قاضی فضل اللہ شمالی امریکہ
سوشل میڈیا پر تسلسل سے بدتمیزی کا ایک طوفان برپا رہتا ہے ۔اس طوفان بدتمیزی میں کچھ دخل تو تعصبّات ،گروہ بندی اور باہمی تحاسد وتباغض کا بھی ہے جبکہ بہت کچھ تو صرف ریٹنگ کی غرض سے ہوتا ہے تاکہ فالورز اور ویورز ملے اور اشتہارات میں جو پرسنٹ ٹیج ملتا ہے اس میں بڑھوتری آجائے ۔یعنی وہی سرمایہ دارانہ ذہنیت وتصور اور سرمایہ دارانہ تحکّم کہ آج کی دنیا تو دولت کی لونڈی بن چکی ہے ۔
اب ایک تو اپنے ہم عصروں کے حوالے سے کلپس ہے جن میں سےا کثر میں تو وہ غلیظ باتیں ہوتی ہیں کہ اللہ کی پناہ!انسان سوچتا ہے خدایا!یہ انسانوں کو کیا ہوگیا ۔آخر یکدم سارے کے سارے یا اس کی اکثریت دیوانہ کیسے ہوگئی ۔سو یہ بات بھی قابل مذمت اور قابل نفرت ہے لیکن دین اور مذہب کے نام پر جو بدتمیزی کا طوفان برپا ہے اس سے تو روح لرز جاتا ہے کہ خداوندا!نہ خوف خدا رہا اور نہ خوف آخرت اور نہ ہی شرم وحیا اور مروت وآداب کا کوئی تصور باقی رہا۔اور یہ سب کچھ نہ ہو تو اسلام تو درکنار انسانیت کہاں رہی؟
تو ایک تو علم کلام کے عمیق ودقیق مسائل پر مناظرات کا بازار گرم ہے اور ان میں بھی اکثریت کا مقصد اپنے کو بڑا باخبر عالم تسلیم کروانا یا اپنے لئے ایک دو مسائل پر کوئی گروہ بنانا تاکہ ایک جانب اس کو ایک قسم کی لیڈرشپ حاصل ہو تاکہ اس اس کے نفس کی تسکین ہو کہ یہ ہیں غزالی دوراں اور رازی زمان اور متکلم وقت ۔اور دوسری جانب اسے اپنے متبعین کی جانب سے اکرام واحترام کے ساتھ ساتھ کچھ ہدیے ،نذرانے اور شکرانے بھی ملتے رہیں تاکہ اس کا دانہ پانی تو کیا عیاشانہ زندگی چلتی رہے ۔اس کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس طرح کرنے سے وہ کتنے مسلمانوں کو معتقدات کے حوالے سے تذبذب ،اضطراب اور شکوک وشبہات کا شکار کرجاتے ہیں ۔اب یہ تو شاید کہیں ہوا ہو کہ کسی کا متبع جانب مقابل کے دلائل وبراہین کے أساس پر قانع ومطمئن ہوکر اپنا گروہ تبدیل کرچکا ہو ۔اگر ایسا ہوا بھی ہو تو اس میں بھی دخل ہوگا کہ اپنے گروہ کے سرغنہ کے ساتھ یا گروہ میں کسی کے ساتھ کوئی عناد وبغض پیدا ہوا ہوگا کہ یا تو اس کو اہمیت نہیں دی جارہی یا وہ جس مقصد کے لئے ساتھ دیتا رہا وہ پورا نہیں ہوا یا پھر اس کی جس کے ساتھ اپنے گروہ کے اندر رقابت ہے وہ آگے نکل رہا ہے اور مجھے آگے نہیں آنے دے رہے۔
بعض دوسرے کسی فقہی مسئلے پر علمی اختلاف کو نفرت وتعصّب اور دشمنی کی بھینٹ چڑھا کر مناظرات کرتے رہتے ہیں اور مقصد ان کا بھی وہی ہے جو پہلے والے گروہ کا ہے۔حالانکہ اختلاف کوئی آج یا کل کا تو نہیں یہ تو صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ کے دور سے چلا آرہا ہے اور اگر اسلاف میں سے کسی کا کسی سے مباحثہ بھی ہوا ہے تو وہ صرف علمی اعتبار سے اور اس حوالے سے کہ دونوں مسائل میں سے اولیٰ یا اصح کیا ہے زیادہ تر یہی ہوا ہے۔لیکن ہمارے ہاں تو نفرت اس سطح پر پہنچ جاتی ہے کہ تذلیل اور تحقیر سے آگے تضلیل وتکفیر پر لے جایا جاتا ہے ۔
