غالباً تیسری، چوتھی جماعت کی پشتو کتاب میں ’’قطار جوڑول‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا تھا۔ کم عمری کی وجہ سے قطار کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں کچھ بھی ذہن میں موجود نہیں تھا بلکہ یہی خیال تھا کہ نصاب میں جس طرح دیگر مضامین کو عملی زندگی کے برعکس شامل کیا گیا ہے، اسی طرح یہ مضمون بھی مضمون نگار کو نوازنے اور طلبہ کی وقت گزاری کے لیے ٹیکسٹ بک میں شامل کیا گیا ہوگا۔ گزشتہ روز اپنی ادبی تنظیم مرستیال لیکوال ’’مل‘‘ ملاکنڈ کے روح رواں اورمنفرد افسانہ نگار بخت روان عمر خیل ؔ (جنھیں پشتو ادب پر عبور حاصل ہے اور میرے خیال میں اسی عبور کی وجہ سے وہ شعر کی تخلیق سے دور ہونے کی کوشش کرکے صرف نثر پر توجہ دے رہے ہیں۔ عمر خیلؔ کے ادبی ذوق و افسانہ نگاری کے بارے میں کسی دوسری نشست میں بات کرلیں گے) نے بٹ خیلہ میں سی این جی اسٹیشن کے قریب گاڑیوں کی قطار کے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے تجویز دی کہ ان کے بارے میں بھی کچھ سطح قرطاس پر اتارو۔ کیوں کہ آج کل ہر جگہ قطار ہی قطار نظر آرہی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے قطاروں کی کچھ قسمیں بھی بتائیں۔ اس وجہ سے مجھے وہی تیسری چوتھی جماعت والا مضمون یاد آیا کہ بچپن سے ہمیں قطار بنانے اور اس کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں کیوں آگاہ کیا جاتا رہا؟ ٹیکسٹ بُک میں ’’قطار جوڑول‘‘ کا مضمون ہماری مادری زبان پختو میں بھی اس وجہ سے شامل کیا گیا تھا کہ ہم اپنی زبان میں بچپن سے یہ جان سکیں کہ قطار میں کس طرح کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قطار میں نظم و نسق کا مظاہرہ کس طرح ہوتا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ قطار میں کھڑے ہونے والے افراد کو آج کل اس وقت موقعہ ملتا ہے جب بااثر اورسفارشی افراد چور دروازہ (بیک ڈور) سے وصال لیلیٰ سے بغیر انتظار کے بہرہ ور ہوتا دیکھا جاتا ہے، اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوتاہے۔ ہمارے ملک میں قطاروں کی کئی قسمیں ہیں جن میں ایک ’’سی این جی قطار‘‘ ہے جو ہر سی این جی اسٹیشن کے باہر ہمیں ہر جگہ دور دور تک نظر آتی ہے، مگر ٹریفک عملہ اورانتظامیہ اس پر اس وجہ سے خاموش رہتی ہے کہ اس میں تو ’’بعض لوگوں ‘‘ کے ’’نان نفقہ ‘‘میں خلل پڑنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس سے پہلے ہم بجلی، گیس اور ٹیلی فون بل داخل کرنے کے لیے بننے والی قطاریں ہی دیکھتے تھے جنھیں ہم ’’قطارالواجبات ‘‘ نام دے سکتے ہیں جب کہ مہینہ کی پہلی تواریخ میں مختلف بنکوں اور ڈاک خانوں کے سامنے پنشنر حضرات کی قطاروں کو ہم ’’پنشنرز قطار‘‘ کے نام سے یاد کرسکتے ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹوروں میں بھی آٹا، گھی اور چینی کی کم قیمت پر دست یابی کے لیے ہمیں قطاریں نظر آتی ہیں جنھیں ہم’’سستی قطار‘‘ کہہ سکتے ہیں مگر یہاں بھی اکثر قطارمیں کھڑے رہنے والوں کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑتا ہے۔ آئی ڈی پیز کیمپوں میں رجسٹریشن اور راشن کے لیے کھڑے ہوئے افراد کی قطار کو ہم ’’آئی ڈی پیز قطار‘‘، ’’راشن قطار‘‘ یا پھر ’’قطار المتاثرین ‘‘کا نام دے سکتے ہیں۔ سنیما پر ٹکٹ لینے کے لیے بنائی ہوئی قطار کو ہم ’’فلمی قطار‘‘ ہی کہہ سکتے ہیں۔اس طرح ائیرپورٹ پرٹکٹ لینے والوں کی قطار کو’’ ہوائی قطار ‘‘اور ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ چیک کرنے، داخل ہونے یا باہر نکلنے کے لیے بنائی گئی قطار کو ہم ’’ریلوے قطار‘‘بلکہ ریل کے ڈبوں کو بھی ہم ’’ریل گاڑی‘‘کے بجائے ’’بوگی قطار‘‘ قرار دے سکتے ہیں۔ ہر صبح اسکولوں میں اسمبلی کے دوران میں بچوں کو قطاروں میں کھڑا کرنے کے لیے ’’آسان باش‘‘ اور ’’ہوش یار‘‘ کے ساتھ قطار بنانے کی جو ریہرسل کرائی جاتی ہے، اسے ہم ’’قطار العلم‘‘کا نام دے سکتے ہیں، تاکہ اس میں علمیت کا عنصر بھی ذرا شامل ہو۔ نماز کے دوران میں بھی ہم قطار میں کھڑے ہوتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے آگے پیچھے کھڑے ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کی وجہ سے اس وقت ہم اسے قطار نہیں بلکہ’’ صف‘‘ کہتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل جب ہم نے قطاروں میں کھڑے رہنے اور صفیں باندھنے یا بنانے کی ریہرسل نہیں کی تھی، تو مساجد میں تمام صفیں سیدھی ہوتی تھیں مگر لگتا ہے کہ پچھلے زمانہ کے لوگوں کے مقابلہ میں موجودہ زمانہ کے لوگ زیادہ کند ذہن یا لکیر کے فقیر ہیں۔ اس وجہ سے اب مساجد کے کارپٹس اور قالینوں سمیت چپس یا ماربل پر بھی پر ہمیں سیدھا کرنے کے لیے لائنیں کھینچی جاتی ہیں مگر اس کے باوجود بھی ہماری صف سیدھی نہیں رہتی۔ اس حوالہ سے اپنا ایک شعر پیش کرنا چاہتا ہوں کہ
پہ شتہ شعور کے مونگہ دومرہ بے شعورہ یو چہ
د صف د پارہ مونگ راکاگو پہ جمات کے کرخے
(جاری ہے)
2,330 total views, no views today


