سوات (سوات نیوز) خیبر پختونخوا امن جرگے کا کلکوٹ، کمراٹ اور تھل کے اقوام کے مابین جاری تنازعہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مطالبہ۔ سوات پریس کلب کی بندش کے خلاف صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی،
مسئلہ حل نہ ہونے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنوں کا اعلان، دیر کوہستان اور کلکوٹ کے مابین تنازعے کی وجہ سے راستوں کی بندش کے باعث آٹھ روز سے ہزاروں لوگ محصور ہوچکے ہیں، راستوں کی بندش کے باعث دو خواتین ڈیلیوری کیس میں جان بحق ہوچکی ہیں ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا امن جرگے کے صدر سید کمال شاہ باچا نے سوات پریس کلب کی بندش کے باعث سڑک پر پرہجوم پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر صوبائی ترجمان عابد یوسفزئی، چیرمین ملاکنڈ ڈویژن رحمت دین صدیقی، صدر ضلع سوات ملک غلام علی، نائب صدر عرفان اللہ اور دیگر رہنما بھی موجود تھے، صوبائی صدر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا امن جرگہ، منشیات،انڈرپلئی، سود اور فرسورہ اہم و رواج کے خلاف عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے کوشاں ہے اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لئے ہمارے عملی جدوجہد جارہی ہے، صوبہ بھر میں جرگے کی تنظمیں قائم ہو چکی ہیں انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ روز سے کلکوٹ، کمراٹ اور تھل اقوام کے مابین تنازعہ جارہا ہے، علاقے کی راستیں بند ہیں جس کی وجہ سے اشیاء خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی ہے، علاقے میں اقوام کے درمیان خونریزی کا خدشہ ہے لیکن اس کے صوبائی حکومت خاموش ہے جو اسکی نا اہلی کی واضح ثبوت ہے، حکومت، کمشنرملاکنڈ ڈویژن، پ آٗی جی فوری طور پر ایکشن لے کر کوہستان اور کلکوٹ کے مابین تنازعہ حل کریں، ورنہ ہم احتجاجی تحریک شروع کتیں گے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے وزیر اعلیٰ کے اپنے ضلع میں پریس کلب سیل کردیا گیا ہے جو ان کی نا اہلی ہے انہوں نے کہا کہ ہر ضلع اور ہر علاقے میں صحافیوں کے مابین اختلافات ہوتے ہیں جس کا حل پریس کلب کی بندش کے باعث ہم سڑک پر پریس کانفرس کررہیں جو حکومت کے لئے باعث شرم ہے، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے دیر کوہستان اور کلکوٹ کے مابین تنازعہ حل نہیں کیا اور سوات پریس کلب کو نہیں کھولا تو ہم صوبہ بھر میں احتجاج کرنے کے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور اور گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے دیں گے جس کے تمام تر ذدمہ داری حکومت وقت پر ہی ہوگی۔
1,309 total views, no views today



