لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں کہ فوجی عدالتیں مسائل کا حل نہیں قومی ایکشن پلان پراختلاف رائے موجود ہے۔جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس لایا گیا جس کے تحت عدالتیں بھی بنیں لیکن کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی، ہر بار قوانین تبدیل کئے جاتے رہے لیکن فائدہ کچھ نہیں ہوا، نیکٹا کے قیام کو 5 برس ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس اہم ترین ادارے کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا گیا،
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عملی طور پر بے عملی کا شکار ہے۔ حکومت کے ایکشن پلان پر اختلاف رائے موجود ہے۔ سانحہ پشاور کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس واقعے کے بعد ملک کی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا ہوا لیکن دینی مدارس کو ٹارگٹ بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں مسائل کا حل نہیں، ملک بھر کی جیلوں میں اس وقت 8 ہزار سے زائد سزائے موت کے منتظر قیدی موجود ہیں، ان تمام مجرموں کو ملک کی سول عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں۔ حکومت نے خود سزائے موت پر عمل درآمد پر پابندی لگائی، حکومت خود اقدامات نہیں کرتی اور پھر عدالتوں کو بدنام کرتی ہے، جمہوری حکومت کی جانب سے سول عدالتوں کا کورٹ مارشل کرنا قابل افسوس ہے۔ حکومت عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اگرسیکیورٹی کا بندوبست عوام کو ہی کرنا ہے تو حکومت کا کوئی فائدہ نہیں۔
320 total views, no views today