اور اب کے تو ہم یزید وحسینؓ ،صفین وجمل اور علیؓ ومعاویہؓ کو موضوع بحث بناچکے ہیں اور وہ وہ باتیں سننےمیں آتی ہیں کہ روح کانپ اٹھتا ہے کہ ارے بھائی!عجیب دل گردے والے لوگ ہیں بہت ہی دیدہ دلیری ہے ۔اب علیؓ ومعاویہؓ کا محاکمہ کرنا تو ایسا ہے جیسا کہ معاشرہ میں کوئی دھتکارا ہوا اٹھے کہ میں نے ملک کے سیاسی حکمران اور مقتدرہ کے جرنیل کے اختلافات کا فیصلہ کرنا ہے
‘‘سو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا’’
یہی معاملہ حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ کے محاکمے کا ہے ۔کوئی دیگر صحابہ کرامؓ کے مشاجرات کو زیر بحث لاتے ہیں۔رسول پاکﷺ نے فرمایا
واذذکر اصحابی فاسکتوا
جب میرے صحابہ کرامؓ کا ذکر آئے (یعنی ان کے اختلافات کا)تو خاموش رہو۔
لیکن پتہ نہیں ہم کس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
اور رہی بات یزید وحسینؓ کی تو جوباتیں پہلے سے علماء کلام نے فیصلہ کی ہیں تو کیا آپ کو کوئی نئی تازی وحی آئی ہے کہ ا سکو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان باتوں سے آپ دین اسلام اور مسلمانوں کی کیا خدمت کرنا چاہتے ہیں؟
اب جو أساسی تصورات قرآن وسنت سےصحابہ کرام ؓ کے حوالے سے ماخوذ ہیں اس کے خلاف جو باتیں تاریخ اور تاریخ دانوں نے لکھی ہیں تو پہلے تو یہ محاکمہ کیا جائے کہ تصورات قرآن وسنت کو لینا ہے یا کہ تاریخ کی باتوں کو؟تو ہمارے خیال میں ایسا تو کوئی مسلمان نہیں ہوگا جو مسلمان ہوکے یہ کہے کہ نہیں ہم نے تو تاریخ پر اعتماد کرناہے کیونکہ پھر تو اولین بات یہ ہوگی کہ کیا تصورات قرآن وسنت اس حوالے سے غلط ہیں؟معاذاللہ!تو یہ جرأت تو کوئی بھی نہ کرسکے گا ۔یہی تو وہ معیار ہے جو ہم کتب منزّلہ کے حوالے سے بطور اصل کے اصول التفسیر میں ذکر کرتے ہیں کہ سابقہ الہامی کتب پر ایمان رکھنا تو لازمی اور ضروری ہے کہ بغیر اس کے تو ایمان ہو نہیں سکتا اور وہ اس لئے کہ ایک تو ان سارے کتابوں کا منبع ایک ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔دوسرا ان ساری کتابوں کے اصولی موضوعات ومضامین ایک ہیں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں ۔البتہ اگر اصول کے حوالے سے کوئی بات ایسی ہو جو کہ قرآن کریم میں ایک طرح سے ہو اور کسی دوسری کتاب میں بالکل اس کے ضد کہ اس میں تاویل بھی ممکن نہ ہو تو پھر معیار قرآن کریم ہے اور وہ دوسری کتاب کی بات محرّف ہے ۔یعنی یہ مسلّمہ اصول ہیں ورنہ پھر تو نہ کوئی موقف رہتا ہے اور نہ کوئی ایمان رہے گا۔تو یہاں بھی وہی مسئلہ ہے کہ
‘‘ تاریخ ٹھیک ہے فی الجملہ لیکن بالجملہ بالکل بھی نہیں’’
