سوات، سوات میں نجی تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ،چیئرمین ڈیڈک نے سوات بورڈ کے حکام اور پی ایس ایم اے عہدیداروں کو بلا کر تعلیمی اداروں کو مشروط طور پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ،تمام نجی تعلیمی ادارے ہر تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنرکے دفتر سے این او سی حاصل کرکے اپنے اسکول چلاسکتے ہیں ،صوبائی حکومت کی جانب سے نجی تعلیمی ادارے 28فروری تک بند کرنے اور سوات بورڈ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو تحریری طور پر مراسلہ ارسال کرکے اسکول بند کرانے کے فیصلے کے بعد چیئرمین ڈیڈک ایم پی اے فضل حکیم نے مداخلت کرتے ہوئے چیئرمین سوات بورڈ محمد رحیم اور دیگرحکام سمیت پرائیویٹ اسکولز منجمنٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کو اپنے دفترمیں بلا کر اجلاس کیا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سوات میں بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچاکر نجی تعلیمی اداروں کو بند نہیں کیا جائے گا چیئرمین ڈیڈک نے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سوات محمود اسلم وزیر کو بھی فون کرکے نجی تعلیمی اداروں کو بند نہ کرنے کا کہا اور فیصلہ کیا گیا کہ سوات میں نجی تعلیمی ادارے کھولے رہیں گے تاہم ہر اسکول کی زمے داری ہوگی کہ وہ ہر تحصیل میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے این او سی حاصل کرے گا تاکہ اسکول انتظامیہ کو تمام تر سیکیورٹی انتظامات کا پابند بنایا جاسکے ،اس موقع پر چیئرمین ڈیڈک فضل حکیم نے پی ایس ایم اے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وہ نجی تعلیمی اداروں کو کاروبار کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ حقیقی معنوں میں درسگاہیں ثابت کریں اگر کسی اسکول کے حوالے سے شکایت ملی تو اس سکول کو بند کرکے رجسٹریشن منسوخ کیا جائے گا ۔
590 total views, no views today


