سوات(سوات نیوز) اہلیان سیدوشریف کا قبضہ مافیا کے خلاف ایکا،قبرستان میں قبضہ مافیا کو برداشت نہیں کیا جائیگا،ڈاکٹر خالد محمود خالد کے گھر پر حملہ کی شدید مذمت،ملزمان کو قرار واقعی سزا دلائی جائے،ضلعی انتظامیہ فوری طور پر سیدوشریف قبرستان کے حدود میں تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد کریں اور قبرستان کے زمین پر تعمیر ہونیوالے والے تجاوزات کو فوری طور پر ختم کریں بصورت دیگر سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرینگے،گزشتہ روز سیدوشریف میں سیدوشریف قبرستان میں قبضہ مافیا کے خلاف جلسہ عام کا انعقاد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم سیدوشریف ڈاکٹر خالد محمود خالد،سابق ناظم فیض اباد ارشاد خان،اعجاز خان،سابق ناظم برکت علی،فقیر محمد ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کے جائے سیدوشریف قبرستان کیلئے دوسو چھیانوےکنال اور دس مرلہ زمین صوبائی حکومت نے خریدی تھی مگر کرپٹ پٹواریوں نے پیسے لیکر بااثر لوگوں کو انتقالات کروائیں ڈی سی سوات دوہزار نو سے لیکر اب تک جتنے بھی پٹواری و تحصیلدار ہے ان سے پوچھ گچھ کریں قبرستان کے دوسو چھیانوے کنال زمین کو محفوظ بنائیں مقامی ایم پی اے و ایم این اے کی معنی خیز خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے قوم کے حقوق پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں ہوگی،مقررین نے اس موقع پر قبضہ مافیا کے کارندوں کے جانب سے ڈاکٹر خالد محمود خالد کے گھر پر حملہ کی شدید مذمت کی گئی اور ڈاکٹر خالد محمود خالد کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہائی کرائی، بعدازاں جلسہ عام میں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا کے سرپرستی کرنیوالے مقامی لوگوں کے ساتھ ہر قسم کا بائیکاٹ کیا جائیگا قبرستان کی زمین پر کسی قسم کا قبضہ برداشت نہیں کیا جائیگا ایسا کرنیوالوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرینگے
1,674 total views, no views today