تبھی تو مختلف کتب تاریخ میں اختلاف ہوتا ہے کہ جو بات جس کو جس انداز سے پہنچی ہے وہ اس نے نقل کیا ہے یا جو جس مسلک سے تعلق رکھتا تھا اس نے صرف وہی بات نقل کی ہے جو اس کے مسلک کی مؤید ہے۔تو ایسے تضاد میں پھر قرآن وسنت کے أساسی تصورات کو رجوع کیا جاتا ہے الا آنکہ مذکورہ تاریخی بات میں کوئی تاویل کی جاسکتی ہو جس سے وہ تضاد رفع ہو جو اس دوسرے تاریخ سے ہے یا قرآن وسنت سے ہے۔
سو اس ساری گزری مدت میں امت کے جمہور کا اتفاق رہا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور شہادت عظمیٰ کے مقام پر فائز ہوئے اور امر ہوگئے۔اب یہ بات کہ یزید نے اسے نہیں مارا تھا نہ اس کے قتل کا حکم دیا تھاصحیح ہوگا لیکن کیا جنہوں نے قتل کیا تھا ان سے اس نے کوئی باز پرس کی تھی یاکوئی سزا دی تھی یا تحقیق کی تھی کہ کون اس عظیم سانحے کا ذمہ دار تھا؟ کیونکہ حکمران جو بھی ہو اور جیسا بھی آیا ہو مملکت کے امن وامان اور عدل وانصاف کا وہی ضامن اور مسٔوول ہوتا ہے اور جس کسی نے ظلم وزیادتی کی ہو تو اس کی باز پرس اور سزا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ایک بات پر صرف یہ کہنا کہ فلاں نے صحیح نہیں کیا یا غلط کیا ہے اس سے اس کا ذمہ فارغ تو نہیں ہوتا۔
لیکن بہر تقدیر آج چودہ سو سال بعد ان موضوعات پر بحث ومناظرات کرنا کون سا قابل تعریف کام ہے ۔یہ ویسا ہے جیسا کہ آج کچھ بزعم خویش نقاد احادیث پر رائے زنی کرتے ہیں تو ہم نے کہا کہ کیا وہ ایسا کرتے وقت نقادِسلف سے نقل کرتے ہیں ۔تواگر ایسا ہے تو پھر تو یہ نقاد نہیں ہوا یہ تو ناقل ہوااور یہ نقد یا جرح وتعدیل ان اسلاف کو منسوب ہو۔اور اگر یہ خود سے ایسا کرتا ہے تو کیا اس حدیث پر سلف میں سے کسی نے کوئی بات نہیں کی اور اگر نہیں بھی کی ہو تو یہ تو ان کے وضع کردہ معیار پر اسے جانچے گا تو پھر بھی تعدیل تو سلف کی طرف سے ہوئی۔یہ ایسا ہے جیسا کہ امام حاکمؒ نے احادیث علی شرط الشیخین روایت کی ہیں جو انہوں نے نہیں نقل کی تھیں اور اگر یہ از خود ایسا نقد وجرح کرتے ہیں نہ اسلاف سے نقل کرتے ہیں اور نہ ان کے معیار کو معیار سمجھتے ہیں تو پھر اس کے یہاں معیار کیا ہے ؟تو اس نے اگر کوئی اپنا ایسا معیار بنایا ہے جو سلف کے معیار کے خلاف ہے تو اس کا تو کوئی اعتبار نہیں اور اگر یہ کہتا ہے کہ میں نے بغیر اس کے یہ نقد وجرح کیا ہے تو اس کی بنیاد کیا ہے؟ تو وحی کا تو تصور نہیں اور الہام شرعاً حجت نہیں۔
بہر تقدیر توکہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر بندے کو بڑا بننے کی بیماری ہے جس کے أساس پر ظاہری احترام بھی مل جاتا ہے اور ساتھ ساتھ پھر مال بھی ملتا رہتا ہے اور یہی حرص منصب ومال انسانیت کی تباہی ہے ۔اس کی برائی لوگوں کے ذہن میں اہل مذہب ڈال سکتے تھے تاکہ عام لوگوں کی ذہن سازی ہوتی ۔اب چونکہ مذہبی طبقہ خود مختلف حوالوں سے اس دھندے میں لگا ہوا ہے تو دیگران کی اصلاح کون کرے اور یوں چھیر پھاڑ کا ایک بازار گرم ہے۔
