اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اُس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی، درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے (سورۂ البلد)۔
قارئین کرام! بہت عجیب طرح دل پر اثر کرنے والی آیت ہے۔ عظیم کائنات کا عظیم تر ہمارا رب، باپ کی قسم کھا رہا ہے۔ سب سے بڑے باپ آدم علیہ السلام کی اور اُس کی اولاد کی کیا قسم ہوگی اور کیسی قسم ہوگی ذرا سوچیے۔ اور قسم کس چیز پر کھائی جا رہی ہے اس بات پر کہ ’’در حقیقت ہم نے انسانوں کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔‘‘
ہمارا پیارا اللہ ہم پر کتنا مہربان ہے۔ ہماری مصیبتوں کو، تکالیف کو صبر سے برداشت کرنے کے لیے کیسی عجیب راہ سجھا رہا ہے، یعنی انسان اس دنیا میں مزے کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن کے بہ قول، یہ دنیا کے لیے محنت اور مشقت جھیلنے کی جگہ ہے۔ اور کوئی انسان بھی اس حالت سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنی جان کھپائی تب یہ بسا۔ اور عرب کا مرکز بنا۔
اس شہر مکہ میں محمدؐ کی حالت گواہ ہے کہ وہ ایک مقصد کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کے یہاں جنگل کے جانوروں کے لیے امان ہے مگر اُنؐ کے لیے نہیں ہے۔ اور ہر انسان کی زندگی ماں کے پیٹ میں نطفہ قرار پانے سے لے کر موت کی آخری سانس تک اس بات پر گواہ ہے کہ اُس کو قدم قدم پر تکلیف، مشقت، محنت، خطرات اور شداید کے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
جس کو تم بڑی سے بڑی قابل رشک حالت میں دیکھتے ہو، وہ بھی جب ماں کے پیٹ میں تھا، تو ہر وقت اس خطرہ میں مبتلا تھا کہ اندر ہی مرجائے یا اُس کا اسقاط ہوجائے۔
زچگی کے دوران میں اُس کی موت اور زندگی کے درمیان بال بھر سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔
پیدا ہوا، تو اتنا بے بس تھا کہ کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہوتا، تو پڑے پڑے ہی سسک سسک کر مرجاتا۔ چلنے کے قابل ہوا، تو قدم قدم پر گرا پڑتا تھا۔ بچپن سے جوانی اور بڑھاپے تک ایسے ایسے جسمانی تغیرات سے اُسے گزرنا پڑا کہ کوئی تغیر بھی اگر غلط سمت میں ہوجاتا، تو اُس کی جان کے لالے پڑجاتے۔ وہ اگر بادشاہ یا ڈکٹیٹر بھی ہے، تو کسی وقت اس اندیشہ سے اُس کو چین نہیں ہے کہ کہیں اُس کے خلاف کوئی سازش ہی نہ ہوجائے (جیسے ماضی میں پرویز مشرف اور حال کی دنیا میں نواز شریف کی حالت ہے)۔ وہ اگر فاتح عالم بھی ہے، تو کسی وقت اس خطرہ سے امن میں نہیں ہے کہ اُس کے اپنے سپہ سالاروں میں سے کوئی بغاوت نہ کر بیٹھے۔
وہ اگر اپنے وقت کا قارون بھی ہے، تو اس فکر میں ہر وقت غلطاں و پیچاں ہے کہ اپنی دولت کیسے بڑھائے اور کس طرح اس کی حفاظت کرے؟ غرض کوئی بھی شخص بے غل و غش چین کی نعمت سے بہرہ مند نہیں ہے۔ کیوں کہ انسان پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔
قارئین کرام! اس لیے ہمیں چاہیے کہ زندگی کی مشکلات کا بھر پور مقابلہ کریں۔ زندگی کو بوجھ نہ سمجھیں۔ ہر کسی سے اپنی مشکلات اور مصیبتوں کا رونا نہ روئیں۔ زندگی کی مشکلات کے مقابلہ کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے والوں ہی کے لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے:
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے
ہم نے مانا جہاں میں بڑے روگ ہیں
جو دکھوں سے لڑیں وہ بڑے لوگ ہیں
دے رہی ہے صدائیں تمھیں زندگی
آسمانوں کو چھونا ہے تم نے ابھی
588 total views, no views today


