پنجاب (بہ شمول جنوبی و شمالی پنجاب)کے منتخب اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد بڑی شدت سے احساس ہوا کہ سیاسی وعدے عمل سے کوسوں دور ہیں۔ کیوں کہ آفات سے نمٹنے کی جن تیاریوں اور ضروری اقدامات کا اخباری بیانات یا تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کتب سے پتہ چلتا ہے، عمل کے میدان میں ان اقدامات کاوجود دوربین سے دیکھنے سے بھی نہیں ملتا۔ کہنے کو تو اسپیشل ادارے وجود میں آچکے ہیں، مگر یہ ادارے کہاں کام کر رہے ہیں، آفات سے پہلے کیا تیاری ہے ان کی؟ ان سوالات کا جواب شاید صرف کاغذوں میں ہی مل سکے۔ عمل کے میدان میں ان کو خوردبین سے ہی دیکھنا پڑے گا۔
بہ ہرحال ہمارا مقصد آپ کو محکمۂ صحت کی تیاریوں سے آگاہ کرنا ہے جو اس نے سیلاب و دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے کر رکھی ہیں۔ ڈسٹرکٹ سول اسپتال جس کا بہت اہم رول ہوتاہے، آفات کے دوران میں مصیبت زدہ لوگوں کو طبعی امداد پہنچانے کا، پنجاب کے پچاس فی صد سے زیادہ ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں روٹین اسٹاف کی کمی ہے۔ چند اسپتالوں کے علاوہ (کم و بیش پچانوے فی صد) اسپتال ایمرجنسی یا آفت کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ آفت کو کنٹرول کرنا تو بہت دور کی بات ہے، خدانہ خواستہ اگر کسی ڈی ایچ کیو اسپتال میں آگ لگ جائے، تو ساٹھ فی صد سے زیادہ اسپتال اس قابل ہی نہیں کہ وہ بڑی تباہی سے پہلے آگ کو کنٹرول کرسکیں۔ کئی اسپتالوں میں تو آگ بجھانے والے آلات ہی نہیں ہیں۔ وارڈوز کے اندر متبادل دروازوں کی کمی ہے۔ ستّر فی صد اسپتالوں میں باہر نکلنے کے روٹس کی کمی ہے۔ اکثر ایک متبادل روٹ ہوتی ہے باہر نکلنے کی، مگر وہ بھی فنکشنل نہیں ہوتی۔پچاس فی صد سے زیادہ اسپتالوں کے پاس ایمرجنسی کو ڈیل کرنے کی کوئی عملی ایکشن پلان نہیں ہے۔ جن کے پاس اگر کوئی ایکشن پلان موجود ہے بھی، تو وہ سالوں تک اپ ڈیٹ نہیں ہوتی۔ آفات و ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی تربیت یافتہ ٹیم ہی نہیں ہے۔ روٹین کی ٹیم کو ہی ایمرجنسی کے حالات ہینڈل کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ٹیم بالکل غیر منظم ہوتی ہے۔ ذمہ دار اور ذمہ داریوں کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی۔ اسپتالوں میں ادویہ تو ہوتی ہیں مگر آلات اور ایمبولینسوں کی کمی ہے۔ جو ایمبولینس موجود ہیں، ان کی کنڈیشن کافی خراب ہے۔ ایمرجنسی آلات (آکسیجن سلنڈر، وینٹی لیٹر، فرسٹ ایڈ کٹ،ایمرجنسی کی ادویہ) اور ٹیم سمیت تیار رہنے والی ایمبولینس کا کہیں نام تک نہیں۔
خدا نہ خواستہ کہیں پر کوئی دھماکہ یا ایکسیڈنٹ ہو جائے جس میں درجنوں لوگ زخمی ہوجائیں، ایسی حالت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پنجاب میں شاید تین تا پانچ فی صد اسپتالوں کے پاس ہو، تو بھی خوش قسمتی ہے جب کہ باقی صوبوں کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اسپتالوں کے نظام میں سیاسی مداخلت اور افسر شاہی نے بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ سیاسی لوگ صلاحیت دیکھے بغیر نااہل ترین اور نکمے ترین افراد کو اہم ا نتظامی عہدوں پر بٹھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے مس مینجمنٹ ہوتی ہے اور اسپتالوں میں بیٹھے مسیحا، قصائی محسوس ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں کوالٹی کیئر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر کسی تڑپتے کو ڈاکٹر صاحب ڈھنگ سے چیک کرلے، تو وہ مریض خوش نصیب ٹھہرتا ہے۔
