مینگور(ناصرعالم)رمضان کی آمد،غیر مقامی بھکارنوں کی کثیرتعدادسوات پہنچ گئی،نامانوس زبان بولنے والی نوعمر لڑکیاں اورعوتیں بھرے بازاروں،مارکیٹوں اور گلی کوچوں میں بھیک مانگتی اور فحاشی پھیلاتی نظر آرہی ہیں،نئی نسل کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں،مسئلہ فوری طورپر حل نہ ہوا تو سنگین صورت اختیار کرے گا،حکام توجہ دیں،سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع کے دیگر علاقوں میں اس وقت کثیرتعدادمیں غیر مقا می عورتیں بھیک مانگتی نظر آرہی ہیں ان لوگوں کی زبان بھی کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی جو راہ راہگیروں کو ہاتھ سے پکڑ کر ان سے بھیک مانگتی ہیں جن کے بھیک مانگنے کا طریقہ بھی عجیب ہے ایسالگتاہے کہ وہ بھیک نہیں مانگتیں بلکہ غنڈہ ٹیکس وصول کررہی ہیں، عوا م کا کہناہے کہ یہ بھکاری عورتیں گھروں میں گھس کر چوریاں بھی کرتی ہیں جبکہ بھیک کی آڑ میں فحاشی بھی پھیلا رہی ہیں،یہ غیر مقامی عورتیں کھلے عام لوگوں کو دعوت گناہ دے رہی ہیں جس کے سبب عوام اورخصوصاََروزہ دارافرادشدید پریشانی میں مبتلا ہیں،اہل علاقہ کا کہناہے کہ سوات کے لوگ اسلام پسنداور محب وطن ہیں وہ یہاں پر اس طرح کی حرکات کسی بھی صورت برداشت نہیں کرسکتے،حیرانگی کی بات یہ ہے کہ غیر مقامی بھکارنیں کھلے عام فحاشی پھیلارہی ہیں مگرحکومت نے اس پر مکمل خاموشی اختیارکررکھی ہے،دوسری جانب معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ فحاشی پھیل رہی ہے جو نئی نسل کی بے راہ روی کا سبب بن رہی ہے،مقامی لوگوں نے کمشنر ملاکنڈڈویژن اورڈی آئی جی ملاکنڈڈویژن سے اپیل کی ہے کہ وہ سوات میں موجود غیر مقامی بھکاری عورتوں کو علاقے سے نکالنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے
821 total views, no views today



