سوات، صوبائی حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی نافظ کرنے کی باوجود تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں سے صرف چھ فیصد خرچ کیا ہے اور چوراسی فیصد رقم تاحال خرچ نہ ہوسکا سنٹر فار گورنس اینڈ پبلک اکاونٹی بیلٹی کی رپورٹ، سوات مینگورہ میں دو روزہ تعلیمی بجٹ اور احتساب کے نام سے منعقدہ سمینار کو اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے مزکورہ ادارے کے پروگرام منیجر ملک مسعود نے کہا کہ بجٹ پر بحث کرنا اور اس پر سمجھنا عام لوگوں ،متعلقہ محکموں کے اہلکاروں اور صحافیوں کو سمجھنا چاہئے کیونکہ معلومات تک رسائی لوگوں کا آئینی حق ہے کہ حکومت عوام کے لئے جن مصنوبوں پر کام کررہی ہے اس کے تمام تر تفصیل عام لوگوں کے سامنے آجائے انہوں نے کہا کہ خیرپختون خوا حکومت نے سال 2013-14کے بجٹ میں تعلیم کے لئے اٹھ ارب سے زائد براہر است اور گیارہ ارب تک غیر ملکی قرضوں اور امداد سے رقم رکھ دی ہے جو کل مل کر بیس ارب روپے تک بنتی ہے مگر بدقسمتی سے اب تک صرف چھ اعشاریہ سات فیصد بجٹ تعلیم پر خرچ کی جاچکی ہے اور چھوراسی فیصد تاحال خرچ نہ ہوسکی جن کا لیپس ہونے کا خطرہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر بقایا مدت میں یہ رقم ہنگامی بنیادوں پربھی خڑچ کی جائی تو اس میں کوالٹی نہیں رہیگی ، اس موقع پر ضلع سوات کے زنانہ و مردانہ محکمہ تعلیم کے افسیرز بھی موجود تھی ، سیمنار میں بجٹ اور اس کی مختلف فیکٹرز تفصیلی بحث کی گئی اور عوام کے لئے بنائے گئے بجٹ میں تیکنکی غلطیوں اور کرپشن کی نشاندہی کی گئی۔
678 total views, no views today


