سوات(سوات نیوز)چیئرمین ڈیڈک ایم پی اے و صدر پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ڈویژن فضل حکیم خان نے کہا ہے کہ کورونا وباء کے باعث لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے ہر طبقے کا پورا پورا احساس ہے، حکومت اس ضمن میں تمام ضروری اقدامات اُٹھا رہی ہے، احتیاطی تدابیر کے ساتھ لاک ڈاؤن کو حکومت نے ضروری قرار دیا ہے، سوات سیاحتی علاقہ ہے اور یہاں کے لوگوں کا دارومدار سیاحت سے وابستہ ہے لاک ڈاؤن کے باعث دیگر کاروباری طبقوں کے ساتھ ہوٹل انڈسٹری کو بھی زبردست دھچکا لگا ہے،ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ بیروزگار ہونے والے لوگوں کا بھی احساس ہے اس ضمن میں بہت جلد ہم وزیراعلیٰ کو بھی ہوٹل اور ریسٹورنٹس مالکان کی تشویش سے آگاہ کریں گے وہ گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ مینگورہ میں آل سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے ملاقات کر رہے تھے جس کی قیادت آل سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان کر رہے تھے وفد میں جنرل سیکرٹری وکیل احمد اور دیگر عہدیداران بھی شریک تھے، وفد نے طویل لاک ڈاؤن کے باعث ہوٹل انڈسٹری کی بندش کے حوالے سے بیروزگار ہونے والے لوگوں اور تشویش سے آگاہ کیا وفد کا کہنا تھاکہ سوات چونکہ سیاحتی علاقہ ہے اور یہاں کے 30 فیصد لوگوں کا دارومدار سیاحت سے وابستہ ہے لاک ڈاؤن کے باعث 800 کے قریب ہوٹلز بند ہو چکے ہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں لہذا اگر حکومت ایس او پیز کے تحت ہوٹل انڈسٹری کو چالو کرنے کی اجازت دیں تو یہ لوگ مزید بیروزگاری سے بچ جائیں گے چیئرمین ڈیڈک ایم پی اے فضل حکیم خان نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام اور وزیراعلیٰ سے بات چیت کریں گے انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کے مشکلات کا پورا پورا احساس ہے لیکن ان لوگوں کی قیمتی جانوں کو بھی ضائع نہیں کیا جا سکتا، لاک ڈاؤن کے باعث ہر طبقہ متاثر ہوا ہے اس سلسلے میں حکومت تمام ضروری اور دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
1,038 total views, no views today



