کجری کی تین جھیلیں،،، پہلی جھیل تقریباً تیرہ ہزار فِٹ کی بلندی پر، دوسری جھیل تیرہ ہزار دو سو فٹ کی بلندی پر اور تیسری جھیل تقریباً چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔
ان جھیلوں تک پہنچنے کے ذرائع:
سوات کے سیاحتی مقام کالام سے وادیِ اتروڑ تک کسی بھی گاڑی میں بیٹھ کر جانے کے بعد شاہی باغ گبرال کے لیے بائک یا جیپ میں بیٹھ کر چلے جائیں۔ شاہی باغ بہت ہی عمدہ جگہ ہے اور گزشتہ دو تین سالوں سے اپنی منفرد خوب صورتی کی وجہ سے یہ جگہ کافی مشہور ہو چکی ہے۔

شاہی باغ سے کجری جھیلوں کے لیے پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ شفاف پانیوں کی ندی کے دائیں سمت سفر جاری رکھیں۔ تین گھنٹے کا سفر ندی کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ دائیں بائیں بلند و بالا پہاڑی سلسلے اور ان پہاڑوں سے گرتے پانی کے دھارے، جھرنوں اور آبشاروں کی صورت میں، آپ کی پوری توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے۔ تین گھنٹوں کے سفر بعد ایک آبشار آتا ہے اور چھوٹا سا میدان نما ایک بانڈہ (چراگاہ) ہے۔ مٹی اور گارے سے بنے، چرواہوں کے کچے دو تین گھروندے ہیں۔ سرسبز اور ہری چراگاہ کے بیچ ندی کا شفاف پانی بہتا ہے۔ ایک آبشار بلندی سے گرتا ہے۔ یہ جگہ بذاتِ خود ہمیں اس قدر پسند آئی کہ ہم نے یہاں پڑاؤ کہ فیصلہ کیا۔ ندی کنارے دو عدد خیمے بس گئے۔ شام ہونے کو تھی۔ پانچ بندے خیموں کے قریب ندی کنارے بیٹھ گئے۔ زمانہِ قدیم کی یاد تازہ کرتے ہوئے آگ کا الاؤ روشن کیا گیا۔ ہانڈی پکنے لگی اور داستانِ الف لیلی کے قصے کہانیوں کی بجائے دورِ جدید کی مشینوں کی باتیں ہونے لگیں۔ بلند پہاڑوں کے بیچ سفید رنگ کا پرنور ہالہ تالی نما صورت میں آکاش کی وسعتوں میں نمودار ہوا اور ہر سمت اس کا نور بکھر گیا۔ آہ، منظر بدل گیا، سمے بدل گیا اور جذبات بدل گئے۔ ہمیں کیا خبر تھی، آج تو چودھویں کی شب تھی۔ ہمیں تو کسی نے بتایا تک نہیں تھا۔ بالکل بے خبری میں اتنا بڑا ڈرامہ ہوا۔ کبھی کبھی بے خبری میں کتنی بڑی ٹریجڈی ہوتی ہے۔ یہ ٹریجیڈی خوش گوار تھی۔

