شانگلہ(سوات نیوز) سنگدل اور بدبخت ماں نے اپنی گھناونی کرتوت چھپانے کے خاطر اپنے جگر گوشے کو ابدی نیند سلادیاپولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے بدولت اندھے قتل کیس کا سراغ لگا کر قتل کا ڈرا پ سین کر دیا گیاپولیس تھانہ الپوری کے مطابق علاقہ زڑہ ڈہرئی میں ایک کم سن بچہ اعجازلحق ولد صاحب زادہ کی مشکوک فوتگی 5/6دن قبل ہوئی ہے، اس نسبت رپورٹ درج روزنامچہ ہو کر انکوائری شروع کردی گئی۔ بعد میں مجاز عدالت کی حکم پر قبر کشائی ہوکر میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچے کو قتل قرار دیاگیا۔ ایس ایچ او تھانہ الپوری محمد عارف کی مدعیت میں بدبخت ماں کے علاوہ دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات میں مقدمہ درج ہوا۔ اس اندوہناک سانحہ کی خبر پر ضلعی پولیس سربراہ رحیم شاہ خان نے ترجیحی بنیادوں پر ایک تجربہ کار اور قابل آفسران پر مشتمل تفتیشی ٹیم زیر نگرانی ایس پی انوسٹی گیشن شانگلہ مزمل شاہ جدون تشکیل دی۔ تفتیشی ٹیم سب ڈویژنل پولیس آفیسر الپوری محمد فاضل، ایس ایچ او تھانہ الپوری محمد عارف اور تفتیشی آفیسر رافیع اللہ خان پر مشتمل تھی۔ تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کے بدولت دن رات کام کرتے ہوئے باریک بینی سے واقعہ کی تہہ تک پہنچی۔ تفتیشی ٹیم نے جدید سائینسی خطوط کے زریعے بچے کی بے دردی سے قتل میں ملوث چھ ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ دوران تفتیش مختلف کرداروں سے واسطہ پڑا، جس میں مرکزی ملزمہ مسماۃجان بختہ نے سردار علی، عمر زادہ کیساتھ ملکر اپنے بیٹے کوپھندا لگا کر رات کی تاریکی میں قتل کر دیا۔ دوران تفتیش ملزمان نے مبینہ طورپر انکشاف کیا کہ متوفی اعجاز الحق نے ہمیں قابل اعتراض حالت میں دیکھے تھے اور والد کو انکھوں دیکھاحال بتانے کی دھمکی دی تھی۔ جسکی ڈر سے ہم نے رات کی تاریکی میں سوتے ہوئے بچے کے گلے میں پھندا ڈا ل کر قتل کیا۔ بچے کو غسل دینے اور جرم چھپانے کی پاداش میں محمد حکیم، گل زادہ اور محمد رفیق کو شامل تفتیش کرکے ملزمان ٹھہرائے گئے۔ اصل حقائق منظر عام پر لایا جا کر عدالت مجاز میں تمام ملزمان نے اقرارجرم کیا۔ ٭۔بدبخت ماں کی نشاندہی پر آلہ قتل یعنی پھندا(دوپٹہ)برامد کر لیا گیا۔ ملزمان میں سے ماں جہان بختہ، محمد حکیم، گل زادہ اور محمد رفیق کو جوڈیشل حوالات بھیجا گیا، جبکہ دیگردو ملزمان یعنی سردار علی اور عمرزادہ سے مزید تفتیش جاری ہے۔
558 total views, no views today



