اس وقت مولانا جلیل احسن ندوی صاحب کی احادیث پر مبنی ایک بلند پایہ و ممتاز کتاب ’’راہ عمل‘‘ میرے سامنے ہے جس میں مختلف النوع موضوعات پر بے شمار احادیث مبارکہ عوام و خواص کی توجہ کا مرکز ہیں۔ کتاب کی مدد سے مولانا صاحب اسلامی تعلیمات کو ہر خاص و عام کو آسان اور دل نشین انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس کتاب کی رو سے مولانا صاحب ہادی اعظم نبی عربی محمدؐ کے مبارک اقوال و افعال کی روشنی میں زندگی گزارنے کے لیے واقعی ایک ’’راہ عمل‘‘ دکھانا چاہتے ہیں۔ اگر چہ ہمارا آج کا موضوع کچھ اور ہے لیکن اچھی کتاب کی تعریف کرنا اور پھیلانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ لہٰذا پیغمبر انقلابؐ کی حیات طیبہ کے متعلق احادیث کی اس کتاب سے ضرور استفادہ کیجیے گا۔ کتاب کے صفحہ نمبر پچانوے چھیانوے میں دو تین احادیث عوام و خواص کی نذر کرنا مقصود ہے۔ پھر اس پر مزید معاشرتی برائیوں کا موازنہ بھی مطلوب ہے۔
حدیث نمبر ایک:۔ نبی مہربانؐ نے ناپ تول والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’تم لوگ دو ایسے کاموں کے ذمہ دار بنائے گئے ہو جن کی وجہ سے تم سے پہلے گزری ہوئی قومیں ہلاک ہوئیں۔‘‘ یعنی ناپ تول کے غلط پیمانے، لینے کے پیمانے اور، جب کہ دینے کے پیمانے اور مقررکیے، تو یہ تباہی کا باعث ہے۔
حدیث نمبر دو:۔ مسلم، ابوداؤد اور ترمذی کے حوالہ جات پر مبنی حدیث شریف میں حضورؐ نے فرمایا کہ ’’جس شخص نے خوراک والی چیزوں کا احتکار (ذخیرہ اندوزی) کی تو وہ گنہگار ہے۔‘‘ یعنی ضرورت کی اشیاء کو روک لینا اور بازار میں نہ لانا، جب کہ قیمتوں کے بڑھنے کا انتظار کرنا، پھر قیمتوں کے چڑھ جانے کی صورت میں تمام مال بازار میں لاکر گراں قیمت پر پیسے وصول کرنا، گناہ کا بڑا سبب ہے۔ اسی طرح حضورؐ نے سنن ابن ماجہ میں عمرؓ سے منقول حدیث میں فرمایا کہ ’’وہ شخص جو اشیائے ضروریہ کو نہیں روکتا بلکہ وقت پر بازار میں لاتا ہے، تو وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہے۔ اسے اللہ رزق دے گا اور وہ شخص جو احتکار کرتا ہے، وہ لعنت کا مستحق ہے۔‘‘
چوتھی حدیث جو مشکوٰۃ شریف میں حضرت معاذؓ سے منقول ہے: ’’حضرت معاذؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے سنا کہ کتنا برا ہے اشیائے ضروریہ کو روک لینے والا آدمی۔ اگر اللہ تعالیٰ چیزوں کے نرخ کو سستا کرتا ہے، تو اسے غم ہوتا ہے جب کہ قیمتیں چڑھ جاتی ہیں، توخوش ہوتا ہے۔‘‘
قارئین کرام! ان احادیث مبارکہ میں بعض معاشرتی برائیوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ناپ تول میں کمی، اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے کا عذاب اور نرخوں کے اتار پر غم اور چڑھاؤ پر خوشی کا اظہار کرنے والوں کا ذکر ہے۔
اب اپنے ارد گرد کے مسلمانوں کو دیکھیے، غور کیجیے کہ کیا ایسے عوام و خواص معاشرہ کے ارد گرد موجود ہیں کہ نہیں؟ کیا ناپ تول میں کمی کرنے والے لینے کے پیمانے اور، جب کہ دینے کے پیمانے اور مقرر کرنے والے موجود ہیں کہ نہیں؟ کیا معاشرہ میں ذخیرہ اندوزی، احتکار کرنے والے موجود ہیں کہ نہیں؟ اور کیا نرخوں کی کمی پر افسوس جب کہ نرخوں کی زیادتی پر خوشی منانے والے موجود ہیں کہ نہیں؟
میرے خیال میں ہر سوال کاجواب ’’ہاں‘‘ میں ہی ملے گا۔ اس لیے کہ ارد گرد کے ماحول میں ناپ تول میں کمی کرنے والے بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ بے شمار ایسے کاروبار کرنے والے بھی معاشرہ کی زینت بنے ہوئے ہیں جن کے لینے کے پیمانے اور، جب کہ دینے کے پیمانے اور ہوتے ہیں۔ اسی طرح میرا نہیں خیال کہ معاشرہ میں ایک ہی دکان دار یا کاروبار کرنے والانہیں ہوگا جو ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا ہو۔ اشیائے ضروریہ کو گرانی کی خاطر ذخیرہ کرنے والے لاکھوں لوگ موجود ہیں۔ اور تو اور کاروبار میں بار بار قسمیں کھانا اور جھوٹ بولنا تمام مسلمانوں کی فطرت ثانیہ بن گئی ہے۔
اسی طرح ابھی جو نیا منظر نامہ ہے، وہ یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے تیل کی ارزانی کی صورت میں ایک طرف پٹرول پمپوں کی ذخیرہ اندوزی اور تیل کی نایابی کا بہانہ گناہ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ نہ صرف یہی ذخیرہ اندوزی بلکہ ایک اخبار جو میرے سامنے ہے اس میں ایک سو بیس سے ایک سو پچاس روپے فی لیٹر کی فروخت بڑے آب و تاب سے جاری ہے۔ جو نہ صرف گناہ اور عذاب کا ذریعہ ہے بلکہ دوسری طرف حکومت وقت کے اوامر کا نہ ماننا اور قانون کی خلاف ورزی بھی ہے۔ ہر پمپ میں لوگوں کی بھیڑ اور مالکان کے ماتھے پر بل اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ وہ حکومتی قیمت کے گراؤ پر سخت ملول و حزیں ہیں، تو پتھر کا جواب اینٹ سے دینے کی خاطر انھوں نے خود ساختہ نرخ نامے بھی مقرر کیے ہیں۔ اس طرح ایک سو بیس تا ایک سو پچاس کی یہ قیمت بلیک میلنگ کی صورت میں مہیا ہے۔ اشیائے ضروریہ اور بھی لا تعداد چیزیں مثلاً چینی، گھی، آٹا، دالیں سوختنی لکڑی تیل حتیٰ کہ ہر ضروری چیز کی ذخیرہ اندوزی اس نیت پر جاری ہے کہ بہ وقت گرانی پیسے بٹورنے کا اہم ذریعہ ہاتھ آئے۔
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ حکومتی نرخ کو تمام عوام و خواص ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ قانون کی بالادستی کی عدم دست یابی کی صورت میں ہر ایک کی بولی جدا جدا اور ہر ایک کا نرخ جدا جدا ہے۔
حرف آخر کے طورپر ہر خاص و عوام سے ان مذکورہ احادیث کا حوالہ و تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ ناپ تول کی کمی، ذخیرہ اندوزی، نرخ کے اتار چڑھاؤ پر غم و خوشی گناہ ہی ہے، لہٰذا اس سے اجتناب نہایت ضروری ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
964 total views, no views today