خواجہ سعید نامی،، نامی گرامی فوٹو گرافر کو فوٹو شوٹ کرنے کا موقع ملا، عابد روز جیسے من چلے کو ویڈیو بنانے کا بہانہ مل گیا اور سنی چاؤلہ کو بھی گدگدی ہونے لگی۔ محمد ریحان بھائی منظر میں کھو گیا اور خانہ بدوش منظر کی تاب نہ لاتے ہوئے فوراً چل بسا۔ اچھا ہی ہوا، خس کم جہاں پاک۔۔۔
۔۔۔۔۔
کسی نے یہ کہا تھا، اس چراگاہ کو جنت بانڈہ کہتے ہیں۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا۔
جنت بانڈہ کے قریب جو ندی بہتی ہے، وہ تند و تیز ہے اور یخ بستہ ہے۔ جتنا آگے جاتے ہیں، ندی کی تندی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جتنی جلد ہوسکے، اس ندی سے چھٹکارا حاصل کریں اور اسے پار کیجیے۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہیں تھی۔ ہمیں تو بے خبری میں مارا گیا۔ ندی پار کرکے آگے کا سفر جاری رکھیں۔ جہاں بائیں طرف سے ایک پہاڑی نالہ آپ کو بہتا ہوا نظر آئے، وہاں آپ ندی کے سفر کو خیر باد کہیں اور اسی نالہ کے بائیں جانب پہاڑی میں اپنا سفر شروع کریں۔ یہاں سے آگے کا راستہ دشوار ہے۔ پہاڑی پے چڑھنا ہے۔ پہاڑی پر کافی چڑھنے اور آگے جانے کے بعد نالہ آپ کے سامنے آتا ہے۔ بسم اللہ کرکے اسے پار کیجیے اور اب اوپر آسمان کی طرف دیکھئیے۔ نیلا امبر، ابر کے ٹکڑے، آفتاب کی گولائی دیکھنے کے بعد اب نظر ذرا دھرتی ماتا پر ڈالیں، آپ کو بھورے ہمالیائی ریچھ کی طرح کی ایک چیز دکھائی دے گی، وہ چیز قد میں ہمالیائی ریچھ سے کئی ہزار گنا بڑی ہوگی اور آپ کو اپنے سر کے بالکل اوپر نظر آئے گی۔۔۔ ہاں جناب آپ نے ٹھیک پہچانا، وہ چیز کچھ اور نہیں بل کہ “پہاڑی” ہی ہے مگر عمودی ہے اور اس پے آپ نے چڑھنا ہے مگر جھاڑیاں اور سنگ ریزے آپ کے ہم سفر ہوں گے۔ یہ پہاڑی آپ کے پسینے چھوٹنے کے لیے بالکل مناسب ہے۔ چلیں قدم رکھیں، مگر قدم رکھنے سے پہلے اپنے آپ کو ضرور پرکھیں، پھر نہ کہنا ہمیں بے خبری میں مارا گیا۔۔۔۔
شدید چڑھائی سے چھٹکارا پانے میں آپ کو ایک گھنٹہ لگتا ہے اور ہاں کجری سیریز کی پہلی جھیل کی جھلک آپ کو یہاں نصیب ہوتی ہے۔ جھیل کی خوب صورتی کو الفاظ میں بیان کرنے سے بہتر ہے آپ اس کی چند عدد تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔ اتنا ضرور بتاتا ہوں، جھیل بڑی ہے، گول مٹول ہے، بلندی تیرہ ہزار ایک سو فٹ کے لگ بھگ ہے اور آس پاس کے برف پوش پہاڑوں نے جھیل کی خوب صورتی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

شاہی باغ سے کجری کی پہلی جھیل تک پہنچنے کے لیے تقریبا آٹھ سے نو گھنٹے لگتے ہیں۔ چالیس فی صد متوسط راستہ ہے، باقی مشکل ہے،، کہیں کہیں مشکل ترین ہے۔
کجری کی دوسری اور تیسری جھیلوں کے علاوہ اس وادی کی دو اور جھیلوں کے نظارے کرنے کے لیے آپ کو بس چند دن کا انتظار کرنا پڑے گا۔ کوشش ہوگی، تفصیلاً ان جھیلوں کا ذکر اپنے الفاظ اور تصاویر میں کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹریک کے دیگر ساتھی:
خواجہ سعید
عابد روز
سنی چاؤلہ
محمد ریحان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخدا، ان احباب کی کمپنی نہایت اچھی تھی۔ جتنے مزے ان کی رفاقت میں حاصل ہوئے، بیاں سے باہر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و عکاسی: خانہ بدوش

1,250 total views, no views today



