سوات ،سیدو گروپ اف ٹیچنگ ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج ،حاملہ خاتون کو ہسپتال میں بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے ننھا بچہ دنیا میں انے سے پہلے ہی رخصت ہوگیا ،ڈی ایم ایس کے حکم پر خالہ اور دو نرسزکو وارڈ سے تبدیل کردیا،ذرائع کے مطا بق گزشتہ روزسیدو گروپ اف ٹیچنگ ہسپتال کے سینٹرل ہسپتال گائنی وارڈ میں حاملہ خاتون(مسماۃ کلثوم زوجہ فیض الحق ) کابچہ پیدائش سے پہلے موت کے منہ میں چلاگیا ،جبکہ ورثاء کا کہناتھا کہ پیر کے روز الٹراساؤنڈ میں بچی زندہ تھی ،نرسوں کے غفلت اور لاپر واہی کیوجہ سے بچہ دنیا سے چلاگیا ، وارڈ کے خالہ مسماۃ دلشاد اور دونرسوں مسماۃ روبینہ اور مسماۃ ذاکرہ نے خا تون کو وارڈ میں جگہ نہ دینے کا بھی کہا ،جبکہ خاتون کو دوسرے وارڈ میں بھی جگہ نہیں ملی جس کیوجہ سے حاملہ خاتون کے ورثاء نے وارڈ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور ایم ایس،ڈی ایم ایس کیخلاف شدید نعرہ بازی کی ،سینٹرل ہسپتال کے ڈی ایم ایس ایوب نے دونوں نرسوں اور خالہ کو وارڈ سے تبدیل کردیا اور مزید انکوئری کا حکم بھی جاری کیا ،یاد رہے کہ حاملہ خاتون کلثوم ،ڈاکٹر محفو ظ الحق کے بھابی تھی ڈاکٹر محفوظ الحق سیدو میڈیکل کالج میں طلبہ بطور استاد بھی کام کررہے ہیں۔اسی طرح چلڈرن وار ڈ میں بچی کو طبی سہولت نہ دینے کیوجہ سے شاہ ڈھیرئی کے علاقہ مانڑی کے خاتون کو کلاس فور ملازم حمید سکنہ فیض اباد نے مارا پیٹا خا تون نے سیدو شریف تھانہ میں حمید کیخلاف رپورٹ درج کردی۔
674 total views, no views today


