تحریر: وقار احمد سواتی
خواتین کے مسائل کر بروقت حل کرنے کے لئے ملاکنڈ ڈویژن کے تاریخ میں پہلی بار سوات میں وومن پولیس اسٹیشن قائم کردی گئی ہے،وومن پولیس اسٹیشن میں خاتون ایس ایچ او،ایڈیشنل ایس ایچ او،محرر سمیت 15خواتین اہلکاران و سٹاف تعینات ہے، وومن پولیس اسٹیشن میں تعینات پہلی خاتون ایس ایچ او نیلم شوکت خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
پندرہ سالوں سے محکمہ پولیس میں اپنی خدمات سرانجام دینے والی سوات وومن پولیس اسٹیشن کی پہلی ایس ایچ او نیلم شوکت کا تعلق ضلع سوات سے ہے اور انہوں نے ڈبل ماسٹرز کے ڈگریاں حاصل کرلی ہے،

وومن پولیس اسٹیشن کے قیام اور ان کی تعیناتی پر نیلم شوکت نے خوشی کا اظہار کردیا اورکہا کہ خواتین کے لئے پولیس اسٹیشن کا قیام خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ پولیس کا انتہائی اچھا اقدام ہے۔
نیلم شوکت نے کہا کہ پہلے پولیس اسٹیشن میں ایس ایچ او، ایڈیشنل ایس ایچ او، محرر اور تمام سٹاف خواتین پر مشتمل ہے تو اب خواتین کو پولیس اسٹیشن میں اپنا مسئلہ بیان کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اب خواتین کھل کر ہمیں اپنے مسائل بیان کرینگے اورہم ان کے مسائل کوحل کرنے کے بھرپور کوشش کرینگے۔

ایس ایچ او نیلم شوکت نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی اور مشکل حالات میں بھی ڈیوٹیاں سرانجام دی ہے اور اب بھی کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے بھرپور تیار ہیں انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشن میں 15خواتین پولیس اہلکار موجود ہے جو کہ انتہائی تربیت یافتہ ہے اور اپنی ڈیوٹیاں بہ خوشی سرانجام دے رہی ہیں۔
وومن پولیس اسٹیشن میں تعینات پولیس آفسران اور پندرہ اہلکار سوات میں خواتین کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو قانونی معاونت بھی فراہم کرنے میں مدد کرینگے،ایس ایچ او نیلم شوکت نے سوات کے خواتین کو پیغام دیتی ہوئی کہا کہ ہم اگر کسی خاتون کو کوئی بھی مسئلہ ہوں تو ہمارے اسٹیشن اسکتی ہے یا ہماری ساتھ فون پر رابطہ کرسکتے ہیں ہم ان کے مدد کے لئے تیار ہیں۔
سوات وومن پولیس اسٹیشن کے خواتین پولیس کافی تربیت حاصل کرچکی ہیں اور وہ ملک وقوم اور خواتین کے مسائل بہتر انداز میں حل کرنے کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ان میں ایک ایک ستارہ زیبی ہے۔
ستارہ زیبی نے دوہزار دس میں کانسٹیبل کے حیثیت سے پولیس فورس جائن کی ہے اور وہ بہ خوشی اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے انہو ں نے کہا کہ اب خواتین ہمارے ہاں کھل کر اپنا مسئلہ بیان کرینگے اور ان خواتین کے لئے ہم بہ خوشی خدمت کے لئے تیار ہیں۔
خالدہ رفیق ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے سوات میں وومن پولیس اسٹیشن کے قیام پر خوشی کا اظہار کردیا اور کہا کہ وومن پولیس اسٹیشن اچھا اقدام ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے صوبے کی سطح پر کم از کم ہر ضلع میں ایک وومن پولیس اسٹیشن قائم کی جائی اس سے تمام خواتین کو تحفظ ملے گا،وومن پولیس اسٹیشن میں خواتین اپنے مسائل کو کھل کر بیان کرسکیں گی اور اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرسکیں گی انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں خواتین کو الگ پولیس اسٹیشن کا ہونا ایک مذہبی اور اخلاقی فرض کے زمرے میں آتا ہے،وومن پولیس اسٹیشن سے بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کا سدباب ہوگا اور بے گناہ خواتین کی بروقت قانونی داد رسی ہوگی۔

1,138 total views, no views today



