سوات(سوات نیوز)بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کو محکمہ تعلیم میں ضم کرنے اور اساتذہ کو مستقل کرنے کا مطالبہ 100فیصد نتائج لینے والے اساتذہ کرام موجودہ مہنگائی کے دورمیں چھ ہزار روپے تنخواہیں لینے پر مجبور ہیں سپریم کورٹ کے فیصلے اور حکومت کی جانب سے بار بار وعدوں کے با وجود تاحال ہمیں مستقل نہیں کیا گیا اس لئے ہم مرکزی اور صوبائی قائدین کی اپیل پر ایک پھر ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی دھر نا دیں گے ان خیالات کا اظہار بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز ایسوسی ایشن سوات کے صدر شیرین زادہ، جنرل سیکرٹری ارزومند،، ارشاد احمد،سلیمان خان اور حبیب احمد نے سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولزکا قیام 1996میں عمل میں لایا گیا جہاں پر ایک سکو ل ایک ٹیچر بنیاد پر ملک کے دور دراز علاقوں میں بچوں کو زیور تعلیم سے اراستہ کیا جارہا ہے 1500روپے پر بھرتی ہونے والے اساتذہ اب 8ہزار روپے تنخواں میں 2ہزار روپے کمرے کا کرایہ دے رہے ہیں ایک استاد ادنیٰ سے لیکر پنجم تک بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں، 2011میں ملک بھر کے اساتذہ کرام مستقل ہونے کے لئے اور ادارے کو محکمہ تعلیم میں ضم کرنے کے لئے ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیا تھا جس میں موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ جب ہماری حکومت ائے گی تو ہم تمام اساتذہ کو مستقل کریں گے اسی طرح احتجاجی دھرنوں میں ہم سے وعدے کئے گئے اور ہم نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹھایا ہے عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے اب بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا ہے صوبائی حکومت نے بھی معائنوں کے بعد تاحال ہمارے مسائل حل نہیں کئے اس لئے ہمارے مرکزی اور صوبائی قائدین ایک بار پھر احتجاجی دھرنے کی کال دینے پر مجبور ہورہے ہیں اور ملک بھر میں اضلاع کے سطح پر پریس کانفرنس ہورہے ہیں جس کے بعد احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا جائے گا، اس لئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بیسک ایجوکیشن سکولز کو محکمہ تعلیم میں ضم کرکے میل اور فی میل اساتذہ کرام کو مستقل کیا جائے ورنہ ہم اپنے بچوں کے ہمراں ایک بار پھر ڈی چوک اسلام آباد میں اپنے حق کے حصول کے لئے احتجاجی دھرنا کریں گے جسکی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی
756 total views, no views today



