پشاور کے ایک بڑے اردو روزنامہ کی گیارہ دسمبر 2014ء کی اشاعت کے مطابق حکومت نے ٹیکس (کسٹم ڈیوٹی) کے دائرہ کو پاٹا اور فاٹا تک بڑھانے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ ایک انتہائی مستحسن فیصلہ ہے۔ بہ شرط یہ کہ یہ عدل و انصاف کے ساتھ کیا گیا ہو اور اس پر عدل کے ساتھ عمل در آمد کیا جائے، جس کا امکان مشکوک ہے۔ سوات میں ریاست کے ادغام کے بعد بندوبست اراضی میں حکومتی اہل کاروں میں کم زور اور بد دیانت طبقہ نے اس وسیع و عریض علاقہ سے شاملات کی تعریف کو عوام دوستی کی جگہ خواص دوستی کی بنیاد پر کرا دیا اور آج ان علاقوں میں تجاوزات اور دوسری زیادتیوں کی مقدار اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ اچھے سے اچھا سرکاری یا نیم سرکاری افسر یا ادارہ بہترکارکردگی نہیں دکھا سکتا۔ اس کم زور انتظامی نکتہ نے یہاں کے خواص کو من مانیاں کرنے کی کھلی چھٹی فراہم کی ہے۔ اب حکومت نے کسٹم کے دائرۂ اختیار کو پاٹا اور فاٹا تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، تو ہمیں شبہ ہے کہ حکومتی اہل کار جن کی زیادہ تعداد بد قسمتی سے معاشرہ میں کسی اور خاصیت سے بدنام ہے، پھر کوئی گھپلانہ کرے اور ملک و قوم کے دور رس نقصانات کا سبب نہ بنے۔ خبر کے مطابق وفاق نے بورڈ آف ریونیو سے تجاویز اور سفارشات مانگی ہیں، ہمیں شک پڑتا ہے کہ شاید وفاقی افسران صاحبان 1975ء کے ریگولیشن نمبر III، 2000ء تک اس پر عمل ہورہا تھا۔ ہمارے یہاں کسی مشکوک یا بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی کا وجود نہیں تھا۔ پھر اپنی مشہور عالم ’’الراشی و المرتشی فی النار‘‘ والی خاصیت نے یہ حالت پیدا کردی ہے کہ اب ہمارے یہاں درست نمبر اور کاغذات والی گاڑیاں ہزاروں میں چند ہیں اور صرف یہ لعنت ہی نہیں بلکہ بندوبستی اضلاع سے چرائی گئی گاڑیوں (موٹر سائیکلوں سے لے کر بڑی گاڑیوں تک) کے لیے بھی ہمارے اضلاع؍ ایجنسیاں محفوظ جنت ہیں۔ پھر یہاں گاڑیوں کی اونے پونے داموں دست یابی کی وجہ سے ہر صاحب استطاعت نے گاڑی خریدی اور جایز تعداد سے کئی گنا زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر ایک عذاب بن گئیں۔ ان گاڑیوں کے مالکان پیسے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اس لیے اُن میں بعض کا رویہ حکومتی اہل کاروں اور عوام کے ساتھ ہتک آمیز اور دل جلانے والا ہوتا ہے، جس سے انتظامیہ پر سے اعتماد ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کی حالت بہت قابل رحم ہے۔
اگر چہ حکومتوں میں بیٹھنے والے افسران اور ماتحتوں میں بڑے قابل لوگ بھی ہوتے ہیں اور ہم اپنے آپ کو سمجھانے والے نہیں پاتے، پھر بھی ہماری تجویز ہے کہ صوبائی ممبران بورڈ آف ریونیو اور مرکزی افسران محمد نواز خان کی کتاب Pakistan the Evalution of NWFP+The Tribal Areas مطالعہ کریں۔ اس کتاب میں اُن ٹیکس قوانین کی فہرست (کسی حد تک) دی گئی ہے جن کا اطلاق ان قبائلی علاقوں پر آئین کے آرٹیکل 247 کے تحت کردیا گیا ہے۔ اس طرح حکومتی اہل کاروں کا کام آسان ہوجائے گا۔
قوانین سے ہمارے علاقوں کو عمداً محروم رکھ کر پشاور اور اسلام آباد نے ہمارے شریف النفس اشرافیہ اور عوام میں قانون شکنوں کی کاشت کی اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارے یہاں بے شمار قانون شکن پیدا ہوئے ہیں۔ اب قوانین کو ماننے والوں پر لوگ ہنستے ہیں۔ مینگورہ کے تاجروں نے قانون شکنی کے حق میں کئی عشرہ قبل جشن آزادی منانا ترک کیا ہوا ہے اور تا حال ہمارے شہر مینگورہ میں چودہ اگست نہیں منایا جاتا۔ وطن عزیز اور فوج کے خلاف فقرے عوام کے منھ سے عموماً سنے جاتے ہیں۔ کیوں کہ وہ قانون شکنیوں پر گرفت کرتے ہیں۔ یہ اچھے اشارے نہیں۔ انھی احساسات کے حامل افراد قانون شکنیاں فوراً کرتے ہیں اور اُن کی ذمہ داری عوام پر نہیں لیکن نا اہل سرکاری اور نیم سرکاری عمال پر آتی ہے۔ یہ اُن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کی قانون شکنیوں پر فوری گرفت کیا کریں۔ ایک وقت تھا کہ اہل سوات سو فی صد ٹیکس اور عشر ادا کرتے تھے۔ انڈے جیسی معمولی اشیاء پر ٹیکس وصول کی جاتی تھی۔ ٹیکس ادا نہ کرنے کا یہاں تصور ہی نہ تھا لیکن جب دوسرے اضلاع سے ٹیکس چوروں نے یہاں ’’کاروبار‘‘ شروع کیے اور یہاں مرتشی ملازمین آپہنچے، تو یہاں ٹیکس چوری کی عادت پڑگئی۔ اب حالت ٹیکس چوری سے بڑھ کر سرکاری املاک پر قبضہ اور قانون کی دھجیاں اُڑانے تک آگئی ہے۔ اگر خواص کی خود سری اور سرکاری عمال کی چشم پوشی کی یہی حالت رہی، تو معاملہ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری تک جا پہنچے گا۔ عوام میں یہ بات مشہور کی گئی ہے کہ مرحوم والئی سوات کی سفارش پر سوات کو ٹیکس سے استثنا دیا گیا ہے۔ ایسا کوئی حکم، دستاویز ہم نہ دیکھ سکے اور اگر ایسا تھا تو سن 2000ء تک کیوں یہاں سے محصولات لی جارہی تھیں؟ پھر ٹیکس کی استثنا کا غریب آدمی کو کیا فایدہ ہے؟ اگر ہمارے محکمے بروقت دیانت، اہلیت اور اخلاص کا مظاہرہ کرتے، تو نہ عوام بندوق اٹھاتے اور نہ فوج متحرک ہوتی۔ اب اگر مرکزی یا صوبائی حکومت یا دونوں، قوانین کو ان علاقوں تک بڑھا بھی دیں، اگر حکومتی ملازمین اسی طرح آسانی کے ساتھ طاقت ور حلقوں کے آگے ڈھیر ہوتے گئے، تو پھر یہ زحمت بے جا ہوگی۔ الٹا جگ ہنسائی ہوگی۔
چند ہفتہ پہلے مینگورہ سے رکشوں کی من مانیاں ختم کروانے کی کوششیں کی گئی لیکن حسب توقع پولیس کے محکمہ نے شکست کھائی اور رکشوں والے جیت گئے۔ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ایک برائی دوسری کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے برائی بہ ظاہر کتنی بھی معمولی کیوں نہ ہو، اس سے چشم پوشی خطرناک ہوتی ہے۔ پاکستان میں موجودہ مشکلات کی بڑی وجہ یہی ہے۔ قبایل اشراف ہیں، یہ شریف النسل ہیں۔ اس میں دورائے نہیں، لیکن پہلے انگریزوں نے اور پھر مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور حکم رانوں نے ان علاقوں کو قوانین اور عمدہ حکم رانی سے محروم رکھ کر یہاں منفی قوتوں کی آب یاری کی۔ پنجاب کی ضروریات اور حکومتوں کی بے ایمانیوں نے وطن عزیز میں بعض برائیوں کی مقدار اتنی بڑھا دی ہے جن کے علاج کے لیے اب بہت ہی زیادہ طاقت، محنت اور اخلاص کی ضرورت ہوگی جو اسلام آباد کے پاس نہیں ہیں۔ والئی سوات اچھی حکم رانی کی وجہ سے ان خود سر لوگوں پر کامیاب حکومت کرتے رہے۔
ٹیکس کی ادائیگی کے ہم حق میں ہیں لیکن جب تک دیانت، اہلیت اور اخلاص حکومتی اداروں میں نہ بڑھائی جائے، ٹیکسوں کے دائرہ میں وسعت مزید کرپشن پیدا کرے گی۔ اس لیے یہ ضرورت اہم ترین ہے کہ حکومت حکم رانی کے موجود خراب ترین معیار کو ختم کرکے اعلیٰ حکم رانی کو یقینی بنائے۔ اچھے ملازمین کی حوصلہ افزائی کرے، اُن کو تحفظ دے۔ ہو تو یہ رہا ہے کہ جو افسر یا ما تحت ہمارے علاقوں میں اچھا کام کرتا ہے، اُس کا رہنا یہاں مشکل بنایا جاتا ہے۔
اس وقت وطن عزیز میں وسایل والے عوام اور خواص حد سے زیادہ طاقت ور اور خود سر ہوگئے ہیں۔ بہت احتیاط اور حکمت و دانش مندی کے ساتھ ان کا یہ زور توڑنا ضروری ہے جس ملک کا بادشاہ کم زور اور عوام طاقت ور ہوں، وہاں امن و امان اور ترقی و سکون دیوانے کا خواب ہوتا ہے۔ جب حکومت غریب اور چند افراد امیر ہوں، تو عمدہ حکم رانی کی سوچ بھی غلط ہے۔ جب لٹیرے ہی حکم ران ہوں، تو پھر اقوام عالم میں عزت کا مقام بر قرار رکھنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔ پاکستان کا اصل مسئلہ نااہلیت اور بد دیانتی ہے۔
698 total views, no views today


