ضلع سوات میں طالبان کے بعد ’’نامعلوم افراد‘‘ سوات کے امن پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے ضلع سوات بالعموم جب کہ مینگورہ شہر اور گرد نواح میں بالخصوص قتل کی وارداتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ بھرے بازار میں بلا خوف و خطر گولیاں برسا کر نظروں سے ایسے اوجھل ہوجاتے ہیں جیسے انھوں نے سلیمانی ٹوپی پہنی ہو۔ کبھی کبھار تو پولیس کی موجودگی میں بھی یہ اپنا کام کرکے رفو چکر ہوجاتے ہیں۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سوات کے عوام کو طالبائزیشن کے بعدمذکورہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کا سامنا ہے، جس کاپتہ لگانے میں تادم تحریر تمام ادارے مکمل طور پر نا کام ہیں۔ شاید موجودہ وقت میں ’’سوات‘‘ پاکستان کی واحد جگہ ہے جہاں انسان کی قیمت ٹماٹر سے بھی کم ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ باآسانی گولیوں سے بھون دیا جا سکتا ہے۔ اور واردات کے بعد اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا۔
اب تو نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ صبح گھر سے نکلتے وقت ایک عام آدمی کی یہی فکر ہوتی ہے کہ شام کو وہ اپنے گھر زندہ سلامت جا سکے گا کہ نہیں۔ حالاں کہ سارے پاکستان میں ماشاء اللہ ’’سوات‘‘ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے عوام کے تحفظ کے لیے درجنوں ادارے کام کرہے ہیں مگر پھر بھی تحفظ نامی شے یہاں مفقود ہے۔
ایک طویل جنگ جس میں لاکھوں لوگ اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو کرپشاور، مردان، صوابی اور ملک کے دیگر حصوں میں واقع کیمپوں میں آباد ہوئے اور کئی ماہ سخت مشکلات میں گزارے۔ صرف اس لیے کہ انھیں چین اور سکون کی زندگی نصیب ہو۔ شریعت کے نام پر شروع ہونے والے اس گھناؤنے کھیل میں اب تک سوات کے ہزاروں بے گناہ لوگ جاں سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔جب کہ سیکورٹی فورسز، پولیس، ایف سی اور دیگر اداروں کے جوان بھی اس جنگ میں زندگیاں قربان کرچکے ہیں مگر اس طویل جنگ کے وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس میں دو رائے نہیں کہ سوات کے عوام تاحال ایک انجانے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ طالبائزیشن کے بعد سوات کے عوام ’’نامعلوم افراد‘‘ کی شکل میں ایک نئے عذاب کا شکار ہوچکے ہیں۔ موجودہ وقت میں یہ ایک نام عوام کے لیے خوف کی علامت بن چکا ہے۔
اور تو اور اب تو ’’نامعلوم افراد‘‘ کے خوف سے مقامی امن کمیٹی کے کئی ممبران ملک چھوڑ کر باہر جا چکے ہیں اور جو نہیں گئے ان میں سے کئی جانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔
گزشتہ دنوں مینگورہ شہر میں تین دن کے دوران میں دو افراد کے قتل نے شہریوں کو مزید پریشان کیا۔ دونوں افراد جس میں مینگورہ سے تعلق رکھنے والے معروف معالج نذیر بابو صاحب جس کے بارے میں ہر شخص کی زبان پر یہی بات ہے کہ موصوف ایک بے ضرر انسان تھے اور ہمیشہ مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف جتھے رہتے تھے۔ انھوں نے کسی کو تکلیف دی نہ کسی کے معاملات میں دخل اندازی ہی کی۔ کچھ دن پہلے کلینک سے گھر جاتے ہوئے کسی ’’نامعلوم فرد‘‘ کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ آپ کے قتل سے تین دن پہلے نشاط چوک میں واقعہ رکشہ اسٹینڈ کے اندر سیدو شریف شگئی سے تعلق رکھنے والے حسین علی کو قتل کیا گیا جب کہ قریب ہی پولیس اہل کار چوک میں ڈیوٹی پرموجود تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ کچھ ہی فاصلہ پرتھانہ مینگورہ واقعہ ہے مگر پھر بھی اسلحہ سے لیس ’’نامعلوم فرد‘‘ یا افراد نے باآسانی فائرنگ کی اور ’’فرار‘‘ ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حسب سابق دونوں قتلوں کی ایف آئی آر ’’نامعلوم افراد‘‘ کے خلاف درج کرکے داخل دفتر کی گئی۔ جب کہ قاتلوں کے بارے میں تاحال پتہ نہ چل سکا اور قوی امید ہے کہ حسب سابق ان کیسوں کا وہی حشر ہوگا جو اس پہلے درج شدہ درجنوں کی تعداد میں ایف آئی آروں کاہوا ہے۔
