سوات(سوات نیوز)خیبر پختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع میں ایگریکلچر ٹرانسفرمیشن پلان اور زرعی ترقی کیلئے صوبائی حکومت اربوں روپے کے منصوبے متعارف کرنے جارہی ہے جس سے زرعی شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں اور خوشحالی آئےگی اور کسانوں کیلیے بھی بہت مفید ثابت ہوگی ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان نے جمعرات کے روز زراعت لائیو سٹاک فشریز سائل کنزرویشن واٹر مینجمنٹ کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سیکرٹری زراعت و لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اسرار اور محکمہ کے متعلقہ ڈی جیز نے شرکت کی اجلاس میں صوبائی وزیر کو مختلف نئی اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی ٹرانسفرمیشن پلان کے تحت مختلف منصوبوں میں خیبر پختونخوا میں زمین کی زرخیزی، صوبہ میں بیج کی صنعت کا قیام، ٹیلی فارمنگ اور ڈیجیٹل سروس، زراعت میں تبدیلی کا منصوبہ، انسٹی ٹیوٹ کی اپ گریڈیشن، کراس بریڈنگ کے زریعے مویشیوں کی جینیاتی بہتری، باغبانی کے زریعے آب وہوا کے منفی اثرات کو کنٹرول کرنا، قابل زراعت بنجر زمین کی بحالی اورزرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی ، شہد کی پیداوار کو فروغ دینا، ماہی گیری کے زخائر کی ترقی، صوبہ میں کمیونٹی ڈیری اور گوشت کی پیداوار بڑھانا، ویٹرنری یونیورسٹی کا قیام، سول ویٹرنری ڈسپنسریوں کا قیام ،ضم شدہ اضلاع میں زراعت ولائیوسٹاک میں تبدیلی اور زیتون کی فروغ اور دیگر اہم منصوبےشامل ہیں اس موقع پر صوبائی وزیر محب اللہ خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت زراعت کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کیلیے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے صوبہ کے زیادہ تر افراد شعبہ زراعت سے وابستہ ہے ملک کی معاشی ترقی میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثت رکھتاہے اور دیہاتوں میں زیادہ تر لوگوں کا انحصار زراعت ولائیو سٹاک پر مبنی ہے اس لیے حکومت وقتاً فوقتاً نئے منصوبے متعارف کرارہی ہے اور اس ضمن میں اربوں روپے خرچ کررہی ہے
560 total views, no views today