میڈیکل کا میدان دیکھے کہ سارے تو نہیں لیکن ڈاکٹرز کی اکثریت اور خصوصاً وہاں جہاں حکومتوں کی بھی گرفت نہیں کہ وہ بھی دھندے ہی کررہی ہے تو ڈاکٹرز بھی انسانی زندگیوں کے أساس پر لوٹ مار کا بازار گرم کرچکے ہیں ،انجینئرز اور دوسرے طبقات کا بھی یہی شیوہ ہے ۔تو بندہ سوچتا ہے کہ خداوندا!مسلمان تو درکنار انسان کہاں ڈھونڈا جائے؟تاجر اور دوکاندار کو لیا جائے تو دونمبری ،ملاوٹ اور دھوکہ دہی میں ایکسپرٹ ہیں۔حکومتی کارندے بدعنوانی ،رشوت ستانی اور کام چوری کے چمپئین ہیں حتی کہ مزدور کا بھی بس چلے تو کام چوری ہی کرے اور تو اور مذہبی طبقات جیسے مدرسے کے ذمہ دارحتی کہ مدرسین بھی ۔ذمہ دار لوگوں کی امانات کو ماں کی دودھ کی طرح حلال گردانتے ہیں اور مدرسین بھی بس گھنٹہ پورا کرتے ہیں ۔خانقاہ میں بیٹھے ہوئے مرشدین کا ایک عجیب وغریب کاروبار ہے لوگوں کو بصورتے یا بدیگر مسمرائزکیا بے وقوف بنائے ہوئے ہیں ،خطباء بیانات کا معاوضہ ہزاروں بلکہ لاکھوں میں طے کرتے ہیں اور رعب جمانے اور اہمیت جتانے کے لئے تین چار بندوق برداروں کو ساتھ لیے پھرتے ہیں جو ان کا بیان کرتے وقت دائیں بائیں اور پیچھے پوزیشن لیے کھڑے رہتے ہیں جیساکہ یہ بندہ اب بیت المقدس فتح کرنے جارہا ہے یا کشمیر فتح کرکے ابھی ابھی تشریف لائے ہیں۔سارے طبقات میں کچھ نیک اور خدا ترس لوگ بھی ہیں لیکن شرح اور تناسب کتا ہے
‘‘ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے’’
یہاں تو تالاب میں اکثریت گندی مچھلیوں کی ہے جن میں صاف مچھلی اپنا منہ دیکھتی رہی جاتی ہے کہ کیا کرے اور کہاں جائے؟
اور پھر کسی مولوی یا پیرصاحب کا کوئی مقام بن چکا ہوتو وہ اگر خود نہیں تو اس کے بچے اس کو روزانہ فروخت کرتے رہتے ہیں کہ حضرت صاحب کے خرچے بہت ہیں ۔ویسے بھی بزرگوں کی خاطر مدارات باعث ثواب ہیں مولوی اور پیر حتی کہ دیگران کے بھی جو مسلمانوں میں کم از کم ان ریشہ دوانیوں کی وجہ سے معاشرہ کی تو جو حالت بن رہی ہوتی ہے وہ تو ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ساتھ خدا کا قانون مکافاۃ بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی ہے تو ایسے لوگوں کو یا رسوا کرجاتی ہے اولاد کے ذریعے یا ان کی جوان اولاد کو نشئی یا بدمعاش وبدکردار بنا کر یا پھر حادثاتی موت دے کر یا پھر ان کو معذور کرکے ان کو ایسا درد دیتی ہے کہ اللہ کی پناہ!اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے آمین۔اور مہتمم اور پیر کے مرنے کے بعد بھی مکافاۃ کا یہ سلسلہ یوں جاری رہتا ہے کہ پسماندگان یعنی بیٹے بھتیجے وغیرہ آپس میں رقابتوں دشمنیوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف رہتے ہیں اور بسااوقات یہ ہوجاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قتل بھی کردیتے ہیں کہ محرمات اور وہ بھی خدا اور رسولﷺ اور دین کا نام استعمال کرکرکے کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے۔لیکن جس پر آئے وہ تو ماضی بن جاتا ہے کوئی اور اس سے عبرت نہیں پکڑتا
