مینگورہ،پختون خواملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹرخالد محمودخالد نے کہا ہے کہ معماران قوم کے ہاتھوں میں اسلحہ دینا تعلیمی ماحول کو تباہ کرنے کی ایک گہری سازش معلوم ہوتی ہے ،اسلحہ کی نمائش اورموجودگی میں طلبہ کی پڑھائی بری طرح متاثرہوگی ،پختونخواسٹوڈنٹس ارگنائزیشن تعلیمی اداروں سے اسلحہ کلچر کے خاتمہ کی خواہاں ہے،ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سکولوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے معماران قوم کے ہاتھوں میں اسلحہ دینے کی نہیں بلکہ ہنگامی بنیادوں پرپولیس اورایف سی بھر تی کرنے کی ضرورت ہے،
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت سکولوں،طلبہ اورعوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اوراپنی ناکامی کوچھپانے کیلئے اب وہ طرح طرح کے تجربے کررہی ہے ،انہوں نے کہاکہ حکومت نے اساتذہ کرام کو ممنوعہ بور کااسلحہ رکھنے کی اجازت دی اوراس حوالے سے اعلان بھی کیا جو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اساتذہ کی نہیں ،انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے صوبے میں لاتعدادتعلیم یافتہ بے روزگارنوجوان موجود ہیں لہٰذہ حکومت ان نوجوانوں کو پولیس اورایف سی میں بھرتی کرے اس سے اگر ایک طرف سکولوں کو بہترسیکیورٹی مل جائے گی تو دوسری طرف بہت سے نوجوانوں کو ملازمت بھی میسرآسکے گی۔
352 total views, no views today


