دس دسمبر کو سوات کی سترہ سالہ لڑکی اور خود غرض، دولت اور شہرت کے لالچی شخص ضیاء الدین کی بیٹی ملالہ یوسف زی کو آخر کار نوبل انعام سے ’’نواز‘‘ ہی دیا گیا۔ مغرب نے اپنے مفادات کے لیے نوبل پرائز میں بھی دونمبری کرکے انھیں یہ انعام دلوایا۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ دو افراد کو بہ یک وقت مذکورہ ایوارڈسے نوازا گیا ہے۔ یہاں اگر میں غلطی پر نہ ہوں، تو انڈیا کے احتجاج پر کیلاش کو بھی پاکستان کی ملالہ کے برابر لا کر کھڑا کیا گیا۔ میں داد دیتا ہوں کیلاش ستھیارتی کو کہ ان کی ہندی اوسلو کے ہال سمیت پوری دنیا میں گونجتی رہی، لیکن افسوس کہ اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے ملالہ نے اپنی قومی زبان اردو کو نظر انداز کرتے ہوئے انگریزی میں تقریر شروع کی۔ یہاں تک کہ اس کا خاتمہ بھی انگریزی ہی میں کیا۔ شاید یہ بھی اس نے اپنے ضمیر فروش باپ کے کہنے پر کیا ہوگا۔
ملالہ نے ایک بار پھر پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے نیچا دکھانے کی کوشش کی اور یہ بھی نہیں سوچا کہ آج مجھے پاکستان کے نام سے پہچانا جارہا ہے۔ خیر، اس کو تو ’’آئی ایم ملالہ‘‘ کی طرح پہلے ہی سے ایک تیار اسکرپٹ دیا گیا تھا کہ اس سے ایک لفظ زیادہ نہیں کہنا ہے۔ اس نے ایک بار پھر کہا کہ سوات میں بچیوں کا اسکول جانا جرم تصور کیا جاتا ہے۔ خیر، اب تو آپ مغرب میں قید ہیں اور میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کو پاکستانی ٹی وی چینل بھی دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی کہ آپ دیکھ لیں کہ سوات کی بچیاں کس طرح آزادی کے ساتھ اسکول جارہی ہیں۔ ان پر کسی قسم کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ آکر دیکھ لیں کہ یونی ورسٹی آف سوات میں لڑکیاں کو ایجوکیشن حاصل کررہی ہیں اور ان پر کوئی قد غن نہیں ہے۔ اب تو ماشا ء اللہ ’’انشاء‘‘ (میری بیٹی) بھی پلے گروپ میں داخلہ لے کر پڑھ رہی ہے، لیکن میں آپ کے باپ جیسا نہیں کہ اس کو دولت اور شہرت کی لالچ کے لیے اسکول بھجوارہا ہوں۔ میرا ضمیر اس بات پر مطمئن ہے کہ اس کو پڑھا لکھا کرڈاکٹر بنا ؤں، تاکہ اس معاشرے کے بے سہارا لوگوں کی خدمت کر سکے۔ آپ کی طرح پوری دنیا میں وہ میرا اور اپنا نام مٹی میں نہیں ملائے گی۔
ملالہ آپ ابھی بچی ہیں۔ شاید آپ کو یاد ہو یا آپ جان بوجھ کر اس کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو کہ جب سب سے پہلے سوات سے آپ کا لالچی باپ آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو لے کر یہاں سے ایبٹ آباد فرار ہوا تھا اور پھر جب لوگ جولائی 2009ء میں واپس آئے، تو آپ کے والد دسمبر میں واپس آئے۔ انھوں نے اس دھرتی کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا جس میں آپ بھی شریک تھیں اور آپ کے والد کے مٹھی بھر ساتھی بھی۔ اب تو سوات کے علاوہ پوری دنیا میں آپ کے گن گائے جا رہے ہیں اور ایسا سوات میں اس وجہ سے نہیں ہے کہ سوات کے لوگ آپ کو اور آپ کے والد کی اصلیت کو جانتے ہیں کہ آپ نے اور آپ کے لالچی والد نے یہاں پر امن کے قیام میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
