سوات، سوات پر لکھی گئی تاریخی و تحقیقی کتاب ” ادھیانہ کنگڈم ” کی تقریب رونمائی حجرہ رحیم شاہ لالہ رحیم آباد میں منعقد ہوئی جس میں علاقے کے بڑی تعداد میں ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں اور معزیزین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،فضل خالق فضل کی لکھی ہوئی اس کتاب کی تقریب لالہ رحیم شاہ فاؤنڈیشن اور سوات ادبی سانگہ کے زیر اہتما م کی گئی ، تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شیر محمدخان نے کہاکہ ترقی یافتہ اقوام نے تحقیق کرکے نمایا مقام حاصل کردیاہے کئی ممالک سیاحت کے زریعے زرمبادلہ حاصل کررہے ہیں اور اس طرح کے کوششیں ہماری ایک بہتر تصویر پیش کررہی ہے، انہوں نے ادھیانہ کنگڈم کو ایک اچھی کاوش قرار دے دیا، اس موقع پر سابق صوبائی وزیر جنگلات واجد علی خان نے کہاکہ سوات کی اہمیت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا سوات میں کبھی سینکڑوں بدھ مت کے خانقائے ہوا کرتے تھے اور اب بھی اس کے اثرات یہاں پر موجود ہے جس جوکہ سوات اور پورے پاکستان کے لئے ایک بڑا اثاثہ ہے ان سے بہتر طورپر فائدہ اٹھایاجاسکتاہے انہوں نے فضل خالق کی کتاب کو سراہا اور مصنف کو مبارکبا د پیش کی، سوات ادبی سانگہ کے رہنما فضل محمودروخان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات ماضی میں قدیم تحزیبوں کا مسکن رہاہے اور سوات کو دنیابھرمیں ایک تاریخ اہمیت حاصل ہے فضل خالق نے اس کتاب میں سوات کی اہمیت کو مزید اجاگرکیاہے۔اس موقع پر یونیورسٹی آف سوات کے ارکیالوجی ڈیپارٹمنت کے پروفیسر زڑوورخان نے کتاب پر سیرحاصل تبصرہ کیا اور اسے طلباء کے لئے ایک بہترین تحفہ قرار دے دیا، ادیب محقیق زبیرتوروالی نے کہاکہ اس کتاب میں بہت سارے ایسے ارکیالوجی کے سائیٹس کا زکر کیا گیاہے جن کو تاحال حکومت یا غیر سرکاری ادروں نے نہیں دیکھاہے جوکہ حکومتی اداروں اور بین الاقوامی اداروں کے لئے رہنمائی کا حامل ہے، اس موقع پر پشتوزبان کا ایک مشاعرہ بھی منعقد ہواجس میں سوات کے معروف شعراء نے اپنے کلام پیش کئے جن میں ظفرعلی ناز، سکندحیات کسکر، عطاء للہ جان،شمس الرحمان شمس، برھاالدین حسرت، حنیف قیس وغیرہ نے اپنے کلام سنا کرسامعین سے داد وصول کئے۔
760 total views, no views today