اس طرح ریفرل سسٹم نہ ہونے اور پرایمری و سیکنڈری سطح کے ہیلتھ سنٹرز کی صلاحیت کار محدود ہونے کی وجہ سے ڈی ایچ کیو اسپتالوں پر مریضوں کا بے انتہا بوجھ ہے جس کو اٹھانے کی سکت ان میں بالکل نہیں ہے۔
اسپتالوں کی اندرونی حالت بہت بری ہے۔ صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بدانتظامی بہت زیادہ ہے۔ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرس مناسب طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اسپتالوں کا عملہ ’’موٹی ویٹڈ‘‘ بالکل نہیں ہے۔ مایوسی اور اکتاہٹ ان کے چہروں پر اس وقت بھی دیکھی جاسکتی ہے جب کہ انھوں نے ایک مریض بھی چیک نہیں کیا ہوتا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ گورنمنٹ بے چاری کو روز روز کے اسپیشل ویکسی نیشن مہمات نے بے حال کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پورے پنجاب سمیت ملک بھر میں روٹین کے ویکسی نیشن پروگرام ڈسٹرب ہیں جو کہ تشویش ناک بات ہے۔
پنجاب کے کئی اضلاع میں ڈی ایچ کیو اور خصوصاً ضلعی ہیلتھ محکمے کے کئی انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کی بات کرنا عجیب لگتا ہے۔ جن سے اپنے ادارے اور روٹین کے کام چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو، وہ بے چارے آفات کا کیسے مقابلہ کریں گے۔
انتظامی عہدہ داران نے بھی سب کچھ گورنمنٹ پر چھوڑا ہوا ہے۔ اس سسٹم کو کوئی اپنانے کو تیار نہیں۔ اس نظام کو اپنا نظام سمجھ کر اس میں بہتری لانے کی سوچ کہیں نہیں پائی جاتی۔
ریسرچ وزٹ اور محکمۂ صحت کے ضلعی افسران سے ملاقات کے بعدتمام صوبوں میں نظام کی بہتری خصوصاً آفات سے نمٹنے کے لیے چند تجاویز دی جا رہی ہیں کہ شاید نقار خانے میں کوئی طوطی کی آواز بھی سن لے۔
1:۔ خالی انتظامی عہدوں پر اہل افسران کو فی الفور تعینات کیا جائے۔
2:۔ اسپتالوں میں عملہ کی کمی کو پورا کیا جائے۔
3:۔ تمام عملہ (انتظامی و میڈیکل) کو ایمرجنسی حالات کو ڈیل کرنے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
4:۔ آفات سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں کی استعدادِ کار کو بڑھایا جائے اور ہر سطح پربجٹ میں باقاعدہ وسایل مختص کیے جائیں۔
5:۔ ایمرجنسی سپلائیز اور جدید ایمبولینس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
6:۔ کرپشن، سیاسی مداخلت اور اقرباء پروری ختم کی جائے۔
7:۔ ہر سطح پر بہترین اور منصفانہ مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔
8:۔ ایمرجنسی و آفات سے نمٹنے کا سیل ہر شعبہ میں بھر پور وسایل اور تربیت یافتہ اسٹاف کے ساتھ قایم کیا جائے۔
9:۔ جب کہ انسداد آفات کا الگ محکمہ قایم کر کے اس کو ضلع اور تحصیل کی سطح تک وسعت دی جائے۔
10:۔ پرایمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط اور آفات سے بروقت آگاہی کا انتظام کیا جائے۔ عام لوگوں کو آفات سے سیلف پروٹیکشن کی تربیت دی جائے۔
11:۔ آفات اور اس سے نمٹنے کی تدابیر پر مشتمل بنیادی باتیں نصابِ تعلیم میں شامل کی جائیں۔
12:۔ مقامی سطح پر مخیر حضرات اور اداروں کے تعاون سے اسپتالوں میں عوام الناس کی بہتری کے لیے کام شروع کیے جائیں، مثلاً جھنگ کے کاروباری حضرات نے مل کر ڈی ایچ کیو میں غریب مریضوں کی مدد کے لیے سستی اور معیاری کینٹین کا آغاز کیا ہے۔
13:۔ تمام دفاتر میں خصوصاً محکمۂ صحت کے روٹین ورک، ریکارڈ اور کارسپانڈنس کو کمپیوٹرایزڈ کیا جائے۔
14:۔ عوام کو سرکار کی مدد اور مختلف پروگراموں میں شمولیت کے لیے راضی کیا جائے، تاکہ سرکاری اداروں پر لوگوں کا اعتماد قایم ہو۔