اس وجہ سے آج آپ کے والد لوگوں میں پیسوں کی بندر بانٹ کرکے اپنے لیے ہم درد بنانے کی ناکام کو شش کر رہے ہیں لیکن کتنوں کو آپ کے والد ویزے دے کر ہم دردی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ اور آپ کے والد نے کائنات اور شازیہ کو بھی اپنے والدین سے جدا کیا ہے۔ آپ اب بھی انھیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ان کا حق نہیں بنتا کہ ان کے والد ین بھی انگلینڈ چلے جاتے اور ان سے ملاقات کرتے؟ آپ کے خاندان کے تو وہ لوگ آرہے ہیں جنھوں نے پشاور تک کا سفر نہیں کیا تھا۔ آپ کے لالچی باپ نے آپ کو یہاں تک پہنچانے کے لیے کتنے بچوں کا استعمال کیا؟ اور جب ان بچوں کے والدین کو آپ لوگوں کی اصلیت کا پتہ چل گیا، تو کتنے والدین نے اپنے بچوں کو آپ کے اسکول سے نکال دیا۔ اس ڈر سے آپ کے والد نے آپ کے اسکول کے بچوں کو میڈیا کے سامنے لانا بند کردیا ہے۔
بہت افسوس ہو رہا ہے کہ آپ نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کے سامنے چپ رہنے کی بجائے آپ نے ان کا جواب دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوات کے لوگوں کو آپ کے خاندان کا فرار ہونا تاحال یاد ہے۔آپ تو ایک چھوٹی سی بچی ہیں جب کہ یہاں پر تو بڑے بڑے سورماؤں نے ان کے سامنے اُف تک نہیں کی اور آج آپ بڑی تیس مار خان بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اب اس مقام پر آپ پہنچ کر سکول بنانے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔ آپ کے فنڈ کے پیسوں سے تو بند ر بانٹ ہورہی ہے۔ آپ کے والد اپنے ’’سابق‘‘ این جی او کو آگے کرکے کی کوشش کر رہے ہیں، تو اس میں اسکول بنانا کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ آپ اسکول کے خواب کیوں دیکھ رہی ہیں؟ اگراس سے ہماری بدنامی اور ہماری مٹی کو پلید کرنے کی کوشش کی جائے گی، تو نہیں چاہیے سوات کے لوگوں کو آپ کا یہ اسکول۔ سوات میں پہلے سے تعمیر شدہ سترہ سو اسکول کافی ہیں، ہمارے بچے اور بچیوں کے لیے۔آپ کے ایک اسکول سے یہاں کی بچیوں کا کچھ بھلا ہونے والا نہیں۔ آپ تو سوات کا نام استعمال کر رہی ہیں۔ لیکن اپنے آبائی علاقہ شانگلہ کویکسربھلا چکی ہیں۔آپ کو پتہ ہے کہ شانگلہ میں لڑکیوں کے لیے کالج تک نہیں ہے اور آپ نکلی ہیں پوری دنیا کو تعلیم سے روشناس کرانے۔
پاکستان میں بچوں کی کم عمری کی شادی کی بات کرنے سے آپ کے والد نے بھی آپ کو نہیں روکا اور نہ ہی اس اسکرپٹ پر احتجاج کیا کہ ایسا ہمارے ملک میں نہیں ہے۔ آپ کے ’’غوربند‘‘ میں ہوگا لیکن ایک علاقہ یا چند والدین کی وجہ سے آپ نے پورے ملک کو بدنام کرنے کی سازش کی ہے۔ آپ نے اس حدیث کی بھی نفی کی ہے کہ جب بیٹیاں بالغ ہو جائیں، تو ان کی شادیاں کیا کریں۔ کیوں کہ بالغ بیٹی کے گھر میں ہونے سے اس گھر پر عذاب مسلط ہوتا ہے ۔
’’پاکستان میں اسلحہ دینا آسان اور تعلیم دینا مشکل ہے، ٹینک بنانا آسان اور اسکول بنانا مشکل ہے۔‘‘ شاباش ملالئی، آپ نے والئی سوات دور کے ان سیکڑوں اسکولوں کو مکمل نظر انداز کیا جو کہ 1940ء سے بنے ہیں۔ پاکستان بننے سے بھی پہلے آپ سوات میں خواتین کی شرح خواندگی نہیں دیکھ پا رہی ہیں یا جان بوجھ کر ہماری مٹی کو پلید کرنے کا عزم کیا ہوا ہے۔
ملا لئی، اس کے آگے کوئی اور اعزاز نہیں ہے کہ آپ کو مل جائے اور یہ فطرت کی بات ہے کہ عروج کے بعد زوال یقینی ہوتا ہے۔ کیوں کہ ایک اللہ کی ذات قائم ہے، باقی سب فانی ہے۔ یہ دولت، یہ عزت، یہ شہرت سب آنے جانے والی چیزیں ہیں۔ اس بات پر اب آپ کے والد محترم سوچ بھی رہے ہیں لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ آپ نے ہمارے ملک کی جو عزت کی ہے، وہ یہاں کے لوگ عشروں تک یاد رہے گی۔
