ڈربی(سوات نیوز)فاسٹ بولرحسن علی کا کہنا ہے کہ کمرکی انجری کے بعد کسی بھی فاسٹ بالر کے لیے کم بیک کرنا آسان نہیں ہوتا مگر اس مشکل وقت میں ان کی بیگم اور اہلخانہ نے ان کا بہت ساتھ دیا۔سوا ت نیوز کے مطابق فاسٹ بولر حسن علی کا کہنا ہے کہ کمرکی انجری کے بعد کسی بھی فاسٹ بالر کے لیے کم بیک کرنا آسان نہیں ہوتا مگر اس مشکل وقت میں ان کی بیگم اور اہلخانہ نے ان کا بہت ساتھ دیا۔اس دوران شعیب ملک اور سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔اگر ہم نیت اور محنت کرلیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا اور میں اس کی تازہ ترین مثال ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ وہ شروع سے ہی بے خوف کرکٹ کھیلتے تھے مگر فرسٹ کلاس کرکٹ میں متاثرکن کارکردگی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل سکتا ہوں تو یقینا میں کم بیک بھی کرسکتا ہوں۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی پر ان پر دبا تھا۔اس دوران 9فرسٹ کلاس میچز میں شرکت اور پھر عمدہ کارکردگی نے میری بہت حوصلہ افزائی کی،حسن علی نے کہاکہ وہ ہمیشہ ایک بہترین آلرانڈر بننا چاہتے تھے اور انہیں خوشی ہے کہ ان کی حالیہ فارم ان کی اس خواہش کو تقویت دے رہی ہے،انہیں بیٹنگ شروع سے ہی پسند تھی اور انجری کیدوران جب موقع ملا تو انہوں نے اپنی بیٹن پر خاص توجہ دی، اس دوران انہوں نے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹرپر اپنی ہارڈ ہٹنگ صلاحیت پر بہت کام کیا،انہوں نے کہا کہ زندگی میں خود اعتمادی بہت ضروری ہے، اچھی گیند پر بھی کوئی بیٹسمین بانڈری لگا سکتا ہے مگر اس موقع پر دبائو کا شکار ہونے کی بجائے اپنی بنیادی بالنگ پر واپس آجانا چاہیے تاکہ بلے باز کو مشکلات کا شکار کیا جائے،نوجوان کرکٹر کا کہنا ہے کہ انگلینڈ سے ان کی بہت سے ہی یادیں وابستہ ہیں، کیرئیر کا آغاز آئرلینڈ سے ہوا اور پھر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جیتنا انہیں کبھی بھولے گا،یہاں کی کنڈیشنز وائیٹ بال کرکٹ کے لیے موزوں ہے۔ میزبان ٹیم اس فارمیٹ کی مضبوط ٹیم ہے مگر وہ پرامید ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم اس ٹور پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
616 total views, no views today