پنجاب (بہ شمول جنوبی و شمالی پنجاب)کے منتخب اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد بڑی شدت سے احساس ہوا کہ سیاسی وعدے عمل سے کوسوں دور ہیں۔ کیوں کہ آفات سے نمٹنے کی جن تیاریوں اور ضروری اقدامات کا اخباری بیانات یا تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کتب سے پتہ چلتا ہے، عمل کے میدان میں ان اقدامات کاوجود دوربین سے دیکھنے سے بھی نہیں ملتا۔ کہنے کو تو اسپیشل ادارے وجود میں آچکے ہیں، مگر یہ ادارے کہاں کام کر رہے ہیں، آفات سے پہلے کیا تیاری ہے ان کی؟ ان سوالات کا جواب شاید صرف کاغذوں میں ہی مل سکے۔ عمل کے میدان میں ان کو خوردبین سے ہی دیکھنا پڑے گا۔
بہ ہرحال ہمارا مقصد آپ کو محکمۂ صحت کی تیاریوں سے آگاہ کرنا ہے جو اس نے سیلاب و دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے کر رکھی ہیں۔ ڈسٹرکٹ سول اسپتال جس کا بہت اہم رول ہوتاہے، آفات کے دوران میں مصیبت زدہ لوگوں کو طبعی امداد پہنچانے کا، پنجاب کے پچاس فی صد سے زیادہ ڈی ایچ کیو اسپتالوں میں روٹین اسٹاف کی کمی ہے۔ چند اسپتالوں کے علاوہ (کم و بیش پچانوے فی صد) اسپتال ایمرجنسی یا آفت کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ آفت کو کنٹرول کرنا تو بہت دور کی بات ہے، خدانہ خواستہ اگر کسی ڈی ایچ کیو اسپتال میں آگ لگ جائے، تو ساٹھ فی صد سے زیادہ اسپتال اس قابل ہی نہیں کہ وہ بڑی تباہی سے پہلے آگ کو کنٹرول کرسکیں۔ کئی اسپتالوں میں تو آگ بجھانے والے آلات ہی نہیں ہیں۔ وارڈوز کے اندر متبادل دروازوں کی کمی ہے۔ ستّر فی صد اسپتالوں میں باہر نکلنے کے روٹس کی کمی ہے۔ اکثر ایک متبادل روٹ ہوتی ہے باہر نکلنے کی، مگر وہ بھی فنکشنل نہیں ہوتی۔پچاس فی صد سے زیادہ اسپتالوں کے پاس ایمرجنسی کو ڈیل کرنے کی کوئی عملی ایکشن پلان نہیں ہے۔ جن کے پاس اگر کوئی ایکشن پلان موجود ہے بھی، تو وہ سالوں تک اپ ڈیٹ نہیں ہوتی۔ آفات و ایمرجنسی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی تربیت یافتہ ٹیم ہی نہیں ہے۔ روٹین کی ٹیم کو ہی ایمرجنسی کے حالات ہینڈل کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ٹیم بالکل غیر منظم ہوتی ہے۔ ذمہ دار اور ذمہ داریوں کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی۔ اسپتالوں میں ادویہ تو ہوتی ہیں مگر آلات اور ایمبولینسوں کی کمی ہے۔ جو ایمبولینس موجود ہیں، ان کی کنڈیشن کافی خراب ہے۔ ایمرجنسی آلات (آکسیجن سلنڈر، وینٹی لیٹر، فرسٹ ایڈ کٹ،ایمرجنسی کی ادویہ) اور ٹیم سمیت تیار رہنے والی ایمبولینس کا کہیں نام تک نہیں۔
خدا نہ خواستہ کہیں پر کوئی دھماکہ یا ایکسیڈنٹ ہو جائے جس میں درجنوں لوگ زخمی ہوجائیں، ایسی حالت کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پنجاب میں شاید تین تا پانچ فی صد اسپتالوں کے پاس ہو، تو بھی خوش قسمتی ہے جب کہ باقی صوبوں کی صورت حال اس سے بھی بدتر ہے۔ پھر اسپتالوں کے نظام میں سیاسی مداخلت اور افسر شاہی نے بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ سیاسی لوگ صلاحیت دیکھے بغیر نااہل ترین اور نکمے ترین افراد کو اہم ا نتظامی عہدوں پر بٹھا دیتے ہیں جس کی وجہ سے مس مینجمنٹ ہوتی ہے اور اسپتالوں میں بیٹھے مسیحا، قصائی محسوس ہوتے ہیں۔ اسپتالوں میں کوالٹی کیئر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر کسی تڑپتے کو ڈاکٹر صاحب ڈھنگ سے چیک کرلے، تو وہ مریض خوش نصیب ٹھہرتا ہے۔