آپ نے 2015ء میں پاکستان آنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ملالہ آپ وہاں انگلینڈ میں قیدی کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں اور یہی حال پاکستان میں بھی آپ کا ہوگا۔ کیوں کہ اب آپ پاکستان کی پراپرٹی نہیں رہی ہیں۔ آپ کے لیے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیومیں جگہ تیار کی جارہی ہے جس کا ذکر میں پہلے انھی سطور میں کرچکا ہوں۔ اگر وہ 2015ء تک مکمل ہوگا تو ہی آپ آسکیں گی۔ وہ بھی ایک قید سے نکل کر دوسری قید میں۔
ڈر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو یہ بھی ہے کہ خدا کرے کہ آپ جلد ہی واپس آجائیں۔ کیوں کہ اگر آپ کے اٹھارہ سال پورے ہوگئے، تو پھر کیا ہوگا؟ اب بھی آپ کے والد کا آپ پر کنٹرول نہیں ہے۔ اور مادر پدر آزاد معاشرے میں لڑکی بالغ ہونے کے بعد تو وہ آوارہ پنچھی کی طرح بن جاتی ہے۔
ملالئی، آپ نے بیس سال میں خود کو پاکستان کے وزیر اعظم ہونے کا خواب بھی دیکھ لیا، نہ تو آپ مدر ٹریسا ہیں نہ بے نظیر بھٹو اور نہ ہی آپ کا یا آپ کے والد کا قد اتنا بڑا ہے کہ آپ اتنی سی شہرت اور دولت برداشت نہ کرسکے۔ ملالئی، آپ تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود تک نہیں بھیج سکیں۔ داڑھی کا مذاق اڑایا۔لیکن، خیر اس ملک کے لوگ ابھی اتنے بے حس نہیں ہوئے ہیں کہ آپکے خواب کو شرمندۂ تعبیر کریں گے۔ دودھ پیتی بچی یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ بھی مغرب کے اشاروں میں اپنی بولی تک بھول جائیں۔
اپ نے نہ تو اپنے نوبل پرائز سرمنی میں سوات کی ان بے سہارا بچیوں کا ذکر کیا جن کو آپ سیڑھی بنا کر مزید کمانا چاہتی ہیں۔ مینگورہ شہر کے چوراہوں میں بھوکے ننگے بچوں کو نہیں دیکھا آپ نے؟ ان کے گھروں میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے کہ وہ اسکول کیوں نہیں جاتے۔ آپ نے تھیمز ہوٹل (حالیہ دارالقضاء )کی اس بچی کا بھی ذکر نہیں کیا جس کے والد کی ٹکڑوں میں تقسیم لاش اس کے گھر کے صحن میں لاکر رکھ دی گئی اور اس کی معصوم بہن آج تک اپنے والد کا انتظار کر رہی ہے۔ وہ اپنے ماں سے صرف ایک بات پوچھتی ہے کہ ابو کب آئیں گے۔ آپ نے جاوید اقبال شہید کی نماز جنازہ میں ہونے والے خودکش کا ذکر تک گوارا نہیں کیا کہ جس نے باسٹھ خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ صرف ایک مکان باغ سے پینتیس لاشوں نے پورے سوات کی فضا کو مغموم کیا تھا۔
آپ نے مٹہ کے اس ملالئی کا ذکر کیوں نہیں کیا جس نے تن تنہاطالبان کا مقابلہ کرتے ہوئے پانچ طالبان کو مارڈالا تھا۔ آپ نے مٹہ کے سدید خان کی فیملی پر ایک جملہ ادا نہیں کیا کہ انھوں نے کیا قربانیاں دی ہیں۔ آپ کو پیر سمیع اللہ کی خدمات نظر نہیں آرہی ہیں کہ وہ تین روز تک طالبان کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوگئے تھے۔ ان کے جسد خاکی کو بموں سے اڑایا گیا تھا۔ آپ کو شور کے عبدالکبیر خان کا وہ خاندان بھی یاد نہیں رہا، جنھوں نے تن تنہا رات بھر طالبان کا مقابلہ کیا۔ ان کی ملالئی اپنے والد کے لیے میگزین بھر رہی تھی اور جب ان کے پاس اسلحہ ختم ہوا، تو طالبان نے ان کے گھر پر تیل چھڑک کر ان کے پورے خاندان کو جلا ڈالا۔ خیر، آپ کے اسکرپٹ میں تو یہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی آپ کے محترم والد صاحب نے اس پر اعتراض کیا کہ ان واقعات کو اسکرپٹ میں شامل کریں۔ان کوتو صرف اپنی تجوری بھرنے کی فکر ہے اوربس۔ جاتے جاتے مبارک باد وصول کرتے جائیں۔ میری طرف سے آپ کو نوبل انعام بہت بہت مبارک ہو۔
770 total views, no views today


