امریکن سوسائٹی برائے انسانی جینیات(American Society for Human Genetics) نےسوات کے نامور جینیاتی محقیق اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس کو انسانی جینیات کےشعبے میں نہایت اعلٰی پائے کا تحقیقی کام کرنے پربین ا لاقوامی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے.
ڈاکٹرمحمد الیاس نے مالیکیولر بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور بعد میں یونیورسٹی کالج لندن سے پوسٹ ڈاک کیا۔ ان کے پاس اعلی درجے کے بین الاقوامی اداروں جیسے ہارورڈ یونیورسٹی میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انکو اپنے کیرئیر میں کئی اعزازات سے نوازا گیا جس میں انٹرنیشنل فیلوشپس ، بہترین نوجوان سائنسدان ایوارڈ ، بہترین ریسرچ پیپر ایوارڈ ، اور پروڈکٹیو سائنسدان سمیت کئی ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے تحقیقی مفادات میں نسلی اور قبائلی مخصوص تغیرات کا پتہ لگانے کے لیے جدید سالماتی نقطہ نظر کا استعمال شامل ہے جو کہ پشتون آبادی میں زیادہ پھیلاؤ والی نایاب بیماریوں کی کلید ہوسکتی ہے۔ وہ ان گروپوں کے جینیاتی پس منظر کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان میں پشتونوں کے جینوم کا وسیع تجزیہ اور دیگر انسانی آبادیوں کے ساتھ ان کے جینیاتی تعلقات پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انکا کام کئی بین الاقوامی جرنلز میں شائع ہوچکاہے۔اس کے علاوہ انکی ایک کتاب پشتونوں کا جینیاتی مطالعہ بھی چھپ چکی ہےجو کافی زیادہ مقبول ہے۔
امیرکن سوسائٹی برائے ہیومن جینیٹکس کے اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹر محمدالیاس کو اکتوبر 2021 کو ایک تقریب میں جو کہ امریکہ میں منعقد ہوں گی،انعام سے نوازا جائے گا. اس تقریب میں سنٹر فار اومکس سائینسز اسلامیہ کالج کے ڈاکٹر الیاس ہیومن جینیٹکس کے بارے میں اپنی جدید ترین تحقیق سے دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین کو آگاہ کریں گے۔
866 total views, no views today



