لاہور: گرین شرٹس نے ایک بار پھر ایشیا فتح کرنے کا خواب آنکھوں میں سجالیا، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ایونٹ میں شریک پانچوں ٹیمیں بنگلہ دیشی کنڈیشنز میں اچھا کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،کوئی فیورٹ نہیں ہوگا۔
گذشتہ 2سیریز میں فتوحات کی بدولت بلند حوصلہ پاکستانی ٹیم کسی بھی مضبوط حریف کو زیر کرسکتی ہے، ان کے مطابق بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی اچھی کارکردگی مستقبل کیلیے نیک شگون ہے، ہر کھلاڑی کو صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کیلیے جان لڑانی پڑے گی، دھونی کی عدم موجودگی کے باوجود بھارتی ٹیم سخت چیلنج ثابت ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق ایشیا کپ میں شرکت کیلیے قومی کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش روانگی جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب لاہور کے علامہ اقبال ایئر پورٹ سے شیڈول تھی،15رکنی اسکواڈ میں مصباح الحق (کپتان)، محمد حفیظ، احمد شہزاد، شرجیل خان،شاہد خان آفریدی، عمر اکمل، صہیب مقصود، فواد عالم، سعید اجمل، عبدالرحمان، جنید خان، عمر گل، انور علی، بلاول بھٹی اور محمد طلحہٰ شامل ہیں،ہیڈ کوچ معین خان، بولنگ کوچ محمد اکرم، فیلڈنگ کوچ شعیب محمد اور منیجر ذاکر خان بھی ہمراہ ہیں۔
قذافی اسٹیڈیم میں تربیتی کیمپ جمعے کو صبح پہلے سیشن میں ٹریننگ کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کپتان مصباح الحق نے کہا کہ ایشیا کپ میں شریک پانچوں ٹیمیں بنگلہ دیش کی کنڈیشنز سے واقف اور وہاں اچھا کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، کسی ایک کو فیورٹ قرار نہیں دیا جاسکتا،گذشتہ ایونٹ میں میزبان ٹائیگرز نے بھارت اور سری لنکا جیسے مضبوط حریفوں کو زیر کرلیا تھا، ہوم گرائونڈ اور کرائوڈ کی موجودگی میں اس بار بھی وہ خطرناک ہونگے،انھوں نے کہا کہ ایشیا کپ میں شامل تمام ٹیموں کیلیے حالات یکساں سازگار ہیں،گرین شرٹس کو کامیابی کیلیے سخت محنت کرنا ہوگی،اپنی بہتر پرفارمنس کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے اعزاز کے دفاع کیلیے بھرپور کوشش کریں گے۔
پاکستانی قائد نے کہاکہ ہماری ٹیم نے گذشتہ2 سیریز میں اچھا پرفارم کیا،بولنگ کے ساتھ بیٹنگ میں بھی کارکردگی بہتر رہی، یہ مستقبل کیلیے بڑا مثبت پوائنٹ اور اچھا شگون ہے، لوئر آرڈر میں بلاول بھٹی اور انور علی نے اہم رنز بنائے، شاہد آفریدی کا بیٹ بھی چل پڑا،آل رائونڈر نے چند مفید اور اہم اننگز کھیلیں،آئندہ برس ورلڈ کپ کے دوران آسٹریلوی کنڈیشنز میں لوئر آرڈر کی پرفارمنس بھی اہم ہوگی،اسی کے پیش نظر تیاری کررہے ہیں۔ مصباح الحق نے کہا کہ بڑی ٹیموں کیخلاف کامیابیوں سے ٹیم کے اعتماد میں اضافہ ہوا، حال ہی میں پلیئرزکو ڈومیسٹک ٹوئنٹی20 ایونٹ میں اپنا کھیل نکھارنے کا موقع ملا،کنڈیشننگ کیمپ میں بھی اچھی پریکٹس مل گئی، متوازن اسکواڈ میں کسی بھی مضبوط حریف کو زیر کرنے کی اہلیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ حالیہ پرفارمنس سے بلند حوصلہ کھلاڑی بنگلہ دیش میں بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق بھرپور فائٹ کرنے میں بھی کامیاب ہوں۔
ایشیا کپ کی بساط کیلیے اہم مہروں کے سوال پر انھوں نے کہا کہ کسی بھی ایونٹ میں صرف 1یا2کھلاڑیوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا، پوری ٹیم کا مورال بلند ہے، ہر کوئی اپنے کردار سے انصاف کرنے کیلیے جان لڑائے تو فتح کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ایک سوال پر پاکستانی قائد نے کہا کہ دھونی تجربہ کار کھلاڑی اور کپتان ہیں، ان کی عدم موجودگی سے فرق تو پڑے گا لیکن بھارت کے پاس متبادل کھلاڑیوں کی اچھی کھیپ موجود ہے، ان کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے دنیش کارتھک بھی اچھے وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں، بلو شرٹس بنگلہ دیشی کنڈیشنز میں سخت حریف ثابت ہوں گے،ان سے ہمارا کوئی میچ بھی غیر اہم نہیں ہوتا، دنیا بھر کی نظریں دونوں ٹیموںکی پرفارمنس پر مرکوز ہوتی ہیں،فتح کو گلے لگانے کی کوشش کریں گے۔
مصباح الحق نے کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ناکامی کا دبائو ہر پلیئر پر ہوتا لیکن پروفیشنل کاکام ہر صورتحال کا مقابلہ کرنا ہے، عالمی سطح پر کھیلنے اور پہچان بنانے کا مطلب یہی ہے کہ آپ تمام حالات میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کپتان نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ بولرز کے معاملے میں روٹیشن پالیسی اختیار کریں تاکہ کسی پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اور انجریز نہ ہوں، ڈاکٹر، فزیو اور بولنگ کوچ کے ساتھ اس معاملے میں مشاورت جاری رہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معین خان کچھ عرصے سے ٹیم کے ساتھ اور کھلاڑیوں کے مسائل، سوچ و تیاریوں کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہیڈ کوچ کو ٹیم سے مطابقت پیدا کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ ایشیا کپ 25 فروری سے 8 مارچ تک ہونا ہے،گرین شرٹس پہلے معرکے میںسری لنکاکے مقابل ہونگے۔
1,040 total views, no views today


