کبل(سوات نیوز)سوات بزنس اینڈمینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے سوات میں انڈسٹریل سٹیٹ قائم کرنے اور غیرقانونی ٹیکسوں کے نام پربھتہ خوری کی روک تھام کا مطالبہ کیابصورت دیگر شدید احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔سوات انڈسٹریز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔بعض حکومتی ادارے پے درپے مسائل کھڑے کررہے ہیں۔انتظامیہ اور حکومت تعاؤن کرے۔ مسائل کی وجہ سے 70%کارخانہ دار سوات چھوڑچکے ہیں۔جن میں 1لاکھ40ہزار تک مزدورکار برسرروزگار تھے۔اب 25ہزار تک مزدورکار برسرروزگار رہ گئے ہیں اور ایک لاکھ غریب مزدورکاروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں۔اگر مزید کارخانہ دار سوات چھوڑگئے تومزید 15,20ہزار تک مزدورکار بے روزگار ہوجائیں گے۔زیادہ کارخانوں سے علاقہ ترقی کی طرف گامزن ہوتاہے لیکن ادارے کارخانے ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سوات بزنس اینڈ مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشنSBMA) (کے صدر سید نسیم الرحمن اور دیگر نے کبل پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر SBMAکے جنرل سیکرٹری سیاب خان،رحمن علی سینئر نائب صدر، فرمان اللہ نائب صدر، یعقوب خان ایگزیکٹیو ممبر،عبدالرحیم ایگزیکٹیوممبر اور دیگر بھی موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایم اے مینگورہ کے نام پر مختلف لوگ ٹیکسز لینے آتے ہیں۔جس کی وجہ سے سوات سے 70%کمپنیاں کوچ کرگئیں۔جس سے لاکھوں کی تعداد میں مزدورکار بے روزگار ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ شیرگڑھ چیک پوسٹ پر کارخانہ داروں سے ٹیکس کے نام پر ماہانہ 20ہزار سے لے کر لاکھوں تک رقم بٹوری جاتی ہے جبکہ سوات ایک ٹیکس فری زون ہے اور حکومتی نوٹیفیکیشن کے مطابق 2023تک کسی بھی قسم کا ٹیکس نافذالعمل نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایم اے واسا کے نام پر پیسے لیتی ہے جبکہ واسا کے ساتھ رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ واسا اس ضمن میں کارخانہ داروں سے کسی بھی قسم کی رقم وصول نہیں کررہی جوٹی ایم اے منگورہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوات میں کارخانے گلی کوچوں، محلوں کے بیچ، سڑکوں کے کنارے اور جوہڑوں کے ساتھ بنائے گئے ہیں۔حالانکہ کارخانوں کیلئے الگ انڈسٹریل سٹیٹ کا ہونا ایک قانونی حق ہے۔بارہا حکومت اور انتظامیہ کے نوٹس میں لانے کے باوجود ابھی تک قائم کارخانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا نہ ہوسکا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ حکومت وقت کارخانوں کیلئے باقاعدہ انڈسٹریل سٹیٹ کا اعلان کرے بصورت دیگر ہم کارخانہ دار پرائیویٹ انڈسٹریل سٹیٹ بنانے کیلئے تیار ہیں لیکن پھر حکومت وقت کو ہمیں این او سی دینا ہوگی اور اس کے بعد سرکاری انڈسٹریل سٹیٹ ناقابل قبول ہوگا۔
1,116 total views, no views today