اس طرح ریفرل سسٹم نہ ہونے اور پرایمری و سیکنڈری سطح کے ہیلتھ سنٹرز کی صلاحیت کار محدود ہونے کی وجہ سے ڈی ایچ کیو اسپتالوں پر مریضوں کا بے انتہا بوجھ ہے جس کو اٹھانے کی سکت ان میں بالکل نہیں ہے۔
اسپتالوں کی اندرونی حالت بہت بری ہے۔ صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ بدانتظامی بہت زیادہ ہے۔ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر اور نرس مناسب طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اسپتالوں کا عملہ ’’موٹی ویٹڈ‘‘ بالکل نہیں ہے۔ مایوسی اور اکتاہٹ ان کے چہروں پر اس وقت بھی دیکھی جاسکتی ہے جب کہ انھوں نے ایک مریض بھی چیک نہیں کیا ہوتا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ گورنمنٹ بے چاری کو روز روز کے اسپیشل ویکسی نیشن مہمات نے بے حال کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پورے پنجاب سمیت ملک بھر میں روٹین کے ویکسی نیشن پروگرام ڈسٹرب ہیں جو کہ تشویش ناک بات ہے۔
پنجاب کے کئی اضلاع میں ڈی ایچ کیو اور خصوصاً ضلعی ہیلتھ محکمے کے کئی انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں۔ ایسی صورت حال میں ڈزاسٹر مینجمنٹ کی بات کرنا عجیب لگتا ہے۔ جن سے اپنے ادارے اور روٹین کے کام چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو، وہ بے چارے آفات کا کیسے مقابلہ کریں گے۔
انتظامی عہدہ داران نے بھی سب کچھ گورنمنٹ پر چھوڑا ہوا ہے۔ اس سسٹم کو کوئی اپنانے کو تیار نہیں۔ اس نظام کو اپنا نظام سمجھ کر اس میں بہتری لانے کی سوچ کہیں نہیں پائی جاتی۔
ریسرچ وزٹ اور محکمۂ صحت کے ضلعی افسران سے ملاقات کے بعدتمام صوبوں میں نظام کی بہتری خصوصاً آفات سے نمٹنے کے لیے چند تجاویز دی جا رہی ہیں کہ شاید نقار خانے میں کوئی طوطی کی آواز بھی سن لے۔
1:۔ خالی انتظامی عہدوں پر اہل افسران کو فی الفور تعینات کیا جائے۔
2:۔ اسپتالوں میں عملہ کی کمی کو پورا کیا جائے۔
3:۔ تمام عملہ (انتظامی و میڈیکل) کو ایمرجنسی حالات کو ڈیل کرنے کی خصوصی تربیت دی جائے۔
4:۔ آفات سے نمٹنے کے لیے اسپتالوں کی استعدادِ کار کو بڑھایا جائے اور ہر سطح پربجٹ میں باقاعدہ وسایل مختص کیے جائیں۔
5:۔ ایمرجنسی سپلائیز اور جدید ایمبولینس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
6:۔ کرپشن، سیاسی مداخلت اور اقرباء پروری ختم کی جائے۔
7:۔ ہر سطح پر بہترین اور منصفانہ مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔
8:۔ ایمرجنسی و آفات سے نمٹنے کا سیل ہر شعبہ میں بھر پور وسایل اور تربیت یافتہ اسٹاف کے ساتھ قایم کیا جائے۔
9:۔ جب کہ انسداد آفات کا الگ محکمہ قایم کر کے اس کو ضلع اور تحصیل کی سطح تک وسعت دی جائے۔
10:۔ پرایمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط اور آفات سے بروقت آگاہی کا انتظام کیا جائے۔ عام لوگوں کو آفات سے سیلف پروٹیکشن کی تربیت دی جائے۔
11:۔ آفات اور اس سے نمٹنے کی تدابیر پر مشتمل بنیادی باتیں نصابِ تعلیم میں شامل کی جائیں۔
12:۔ مقامی سطح پر مخیر حضرات اور اداروں کے تعاون سے اسپتالوں میں عوام الناس کی بہتری کے لیے کام شروع کیے جائیں، مثلاً جھنگ کے کاروباری حضرات نے مل کر ڈی ایچ کیو میں غریب مریضوں کی مدد کے لیے سستی اور معیاری کینٹین کا آغاز کیا ہے۔
13:۔ تمام دفاتر میں خصوصاً محکمۂ صحت کے روٹین ورک، ریکارڈ اور کارسپانڈنس کو کمپیوٹرایزڈ کیا جائے۔
14:۔ عوام کو سرکار کی مدد اور مختلف پروگراموں میں شمولیت کے لیے راضی کیا جائے، تاکہ سرکاری اداروں پر لوگوں کا اعتماد قایم ہو۔
636 total views, no views today