برسبیل تذکرہ، کچھ دن پہلے اپنے ایک عزیز کے ساتھ کچہری جانے کا اتفاق ہوا۔ایک معزز جج کی عدالت کے باہر لگے نوٹس بورڈ پر ایک کیس دیکھنے کو ملا جس میں سرکار کا مقابلہ نامعلوم کے ساتھ تھا۔ میں حیران رہ گیا کہ چلو سرکار کا تو وجودموجود ہے، کوئی نہ کوئی وکیل پیش ہوگا۔اپنی دلائل دے گا۔ اپنے مؤکل کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے سچ اور جھوٹ بولے گا، مگر ’’نامعلوم‘‘ کی طرف سے کون پیروی کرے گا؟ جو اپنے مؤکل کا دفاع کرسکے۔
قارئین کرام! اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ سوات میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کا رائج قائم ہوچکا ہے۔ کیوں کہ سوات میں ’’نامعلوم‘‘ واحد نام ہے جس کو سنتے ہی بڑے بڑوں کی سیٹی گم ہوجاتی ہے۔
یہ ہی نہیں نامعلوم افراد کے معاملے میں منتخب ممبران سمیت تمام اہم سیاسی شخصیات جن کا سوات کے حوالے سے اہم کردار ہے، مکمل خاموش ہیں۔ سیاسی شخصیات جب بھی بولتے ہیں، تو ان کے منھ سے پہلی بات یہی نکلتی ہے کہ سوات کو امن کا گہوارہ بنائیں گے مگر آج تک ’’نامعلوم افراد‘‘ کی کارروائی کی مذمت نہیں کی گئی۔ سب جانتے ہیں ماسوائے سیاسی شخصیات کے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کی وجہ سے امن میں خلل ہے مگر پھر بھی خاموشی پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔
جملہ معترضہ ہی سہی مگر ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کا قیامت کے دن سے پہلے معلوم ہونا کرشمہ ہی ہوگا۔ کیوں کہ ان کو معلوم کرنے کی صلاحیت ہمیں تاحال حاصل نہیں ہوئی۔ اگرچہ اس کے لیے ہمارے تمام تر وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔
یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کی کارروائیاں سیکورٹی اداروں کے حق میں نہیں ہیں۔ کیوں کہ یہاں کے عوام روز اول سے سیکورٹی اداروں پر بڑا اعتماد راور یقین رکھتے چلے آئے ہیں کہ ان کی موجودگی سے انھیں تحفظ حاصل ہے، مگر ایک ایسی قوت جس کے نام پر مسلسل وارداتیں ہو رہی ہیں، مقامی لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ ان حالات سے بھرپور فایدہ اٹھانے کے کوششوں میں مصروف ہیں۔ حالاں کہ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہی ہے کہ بیش تر وارداتیں ان جگہوں پر ہوئی ہیں جہاں سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات ہوتے ہیں۔ انتہائی سیکورٹی والی جگہوں پر ’’نامعلوم افراد‘‘ نے اپنا شکار انتہائی آسانی سے کیا ہے اور باآسانی فرار بھی ہوئے ہیں۔ حالاں کہ ان ’’نا معلوم‘‘ کو معلوم کرنے کے لیے سرچ آپریشن بھی ہوئے، کرفیو بھی لگایا گیا مگر نتیجہ ہمیشہ صفر۔
اگر یہ سلسلہ جاری رہا، تو بعید نہیں کہ جس جنگ کو حتمی شکل دینے کے لیے اتنی قربانیاں دی جا چکی ہیں، وہ سب ان ’’نامعلوم افراد‘‘ کی وجہ سے رائیگاں جائیں گی۔
قارئین کرام! پچھلے چند دنوں سے حالات بہتری کی جانب گام زن ہیں اور ہمیں امید ہے کہ یہاں کی پررونق زندگی دوبارہ لوٹنے والی ہے۔ یہ بات تمام ادارے جانتے ہیں کہ سوات کے لوگ انتہائی مہمان نواز اور سادہ د ل ہیں۔ مہمان نوازی کی یہی مثال کافی ہے کہ اندھیری رات میں بہ خوشی یہاں کے عوام اپنے گھروں کے دراوزے کھول کر سیکورٹی اداروں کے شکوک دور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، مگر پھر بھی ان کو وہی عزت اور تحفظ نہیں مل رہی جن کے یہ حق دار ہیں۔
پچھلے دنوں ٹارگٹ ہونے والے دونوں معززین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ دونوں کا کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جسے ’’نامعلوم افراد‘‘ کی کارروائی سمجھ کر کیسوں سے جان چھڑائی جائے۔ سوات پولیس کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے یہی بہترین موقع ہے کہ ان افراد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کر دیا جائے اور یہ مثال قائم کردی جائے کہ اب سوات میں ’’نامعلوم‘‘ کے نام سے خون کا بازار مزید گرم نہیں کرنے دیا جائے گا۔
قارئین کرام! آج کے کالم کو حتمی شکل دیتے وقت راقم کو ذرایع سے ایک اہم خبر ملی ہے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کے بارے میں عن قریب میں عوام کو خوش خبری مل سکتی ہے۔
خدا کرے یہ خبرسچی ہو اور اہل سوات کے لیے نیا سال امن اور خوش حالی کاسال واقع ہو۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین۔
785 total views, no views today