ان فی ذالک لذکری لمن کان لہ قلب او القی السمع وہو شہید
اس کے لئے دل فہم اور ساتھ ساتھ توجہ سے سننا اور غور وخوض کرنا لازمی ہے۔
وان کثیرا من الناس عن آیاتنا لغافلون
اور لوگوں کی اکثریت آیات خداوندی کو اہمیت ہی نہیں دیتے۔
مرنے سے پہلے ہر وقت وقت ہے کہ بندہ سدھر جائے لیکن عیش کوشی نے جو قلب ودماغ اور آنکھوں پر پردہ ڈالا ہو تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟ایسے میں تو بندہ یہی سوچتا اور کہتا کہ
؎ بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
اب سدھرنے کا یہ وقت کون سا ہے؟
یہ مرنے سے پہلے والی ساعت ہے اگر بندے کو مرنے کا وقت معلوم ہولیکن وہ تو معلوم نہیں ہوتا تو اس کا معنی ہے کہ جو حاضر وقت ہے یہی ہے۔رسول پاکﷺ نے فرمایا
‘‘دنیا تین دن کی ہے ایک کل کا دن تو وہ تو گزر گیا اور تمہارے ہاتھ(اختیار)میں تو اس میں سے کچھ بھی نہیں رہا ۔ایک آنے والا کل ہے جس کے متعلق تو تمہیں معلوم ہی نہیں کہ اسے پاؤگے بھی یا نہیں اور ایک آج کا دن ہے تو اس کو غنیمت سمجھو۔
اور آج کے دن میں اپنا آخری وقت تو کسی کو بھی معلوم نہیں تو بات پھر وہی کہ اب اور اسی وقت سدھر جاؤ ورنہ دیر ہوجائے گی ۔
فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصالحین
کہ تصدیق بھی کروں اور صالحین میں سے بھی ہوجاؤں لیکن
ولن یؤخراللہ نفسا اذاجاء اجلہا
وقت مقرر کو پھر مؤخر تو نہیں کیا جاسکتا۔
اور یہ جو ہم میں سے ہر طبقے نے طوفان بدتمیزی برپا کررکھا ہے یہ تو پیچھا نہیں چھوڑے گا
ووجدوا ما عملوا حاضراولا یظلم ربک احدا
اور
ثم توفی کل نفس ما کسبت وہم لا یظلمون
تو ہے کوئی کہ سوچے کہ ہم کہاں جارہے ہیں اور اوروں کو کہاں لے جارہے ہیں؟کہ سوشل میڈیا پر جو خرافات ،بکواسات ،فحاشی اور عریانی وگالم گلوچ کا بازار بھی ساتھ ساتھ گرم ہے اور یہ سب کچھ ایک ہی کلک پر گھر بیٹھے ہر کس وناکس کو مہیا ہے تو ہے نا سوچنے کا مقام۔اس طوفان بدتمیزی میں کوئی باپ یا بزرگ بھی تو ٹین ایجر یا نوجوان کا ذہن کیسے بنائے تاکہ وہ انسان رہے۔
اب مذہبی طبقات پر جب مادیات اور دنیا داری کا غلبہ ہو تو وہ پھر دین کے صحیح رخ اور روح کو نہ اپناتے ہیں اورنہ اسے بیان کرتے ہیں ۔وہ رسمیات پر چلے جاتے ہیں اصول سے لاتعلق ہوکر فروع کو اصول کی جگہ کھڑا کردیتے ہیں اور رسوم کو دین کی روح کا متبادل بنادیتے ہیں تو پھر دوسرے طبقات اور عامۃ المسلمین سے کیا توقع کی جاسکتی ہے سوائے اس کے کہ وہ رسمیات ہی کو دین سمجھ بیٹھیں گے اور یوں وہ بھی کھوکھلے اور یہ بھی کھوکھلے۔