری رہا اور دن بھر پشاور میں ٹریفک جام رہا ۔ اور دن بھر پشاور میں ہیلی کا پٹرز فضائی نگرانی کرتے رہے سکول پر دن دیہاڑے بڑےء حملے کے بعد پشاور بھر کے سکولز فوری بند کر دیئے گئے اور بچے والدین و رشتہ داروں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے رہے ۔
750 total views, no views today


