محمد صلاح الدین رحمانی
میں نے گزشتہ کئی برسوں سردی ہو یا گرمی، خزاں ہو یا بہار، طبیعت سازگار ہو یا ناساز اُسے اپنی مقررہ جگہ پر اخبار بیچتے دیکھا ہے۔ ہنس مکھ، نٹ کھٹ اور خاص کر اس کے شانوں تک لہراتے بال، اسے انفرادیت بخشتے ہیں۔ بہ قول اُس کے ’’سڑک سے میری یاری پرانی ہے۔‘‘ اکتالیس سالہ محمد ادریس انھی سڑکوں پر اخبار بیچتا ہے اور اپنے گھر کا چولہا گرم رکھتا ہے۔ وہ اپنی کہانی کچھ یوں بیان کرتا ہے کہ ’’میرا نام محمد ادریس ہے۔ کبھی اپنے نام کے ساتھ ’’پرنس‘‘ لگایا کرتا تھا۔ بڑے بڑے خواب تھے میرے۔ لیکن پرنس تو میں اب بھی ہوں۔ گلیوں اور سڑکوں کا ’’پرنس۔‘‘ میری عمر اُس وقت گیارہ سال تھی۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ ہم کل چھ بہن بھائی ہیں۔ میرے والد ایک سندیافتہ ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے دوسری شادی کی اور اور ہم سے کنارہ کش ہوگئے۔ ہم ایک دم عرش سے فرش پر آگئے۔ پھر ہمارے بہن بھائیوں کا سارا بوجھ میرے اور میری والدہ کے کاندھوں پر آگیا۔ ہم نے چھ سو کرایہ پر مکان اٹھا لیا۔ میری والدہ سلائی کا کام کرنے لگیں۔ دو تین دن تو میں سوچتا ہی رہا کہ کیا کروں؟ کوئی ہمارے سر پر دست شفقت رکھنے والا نہ تھا۔ کیا عزیز، کیا رشتہ دار، سب نے منھ پھیر لیا۔ ہر ایک نیا مشورہ دینے لگا۔ پھر ایک دن میں نے اپنی ماں سے سو روپے لیے اور اپنے چھوٹے بھائی لطیف کو لے کر سڑک پر آگیا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ ایک اکیلا اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ ہم نے سو روپے کے اخبار خریدے اور انھیں بیچنا شروع کیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، بس اخبار فروش بن گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ بچپن میں میرا خواب تھا کہ میں وکیل بنوں گا لیکن آج حادثاتی طور پر اخبار فروش بن گیا ہوں۔‘‘
اس نے اپنی کہانی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’جب میں نے اخبار بیچنا شروع کیا، تو اُس وقت دیگر چیزیں تو کیا ہمارے پاس پانی پینے کے لیے گلاس تک نہیں تھا لیکن ہماری محنت رنگ لائی اور اب میرے چار بہن بھائی زیر تعلیم ہیں۔ گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔ میں نے اب اخبار کا اپنا اسٹال خرید لیا ہے جوکہ منظور شدہ ہے۔ میرے پاس اپنی موٹر سائیکل ہے۔ یہ سب کچھ میں نے دن رات کی محنت اور ماں اور بہن بھائیوں کی دعاؤں سے حاصل کیا ہے۔ آدمی کرنا چاہے، تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ کہانی آگے بڑھاتے ہوئے پہلے تو وہ ہنسا اور پھر کہنے لگا کہ ’’یہ لوگ بھی عجیب ہیں۔ ضمیر فروشوں اور قوم فروشوں کی بڑی عزت کرتے ہیں اور مجھ جیسے اخبار فروشوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن مجھے ان کی کوئی پروا نہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ بھوکے کو کھانا نہیں کھلاتے اور کھاتے پیتے کو دیکھ نہیں سکتے۔ میں ایک اخبار فروش ہوں۔ مجھے اس پر خوشی ہے کہ ’’منشیات فروش‘‘ نہیں ہوں، ’’ضمیر فروش‘‘ نہیں ہوں۔‘‘جب وہ اپنی کہانی سنا چکا، تو میں نے پوچھا کہ اپنے چاہنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہوگے؟ جواباًکہنے لگا: ’’میرے کیا چاہنے والے ہوں گے۔ بس، ہمت سے کام لیا جائے۔ آگے بڑھا جائے اور رب پر بھروسہ رکھا جائے۔ وہ کبھی مایوس نہیں کرتا اور ہمیشہ توقع سے زیادہ دیتا ہے۔‘‘ مجھے یہ تحریر روزنامہ آزادی کے مدیر کے حوالہ کرتے ہوئے فخر کا احساس ہو رہا ہے کہ میں نے آج ایک ایسے انسان پر قلم اٹھایا ہے، جو صرف ایک ’’اخبار فروش‘‘ ہے، ’’ضمیر فروش‘‘ نہیں۔محمد ادریس تیری عظمت کو سلام!
1,300 total views, no views today