اور رسمیات تو ایک جیسے رہتے بھی نہیں وہ تووقت ،علاقہ اور حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ایک مدت گزر جائے تو پھر اصل دین پس منظر میں چلا جاتا ہے اور منظر پر رسوم کا غلبہ ہوجاتا ہے ۔پھر تو دن منائے جائیں گے ،فرائض وواجبات کی جگہ مستحبات کی اہمیت کیا بدعات کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے ،جلوس ہونگے ،جھنڈیاں ہونگی ،حلوے مانڈے ہونگے ،کیک کاٹے جائیں گے ۔یعنی بالکل وہی کام جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کرچکے ہیں کہ کرسمس منانا ہے ،لائٹس لگانے ہیں اور چراغاں کرنا ہے اور بس کام ہوگیا۔کیا اس طرح عیسائیت میں کوئی روح باقی رہی ہے؟کیا عیسائیوں کی چند رسومات کےعلاوہ بھی عیسیٰ علیہ السلام اور تعلیمات عیسی علیہ السلام کا کوئی پتہ ہے؟
اصل بات یہ ہے کہ مسلمان تو ہم ہیں الحمد للہ۔اور اسلام ہمارا عقیدہ ہے اب اس عقیدے اور اس دین کے تقاضے ہیں کہ انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی جس میں معاشرت معیشت ،سیاست ،ریاست ،حکومت اور نظام سب شامل ہیں وہ اس دین کے تقاضوں پر اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر استوار ہو چونکہ اس کے لئے تیار نہیں ہورہے اور دین سے وابستہ بھی رہنا چاہتے ہیں تو ان رسومات ،بدعات وغیرہ کا سہارا لیتے ہیں جس سے ہم اپنے کو خوش فہمی میں مبتلا کردیتے ہیں کہ دین کے تقاضے پورے ہوگئے ۔آئے دن رسمی کام کہ کانفرنس کرنا ہے ،سیمینار کرنا ہے ،اتھارٹی بنانی ہے وغیرہ وغیرہ۔ارے بھائی!دین وایمان اور کلمہ کے تقاضے یہ نہیں اس کے تقاضے ہیں دین کو دین ماننا اور اسے حاکم بنانا۔
فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم
اور نہیں !قسم ہے تمہارے رب کی کہ یہ مومن نہیں ہوسکتے مگر تب جب آپؐ کو حاکم بنادیں ان معاملات میں جو ان کے درمیان باعث نزاع ہوچکے ہیں۔
یعنی آپﷺ کے دین کو حکمرانی دیں آپ ﷺ کو حکمرانی دیں۔
خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں سے کام بنتے نہیں بلکہ بگڑتے ہیں۔تو ہم کب تک بگاڑ میں لگے رہیں گے کبھی بناؤ کی طرف بھی آئیں گے ؟دین کا اور رسالت کاتقاضا اور رسول پاکﷺ پر ایمان اور آپﷺ سےعقیدت ومحبت کے اظہار کا واجب تقاضا ہے
لیظہرہ علی الدین کلہ
کہ دین زندگی اور معاملات زندگی پر غالب آجائے یعنی حاکم بنے۔
اور یہود ونصاریٰ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا
ولوانہم اقامواالتوراۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربہم لاکلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم منہم امۃ مقتصدۃ وکثیر منہم ساء ما یعملون
