کچھ باتیں عام فہم ہوتی ہیں۔ ہر کسی کو اُن عام باتوں سے اتفاق ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود جب ایک تخلیق کار ان عام سے خیالات کو خاص بنانے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ کچھ خاص الفاظ اور انداز اپنا کر انھیں بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عام سے خیالات یا عام فہم باتیں متاثر کن نتائج کی حامل بن جاتی ہیں۔ خواہ وہ شاعرانہ اندازِ بیاں ہو یا بیانیہ طرزِ تحریر، یہی کمال تخلیق کار کہلایا جاتا ہے۔
بجلی کا آنا اور جانا کوئی نئی اور حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ لوگوں کو اس اطلاع سے آگاہ کیا جائے۔ اسی طرح گیس کا غائب ہوجانا بھی عجیب بات نہیں ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقی اور قوم کی بھلائی کے لیے اس طرح کی بچت کرنا درد مند دل رکھنے والے حکم رانوں کا وطیرہ ہوا کرتا ہے۔
اذانِ فجر سے بیس پچیس منٹ قبل برقی رو کا سلسلہ منقطع کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ یہ بچت اور احتیاط کا تقاضا ہے۔ اس لیے کہ جب اذانیں شروع ہوجاتی ہیں، تو تقریباً آدھے گھنٹے تک مسلسل یہ مقدس صدا گونجتی رہتی ہے۔ کافی بجلی خرچ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اسی خدشے اور بچت کی غرض سے بجلی بند کردی جاتی ہے۔ یوں اذانیں بھی مفت میں پایۂ تکمیل تک پہنچ جاتی ہیں اور با جماعت نماز بھی۔ پھر جب بجلی کا سلسلہ بہ حال ہوجاتا ہے، تو خیر سے گیس غائب ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ تب تک عام لوگ نیند سے بیدار ہوکر ناشتہ تیارکرنے کی تدبیر کرنے لگتے ہیں۔ یہاں بھی قوم کے لیے بچت کرنے کا سوچ کر اسے گیس جیسی قدرتی نعمت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ عجیب سی درد مندی ہے۔ قوم کو بجلی اور گیس کی سہولت سے محروم کرکے اسی قوم کے لیے بچت کی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں شاید کوئی ایسا ملک ہو جس کے حکم ران قوم سے اس قدر اندھی محبت رکھتے ہوں۔ جس طرح اس ملک کے حکم ران۔
ایک بجلی اور گیس کی عدم سہولت پر ہی کیا موقوف ہے۔ یہاں تو ہر میدان در دستِ آفت و آلام، گرفتار ہے۔ مہنگائی اور پھر خود ساختہ مہنگائی نے تو گویا سونے پہ سہاگا پھیر ڈالا ہے۔ ہر کس و ناکس نے بہ صورتِ دکان دار کسی ایک ہی چیز کی قیمت اپنی ہی مرضی سے طے کر رکھی ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہ دکان دار ہوتا ہے اوربجائے گاہک کے دکان دار بادشاہ ہوتا ہے۔ جب تک اس کی بادشاہت قائم رہے گی۔ ریٹ کنٹرول نہیں ہوگا۔ کچھ دکان دار اچھے بھی ہوتے ہیں۔ مگر کچھ۔۔۔ خیر جس ریاست میں آوے کا آوا بگڑ جائے وہ بگڑ جاتی ہے۔ انفرادی طور پہ اگر ہر کوئی اپنا احتساب کرتا رہے، تو پھر حالات کو قابو میں کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہی حال رہا، تو ان شاء اللہ یہی حال رہے گا۔ پھر مجبوراً اسی حال میں گزارہ کرنا پڑے گا۔
خود شناس لوگوں میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ لوگ معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ جو لوگ معاشرے میں اچھی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، وہ خوش نصیب ہوتے ہیں۔ اور انھیں مسرت کا احساس رہتا ہے۔ کیوں کہ خاص و عام میں مقبولیت حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔
خود شناسی اور خود احتسابی میں گہرا ربط ہے۔ یہ دونوں اوامہ انسان کو متحرک رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔
پروفیسر چون این شانگ کہتا ہے:’’اگر کوئی شخص اس دنیا میں کوئی کام نہیں کرتا، تو اس کے اس دنیا میں آنے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔‘‘
