پشاور(سوات نیوز)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیر باز بلور نے کہا ہے کہ حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حکومتی متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے انوسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس سے کاروبار میں نئی جدت لانے اور جدید خطوط پر استوار کرنے بالخصوص ون ونڈو آپریشن سروسز کے ذریعے بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کاروں کے مشکلات کو فوری دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے متاثرہ تاجر برادری کو قومی مالیاتی ریلیف پیکیج دینے اشد ضرورت ہے جبکہ غذائی قلت اشیاء خوردنوش میں ملاوٹ سنگین مسائل میں شامل ہیں جن کو فوری حل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ بزنس کمیونٹی کو ٹیکسوں کی آڑ میں بھاری جرمانہ عائد کرنے ٗ ہراساں کرنے اور فیکٹریوں کو بے جا چھاپے مارنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز صوبائی وزیر برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد عاطف خان کے دورہ سرحد چیمبر کے موقع پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر انجینئر منظور الٰہی ٗ نائب صدر جنید الطاف ٗ سابق ایم ایف پی سی سی آئی صدر غضنفر بلور ٗ سابق صدور ذوالفقار علی خان ٗ ریاض ارشد ٗ فیض محمد فیضی ٗ سابق نائب صدور عبدالجلیل جان ٗ عابد اللہ یوسفزئی ٗ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین محمد طارق ٗ وقار احمد ٗ مجیب الرحمان ٗ محمد ظہور خان ٗ محمد اورنگزیب اور صدر گل ٗ فیض رسول ٗ احسان اللہ ٗ عاقب اسماعیل ٗ فضل واحد ٗ منہاج الدین ٗ ملک محمد سالم خان ٗ صوبائی محکمہ خوراک اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اعلیٰ افسران ٗ صنعتکار اور تاجر بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور نے پشاور میں سپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کا مطالبہ کیا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کاروبار اور تجارت کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کاروبار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بزنس کمیونٹی بالخصوص نوجوان کاروباری لوگوں کے لئے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر عاطف خان نے یقین دلایا کہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے متاثرہ تاجر برادری کومالیاتی ریلیف و خصوصی پیکیج کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے 11 لاکھ میرٹ ٹن گندم کی خریداری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کرنیوالوں کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی محکمہ خوراک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں اس حوالے سے ایک خطیر رقم بھی مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ای کامرس کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین سالوں میں ملک کی معیشت کو صحیح سمت پر ڈال دی گئی ہے جس کی وجہ سے اکانومی میں کورونا کی صروتحال کے باوجود چار فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ فارن ایکس چینج میں 25 ارب ڈالرز تک اضافہ ہوا ہے جو کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وفاقی حکومت کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی انڈسٹری میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا بلکہ تعمیراتی انڈسٹری سے جڑی دیگر شعبہ جات میں بھی فروغ و بہتری آئی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مہنگائی سے عام آدمی شدید متاثر ہے لیکن معیشت میں بتدریج بہتری نے مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے حکومت اور چیمبرز کے درمیان روابط اور تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اس سے قبل ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر غضنفر بلور نے خطاب کرتے ہوئے سرحد چیمبر کو حکومتی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ دینے کے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن سے متاثرہ تاجروں کو خصوصی مالیاتی ریلیف پیکیج دینے کا مطالبہ کیا اور صوبہ میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لئے اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔سرحد چیمبر کے نائب صدر جنید الطاف نے اس موقع پر تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پے پال سروس کو متعارف کروایا جائے۔ اجلاس سے سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر انجینئر منظور الٰہی ٗ نائب صدر جنید الطاف ٗ سابق صدور ریاض ارشد ٗ ذوالفقار علی خان ٗ فیض محمد فیضی ٗ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین مجیب الرحمان ٗ وقار احمد ٗ محمد اورنگزیب ٗ ظہور خان ٗ عبدالجلیل جان اور دیگر نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور تاجروں ٗ صنعتکاروں کے مسائل و مشکلات سے صوبائی وزیر خوراک عاطف خان کو تفصیلاً آگاہ کیا اور ان کے فوری حل کیلئے مختلف تجاویز و سفارشات بھی پیش کیں۔
516 total views, no views today