اور اگر وہ تورات اور انجیل اور وہ (شریعت)جو ان کے ہاں نازل کیا گیا تھا ان کے رب کی طرف سے کو قائم کرتے (حاکم بناتے)تو یقیناً وہ کھالیتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے ان میں سے ایک متوازن گروہ بھی ہے لیکن اکثر ان میں سے بہت برا ہے جو وہ کرتے رہتے ہیں۔
اور اس کے بعد رسول پاکﷺ سے فرمایا
یاایہاالرسول بلغ ما انزل الیک من ربک فان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یہدی القوم الکفرین
اے رسولؐ!پہنچاؤ وہ(سب کچھ)جو تمہیں نازل کیا گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے اور اگر آپؐ نے یہ نہ کیا تو آپؐ نے رسالت ہی نہیں پہنچائی اور اللہ بچائے گا آپؐ کو لوگوں سے یقیناً اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا کافروں کو۔
اب سارےدین کا ابلاغ حکم ہے اور دین نظام ہے اور ابلاغ کا حاصل یہی ہے کہ اس پر عمل بھی ہو۔اس کی مزاحمت ومخالفت تو ہوگی تو آپﷺ سے کہاگیا کہ اللہ آپﷺ کو بچائے گا۔
اب یہ سب کچھ جو ہم کررہے ہیں کچھ تو نری بے دینی ہے اور کچھ دین کے نام پر بے دینی ہے ۔تو پتہ نہیں ہم کہاں جارہے ہیں اور امت کو کہاں لے جارہے ہیں حالانکہ یہ تو خیر امۃ ہے
کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر
معروف کا حکم اور منکر سے منع ۔
اور معروف ومنکر زندگی کے ہر میدان میں ہوتے ہیں۔
تو کیا ہم اپنی ذمہ داریاں نباہ رہے ہیں؟
پھر یہ جلسے جلوس وغیرہ جس میں کہتے ہیں دیگر مذاہب کے حامل بھی عقیدت کے اظہار کے لئے موجود تھے۔ہمیشہ سے سازش یہ رہی ہے کہ ادیان کے درمیان تفاضل کا تصور کیسے ختم کیا جائے؟ایسے کہ لوگوں کے ذہن میں بٹھایا جائے کہ سارے ادیان حق ہیں۔اگر ایسا ہے تو پھر یہ مختلف ادیان کیوں ہیں اور ہر دین کا حامل اپنے ہی دین سے کیوں چمٹا ہے؟
اس قسم کے رسمیات کو اہمیت دے کے اور اصل دین کو بالائے طاق رکھ کر ہم اس دین کی روح کو ختم کرنے کی سعی نامشکورکررہے ہیں ولا فعلہا اللہ آمین۔
شیعہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ محرم میں ماتم حسین کرو تو جنت واجب ہے۔اب یہ لوگ کہیں گے کہ ربیع الاول میں جلوس نکالوتو جنت واجب ہوگئی۔جبکہ اللہ اور رسول ﷺ نے تو جنت کے لئے پورے اسلام کو بطور دین ونظام اپنانے کا فرمایا ہے تو ہم کہا جارہے ہیں فاین تذہبون
اور اب کے تو شیعہ کی طرح ماڈلز کا سلسلہ چل پڑا۔بیت اللہ شریف کا ماڈل اور مسجد نبوی کا ماڈل ۔جو بظاہر تو عقیدت معلوم ہوتا ہے لیکن اس طرح چلا پھرا کے اس کے تقدس پر زد پڑتی ہے ،عقیدت میں فرق آتا ہے ۔آج سے کئی سال پہلے یہاں امریکہ میں ایک جوڑے نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ ہم حج پر نہیں جاسکتے بساط نہیں تو کیا یہاں ایک بیت اللہ کا ماڈل بناکر یہ رسم نہیں کرسکتے؟میں نے کہا انا للہ وانا الیہ رجعون۔یہ اس لئے کہ اس انداز سے رسمیات کو دین کا نام دے کر یہی کچھ نکل آتا ہے ۔اللہ اپنے دین کو محفوظ کرےآمین۔
829 total views, no views today