وہی لوگ کام کرتے ہیں جو کام کرنا چاہیں۔ کام کا طریقہ کار بھی معلوم ہونا ضروری ہے۔
خود شناس لوگوں میں دیگر لوگوں کے مقابلے میں قوت ارادہ اور اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔
خود شناس لوگ معاشرتی ہم آہنگی سے بھی کافی حد تک واقفیت رکھتے ہیں۔
احتساب ایک ایسے نفسیاتی اور ذہنی عمل کا نام ہے جو کامیابی و ناکامی کی نشان دہی کرنا سکھادیتا ہے۔
احتساب مثبت سوچ بیدار کرنے میں مدد دیتا ہے۔
احتساب کے عمل سے خود شناسی کے عمل میں پختگی آتی رہتی ہے۔
محاسبہ حقیقی زندگی کی حقیقتوں سے آگاہ کرنے میں مدد گار ہے۔
نام اور شہرت کے حصول میں ہمارے خواب ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اچھے اور اونچے خیالات ہمیں سر بلند کرسکتے ہیں۔ جب ہم اپنے آپ کو سر بلند سمجھنے لگتے ہیں، تو ہم سر بلند ہوجاتے ہیں۔
کمپیوٹر بے شک علم کا خزانہ ہے۔ اس میں ہر قسم کی معلومات موجود ہیں۔ یہ رابطے اور کاروباری لین دین میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ کے حوالے سے بھی بے بدل ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ اس میں مختلف اقسام کے حساس پرزہ جات نصب ہیں جن کے ذریعے انٹرنیٹ جیسی سہولت بھی میسر ہوجاتی ہے۔ نیٹ کا منفی پہلو بھی موجود ہے، مگر یہاں بیش بہا علم اور منفعت کی بات ہورہی ہے کہ نیٹ نے دنیا کو گاؤں کی شکل میں بدل دیا ہے اور علم کا ایک وسیع ذخیرہ اس کے ذریعے محفوظ ہے۔ اس میں محفوظ شدہ علم ہمارے لیے مفید تر ہے، مگر یاد رکھیے کہ نیٹ میں موجود یا کمپیوٹر کا علم انسان کے ماخوذ ہے۔ نیٹ یا کمپیوٹر خود سے عالم و فاضل نہیں۔ اور انسانی علم میں کوتاہی بھی ہوسکتی ہے۔ مسائل ہر آن تحقیق طلب ہوتے ہیں۔ اسی طرح موبائل نے انسانی زندگی میں ہلچل مچا رکھی ہے، اس کے بھی دو پہلو ہیں، مثبت پہلو اور منفی پہلو، اس کے فوائد پہ اگر غور کیا جائے، تو اس میں کوئی شک نہیں، موبائل رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اس کی مزید تعریف کی ضرورت نہیں ہے۔
اگر میسجزکی بات کی جائے، تو اس نے بے شمار لوگوں کو گویا ’’باؤلا‘‘ کر رکھا ہے۔ ہر وقت، ہر آن اور ہر گھڑی میسجز ہو رہے ہیں۔ جانے کیا کیا باتیں مصنوعی سیارے کے بل پہ ایک جگہ سے دوسری جگہ سے سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ ہر قسم کی گفت گو بہم پہنچتی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ ہزاروں میل دور موجود باورچی خانہ میں پکے ہوئے کھانوں کی تفصیل معلوم کرنا بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ میسجز کے ذریعے جو معلومات دی جاتی ہیں، اُن میں بھی سقم واقع ہوسکتا ہے۔ آنکھیں بند کرکے ان معلومات پر یقین کرلینا بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔
خصوصاً دینی معلومات، کیوں کہ بلا تصدیق بغیر کسی حوالے یا سند کے کسی بات کو پلے باندھ لینا، ہوسکتا ہے کہ درست نہ ہو اور باعث عتاب بن جائے۔ لہٰذا یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ نیٹ یا موبائل کی فراہم کردہ معلومات پتھر پہ لکیر نہیں ہوتیں۔ اس طرح کے علم یا معلومات میں احتیاط برتنا بھی ضروری ہے۔ کما حقہ یقین کرلینا یا پھربہ الفاظ دیگر ایمان لانا۔
ان ذرائع کے ذریعے کچھ معلومات فردِ واحد کے تخیلات بھی ہوسکتے ہیں جو کہ اسے (نیٹ کو) مؤثر ذریعے کے طور پہ استعمال کرکے لوگوں کے ذہنوں میں منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کرسکتا ہے۔ فیس بک ہر قسم کی معلومات اور ہر کس و ناکس کی دسترس میں ہے۔ خیر، معلومات بہم پہنچانے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے دونوں صورتوں میں احتیاط سے کام لینا دانش مندی ہے۔
730 total views, no views today


