غوث علی خان( ہومیو ڈاکٹر)
پیشاب کی حالت جب غیر معمولی ہو جاتی ہے، تو اس کے تہہ میں معدنی قسم کا تلچھٹ بیٹھ جایا کرتا ہے۔ یہ معدنی ذرات جو پیشاب میں تہہ نشین ہوتے ہیں، کبھی تو الگ الگ پڑے رہتے ہیں اور کبھی مل کر پتھریاں بن جاتے ہیں۔
بڑی وجوہات یہ ہیں:
1:۔ خوراک میں وٹامن اے کی کمی۔
2:۔ روزمرہ کی خوراک میں پانی اور تازہ سبزیوں کے استعمال کی کمی۔
3:۔ مرغن غذائیں، چاول، پالک، ٹماٹر وغیرہ کا زیادہ استعمال۔
4:۔ کوکنگ آیل یا ایسی دوسری چیزیں جن میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہو، کا استعمال۔
5:۔ بلا ضرورت پیشاب روکنے کی وجہ سے بھی پتھریاں بن سکتی ہیں۔
طبی وجوہات:
1:۔ اگر پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہو، تو بیکٹیریا، پس سیلز اور موکس ممبرین مل کر پتھری کا مؤجب بن جاتے ہیں۔
2:۔ میٹابولک ڈس آرڈر:۔ اگر ذرات کافی تعداد میں گزریں، تو ان میں یہ رطوبت بنانے کی خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں جو پتھری بننے کا سبب بن جاتی ہیں۔
موروثی وجوہات:
1:۔ کچھ لوگوں میں موروثی طور پر گردے میں پتھری بننے کا رجحان ہوتا ہے۔
2:۔ اگر گردے سے چھنا ہوا مایع یعنی Alkalin Urine ہو، تو فاسفیٹ پتھری بن جاتا ہے۔
3:۔ عام طور پر رحم کا اپنی جگہ سے ٹلنے یا پراسٹیٹ غدہ کے بڑھنے کی وجہ سے بھی پتھریاں بن سکتی ہیں۔
3:۔ فریکچر کی وجہ سے اگر مستقل طور پر ایک اڑخ پر لیٹا رہا جائے، تو بھی پتھری بن جاتی ہے۔
4:۔ تھائی رائیڈ ہارمون کے ڈسٹرب ہونے سے بھی کیلشیم گردوں میں جمع ہوکر کیلشیم اگزیلیٹ پتھریاں بناتا ہے۔
5:۔ یورک ایسڈ کی زیادتی سے بھی پتھریاں بن جاتی ہیں۔
6:۔ دواؤں کا غیر ضروری استعمال بھی پتھریاں بننے کا مؤجب ہوتا ہے۔
7:۔ جسم میں پایراڈاکسن کی کمی کی وجہ سے بھی پتھریاں بن سکتی ہیں۔
پتھریوں کی اقسام:
1۔ Calcium Oxilate: ایسی پتھری عموماً ایک ہوتی ہے۔ یہ کھردی، سخت اور بے قاعدہ ہوتی ہے۔ ایکسرے سے اس کی تشخیص آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی پتھریاں علامات جلد ظاہر کرتی ہیں۔ میوکس ممبرین سے ٹکرا کر یہ خون بہانا شروع کرتی ہیں۔ اس کا پیشاب زیادہ تیزابی ہوتا ہے۔
2:۔ Calcium Phosphate: ایسی پتھریوں کا پیشاب کیلشیم اگزیلیٹ کے برعکس الکلاین ہوتے ہیں اور پیشاب کو تیزابی کرکے ایسی پتھریوں کو نکالا جاتا ہے۔ اس قسم کی پتھریاں حجم میں دیگر پتھریوں کے مقابلہ میں بڑی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ خاموش رہتی ہیں۔ درد زیادہ پیدا نہیں کرتیں۔ لہٰذا رسیے میں زیادہ وقت گزارنے کی وجہ سے یہ بڑی بڑی ہوتی ہیں اور ان کو گھلا کر اور دواؤں کی مدد سے توڑ کر باہر نکالنا پڑتا ہے۔
3:۔ Uric Acids: اس قسم کی پتھریاں زرد رنگ کی اور تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں جو خون میں Uric Acidکی زیادتی سے بنتی ہیں۔ ان پتھریوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں ایکس ریز سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔
4:۔ Crystals: اگر نیو کلیک ایسڈ میں میٹا بولک سسٹم بگاڑ کا شکار ہو، تو اس کے نتیجہ میں بھی Systamic Crystalگردے کے اندر پتھری کی شکل اختیار کرتے ہیں۔
علامات:
گردے کا درد بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے جس طرف کے گردے میں یہ پتھری ہوتی ہے، درد آگے پیچھے دونوں طرف محسوس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی پیشاب میں خون آتا ہے، جن مریضوں کے پیشاب کی نالی میں انفکشن ہوتا ہے۔ وہاں پتھری بننے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور جہاں پتھریاں ہوتی ہیں، وہاں یورینری ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا پیشاب کی نالی کے انفکشن کو دور کرنا چاہیے اور اگر پتھری ہو، تو اسے بھی نکالنا چاہیے۔ پیشاب کرتے وقت جلن اور درد ہوتا ہے۔ کبھی کبھی پیشاب بند اور یا رک رک کر آتا ہے جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
علاج:۔ ہومیو پیتھک طریقۂ علاج گردے کی پتھریوں کو نکالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اس طریقۂ علاج میں علامات کی بنیاد پر سیکڑوں دوائیں موجود ہیں جو رحمت خدا وندی سے کم نہیں۔ کیوں کہ ان دواؤں کے ذریعے ڈھیرساری پتھریوں کو آپریشن کے بغیر نکالا جاسکتا ہے۔ پرانے زمانہ میں یہ پتھریاں آپریشن کے بغیر نکالنا مشکل کام تھا لیکن ہاینمین اعظم کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج نہ صرف گردوں کی پتھریاں بغیر آپریشن کی نکالی جاسکتی ہیں بلکہ مشکل ترین جگہ ’’پتہ‘‘ سے بھی پتھریاں نکالنا اس طریقۂ علاج کے ذریعے ممکن ہے۔
ایسے میں اگر آج ہم ڈاکٹر سمویل ہاینمین کو خراج تحسین پیش نہ کریں، تو نا انصافی ہوگی۔
2,590 total views, no views today


