آج کل وزارت داخلہ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی صارفین کو ہدایت کررہی ہے کہ چھبیس فروری سے پہلے اپنے موبایل سم کی بائیو میٹرک تصدیق کروالیں، ورنہ اس کے بعد سنگین نتایج کے لیے تیار رہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے ایسا نہ کیا، تو آپ کو نئے قانون کے مطابق فوجی عدالت سے سر سری سماعت کے بعد توپ دم کیا جائے گا۔ کیوں کہ آپ کا سم غیر قانونی ہے اور یہ دہشت گردی میں استعمال ہوگیا یا ہوسکتا ہے۔ یہ سلسلہ پہلی حکومتوں میں ایک شیطان کے کہنے پر شروع ہوا جس نے ارباب اقتدار میں یہ پھونک دیا تھا کہ وطن عزیز میں فساد کی جڑ یہی سم ہیں۔ حالاں کہ اگر غیر جانب دارانہ سوچ اپنائی جائے، تو اس میں صارف بے چارے کا تصور نہیں۔ ہمیں اس جان کاری کے لیے چند سال پہلے جانا پڑے گا۔ جب ’’کک بیکس‘‘ کے کئی مدارج طے کرنے کے بعد موبایل کمپنیوں کو پاکستان میں اجازت مل گئی، تو اس وقت ان کمپنیوں کے سم بازار میں اس طرح فروخت ہوتے تھے جیسے روزمرہ اشیائے ضروریہ مثلاً ٹماٹر وغیرہ فروخت ہوتا ہے۔ اس کے لیے کوئی ریگولر سسٹم نہیں تھا۔
ابتدا میں پری پیڈ کارڈ پر پانچ فی صد ٹیکس عاید ہوتا تھا۔ بعد میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ کٹوتی سترہ فی صد کردی گئی۔ زرداری گورنمنٹ میں جب موبایل کمپنیوں کا ٹینٹوا دبا کر ان سے مبینہ طور پر بھاری وصولی کی گئی، تو کارڈ سے کٹوتی پچیس فی صد کردی گئی۔ آپ سو روپیہ کا کارڈ لوڈ کریں، تو آپ کے اکاؤنٹ میں صرف پچہتر روپیہ اور ایک پیسہ آتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ آپ ہر کال پر بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یوں آپ دوہرے ٹیکس کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔
موجودہ حکومت نے غالباً یہی سوچا ہوگا کہ اب کوئی ایسا جواز باقی نہیں رہا کہ موبایل کمپنیوں پر مزید بوجھ ڈال کر اپنی ذاتی جیب بھروا سکیں، تو اس پرانے شیطان کا نسخہ آزمانے کا پروگرام بنا دیا۔ موبایل کمپنیوں نے تو کروڑوں سم فروخت کردیئے ہیں جن میں اکثر کا کوئی مناسب ریکارڈ بھی نہیں۔ تو کیوں نہ ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ لوگ نئے سم خریدنے پر مجبور ہوجائیں۔ کیوں کہ اب تو موبایل ایسی ضرورت بن چکی ہے جیسے انسان باتھ روم میں جانے پر مجبور ہے۔
ایک اور دھوکہ جو عوام کے ساتھ کیا گیا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب کروڑوں سم فروخت ہوچکے تھے، تو یہ حکم جاری ہوا کہ بغیر شناختی کارڈ کے نقل کے سم فروخت نہ کیا جائے، تو ری ٹیلرز نے یہ راہ نکالی کہ ایک حق دار کے کارڈ پر نہ صرف اسے سم جاری کروایا بلکہ ان نابالغ بچوں کو بھی جن کے والدین بیرون ملک سے ان کے لیے خوب صورت موبایل بھیجتے ہیں، ان کو اسی شناختی کارڈ کے نمبر پر سم دے دیئے۔ اسی طرح ایک شناختی کارڈ پر کئی غیر قانونی سم استعمال ہورہے ہیں۔ ری ٹیلرز کو تو پیسے مل گئے، کمپنی کا سرمایا بڑھ گیا اور اب ساری ذمہ داری قومی شناختی کارڈ والے پر آگئی ہے۔
شاید آپ حضرات نے اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ حال ہی میں ایک واقعہ میں جو سم استعمال ہوا تھا، وہ پنجاب کے کسی خاتون کے نام پر تھا اور جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ اُس بے چاری کے کارڈ پر پانچ اور سم بھی جاری ہوچکے ہیں۔ اس ساری الف لیلیٰ کا نچوڑ یہی ہے کہ عن قریب کروڑوں سم بلاک کر دیئے جائیں گے اور موبایل کمپنیوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ پھر ارباب اقتدار کے بھی پانچوں گھی میں ہوں گے۔
پس اس حکایت سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ بے چاری عوام ایک اور قیامت برداشت کرنے کے لیے تیار رہیں۔ کیوں کہ وزیروں کی فوج ظفر موج اپنی جیبیں بھروانا چاہتی ہے۔ کسی تاجر کو حکم ران بنانے کا یہی تو انجام ہوگا۔
ان حکومتوں کی نا اہلی کا کون سا رونا روئیں گے؟ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ اسکول بند ہوں، تو انھوں نے ان کی خواہش کی تکمیل کے لیے اسکول بند کردیئے۔
تحریک انصاف والے پاکستان بند کرنا چاہتے ہیں۔ نواز گورنمنٹ نے خود ہی پٹرول کا بحران پیدا کرکے پاکستان کا پہیہ جام کردیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سانحہ پشاور کے اگلے ہی دن تمام اسکول خصوصاً ’’کے پی کے‘‘ کے اسکول کھول دیئے جاتے اور دہشت گردوں کو کھلا پیغام دیتے کہ ہم اپنے بچوں کو کسی قیمت پر تعلیم سے محروم نہیں رکھ سکتے۔
سرکاری شعبۂ تعلیم تو ویسے ہی نا قابل بیان حالت کا شکار ہے، پرائیویٹ اسکولوں میں کچھ نہ کچھ تو بچے سیکھ ہی لیتے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں نے وہ بھی بند کر دیئے۔ سوات کے اسکولوں کو بند کرنے کا تو کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ اس طرح تو آپ نے 2007ء سے لے کر 2009ء تک کی صورت حال پیدا کردی ہے۔ کیا یہ صاحبانِ اقتدار یہ اندازہ نہیں کرسکتے کہ اس اقدام سے دہشت گردوں کے حوصلے کتنے بڑھ گئے ہوں گے؟
خدا کے لیے قوم کے بچوں پر رحم کریں اور اُن کا قیمتی وقت ضایع نہ کریں۔ ان بچوں کی حفاظت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ ان کی حفاظت نہیں کرسکتی، تو اس حکومت کے وجود کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
*۔۔۔*۔۔۔*
750 total views, no views today


