سوات (سوات نیوز)خواتین پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش کا نوٹس،ملوث پولیس آفسران /اہلکاران کو معطل کرکے اُن کے خلاف تھانہ سیدوشریف میں آیف آئی آر درج کرکے محکمانہ کاروائی کرنے کا حکم بھی دیا گیا،تفصیلات کے مطابق31جنوری 2021 برکلے سیدوشریف کا رہائشی ڈاکٹر شاہد فیض ولد فیض محمد تھانہ سیدوشریف آکر رپورٹ درج کرتے ہوئے کہا کہ ہم اہل خانہ کے ہمرہ سیر کرنے کے لئے ملم جبہ گئے تھے اور گھر کے سارے کمرے اور مین گیٹ کو تالا لگایا تھا، شام کے قریب گھر پہنچ کر گھر کا تالا کھولا پایا گیا، گھر کے اندر جا کر دیکھا تو کھڑکی کی پر لگا ہوا جال بھی کٹ شدہ تھا، گھر کے تالاشی لینے پر معلوم ہوا کہ گھر سے کسی نامعلوم ملزم/ملزمان نے چوری کرکے 19تولے سونا اور نقدرقم 99000چوری کرکے لے گئے ہیں۔ جس پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، پولیس ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے تین خواتین کو گرفتار کر لیا، گرفتار خواتین میں مسماۃ رخسانہ زوجہ علی خان، مسماۃ محبوبہ زوجہ سلیمان، مسماۃ حضرہ زوجہ اقبال سکنہ بنوں حال بٹ خیلہ کو گرفتار کر لیا، گرفتار چور گروہ سے مال مسروقہ 19تولے سونا اور 99ہزار نقد رقم اور 22عدد مختلف چابیاں برآمد کی۔گذشتہ روز مورخہ 03-02-2021کو سوشل میڈیا پر درجہ بالا چوری کرنے والے خواتین پر تشدد کرنے کا ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پولیس اہلکاران گرفتار خواتین پر تشدد کر رہے ہیں،وائرل شدہ ویڈیو پر ضلعی پولیس سربراہ دلاور خان بنگش نے نوٹس لیتے ہوئے وقوعہ میں ملوث سب انسپکٹر رفیع اللہ ایس ایچ اُو تھانہ سیدو شریف، سب انسپکٹر آیاز ایڈیشنل ایس ایچ اُو کوکارئی، کانسٹیبل فضل خالق، کانسٹیبل محمد عالم، کانسٹیبل اسحاق کو معطل کرکے اُن کے خلاف تھانہ سیدو شریف میں مقدمہ علت 63جرم 119D-34پولیس ایکٹ درج کرکے ایس پی انوسٹی گیشن نزید خان کے نگرانی میں محکمانہ کاروائی کا حکم دیا گیا۔ محکمانہ کاروائی کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن نذیر خان کے سربراہی میں ڈی ایس پی سٹی پیر سیدخان، ڈی ایس پی کبل بادشاہ حضرت پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم تشکیل کرکے 24گھنٹوں کے اندر اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
1,352 total views, no views today



